بدھ 1 اپریل 2026 - 13:33
یتیمی کا پہلا مہینہ؛ ایک عہد کی خاموش جدائی

حوزہ/آج اس جانسوز سانحے کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے، مگر اسلامِ ناب کے راہرو اب بھی اپنے آپ کو ایک عجیب سی یتیمی کی کیفیت میں محسوس کر رہے ہیں۔ دلوں پر ایک بوجھ سا ہے، ایک ایسا خلا جو کسی طور پُر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہر حساس دل سے بے اختیار یہی آہ نکلتی ہے کہ کاش سید علی خامنہ ای شہید آج بھی ہمارے درمیان موجود ہوتے اور اگر رخصت ہونا ہی مقدر تھا تو کاش ہم اُن سے پہلے اس دنیا سے چلے جاتے۔

تحریر: صادق الوعد، قم ایران

حوزہ نیوز ایجنسی| آج اس جانسوز سانحے کو تقریباً ایک مہینہ گزر چکا ہے، مگر اسلامِ ناب کے راہرو اب بھی اپنے آپ کو ایک عجیب سی یتیمی کی کیفیت میں محسوس کر رہے ہیں۔ دلوں پر ایک بوجھ سا ہے، ایک ایسا خلا جو کسی طور پُر ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہر حساس دل سے بے اختیار یہی آہ نکلتی ہے کہ کاش سید علی خامنہ ای شہید آج بھی ہمارے درمیان موجود ہوتے اور اگر رخصت ہونا ہی مقدر تھا تو کاش ہم اُن سے پہلے اس دنیا سے چلے جاتے۔

یہ غم محض ایک شخصیت کے رخصت ہونے کا غم نہیں، بلکہ ایک عہد کے اختتام کا احساس ہے۔ تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف منصب یا مقام تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر، ایک مکتب اور ایک روحانی تسلسل کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ سید علی خامنہ ای شہید بھی انہی نادر شخصیات میں سے تھے جن کی موجودگی خود ایک عہد کی علامت تھی۔

گرچہ ہم انبیائے کرام علیہم السلام، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کی سیرتِ طیبہ اور طرزِ زندگی کو درک نہیں کرسکے ، لیکن آج کے دور میں اگر کسی شخصیت کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی سیرت اور اس کا طرزِ زندگی اُن مقدس ہستیوں کے نقشِ قدم کا پرتو ہے تو وہ بلا شبہ امام خامنہ ای شہید کی ذات تھی۔ ان کی سیاست میں عدل و انصاف نمایاں تھا، گفتگو میں حکمت کے انمول موتی بکھرے ہوتے، ہر ایک کے لیے وسعتِ قلبی، شفقت اور بے پایاں رحمت کا دریا موجزن رہتا، اور انسانیت کی سعادت کے لیے وہ ہر دم کوشاں اور فکر مند دکھائی دیتے تھے۔

وہ اس نظریے پر ثابت قدم رہے کہ ”ایران رہے یا نہ رہے، اسلام باقی رہے“۔ یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی فلسفہ تھا جسے انہوں نے اپنی پوری زندگی میں نافذ کر کے دکھایا۔ اسی طرح ”ما می‌توانیم“ کے نظریے کو بھی انہوں نے صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھا؛ بلکہ عملی میدان میں اس طرح مجسم کیا کہ ناممکن کو ممکن بنانے کی امید ایک زندہ حقیقت بن گئی۔

جس کسی کو دین کے علوم، سیاست، اخلاقیات، قرآنی معارف یا شعر و ادب سے ذرا سی بھی دلچسپی رہی ہو، اس کے لیے تقریباً ناممکن تھا کہ وہ اس شخصیت سے متاثر نہ ہو۔ جو شخص ایک بار ان کی مجلس میں بیٹھتا، ان کی گفتگو سنتا یا ان کی نگاہ کی تاثیر کو محسوس کرتا، وہ دیر تک اس اثر سے باہر نہیں آ پاتا تھا۔ درحقیقت ان کی عظمت کو وہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جنہیں ان کی قربت میں بیٹھنے اور ان کے حضور سے فیض پانے کا موقع ملا۔

ان کی شخصیت میں ایک عجیب مقناطیسی کشش تھی۔ دل بے اختیار ان کی طرف کھنچتے چلے جاتے تھے۔ اگر اس دور میں کسی کو حقیقی معنوں میں مردِ میدان کہا جا سکتا تھا تو وہ بلا شبہ سید علی خامنہ ای شہید تھے۔ عمر کے پچاسی برس گزر جانے کے باوجود ان کے قدموں میں ایک عجیب وقار اور جلال نظر آتا تھا۔ لباس میں سادگی مگر شخصیت میں غیر معمولی رعب، اور انداز میں ایسی خود اعتمادی جو گہرے ایمان اور خدا سے مضبوط تعلق کی غماز تھی۔

ان کی آواز بھی ایک منفرد تاثیر رکھتی تھی۔ دشمن کے لیے وہ آواز ہیبت اور خوف کا پیغام تھی، جبکہ اہلِ ایمان کے لیے وہی آواز سکون، حوصلہ اور اطمینان کا سرچشمہ بن جاتی تھی۔ جب وہ کسی موضوع پر گفتگو فرماتے تو یوں محسوس ہوتا کہ گویا اسی میدان کے سالار ہوں۔ تاریخ، سیاست، ثقافت اور معاصر عالمی حالات پر ان کی گرفت حیران کن تھی۔ علم کی وسعت اور بیان کی قوت نے ان کے کلام کو بیک وقت درس بھی بنا دیا تھا اور روح کے لیے مرہم بھی۔

وقت کی قدر ان کی زندگی کا ایک نمایاں وصف تھی۔ وہ خود ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ انہوں نے مختلف سفر کے دوران گاڑی میں بیٹھے بیٹھے قرآنِ مجید کے بیس پارے حفظ کیے۔ یہ بات محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ان کی منظم زندگی، مسلسل محنت اور علم و عبادت سے گہرے تعلق کی واضح دلیل ہے۔

اس عبد حقیر کے لیے زندگی کی بڑی سعادتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کئی مرتبہ ان کی عمومی محفل میں حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک مرتبہ قم المقدس کے سفر کے دوران ان کی گاڑی بالکل قریب سے گزری اور سامنے والے شیشے کے پار سے زیارت کا موقع ملا۔ وہ چند لمحے آج بھی حافظے میں ایک روشن تصویر کی طرح محفوظ ہیں۔

بلکہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے دیدار کے شوق میں بے اختیار آگے بڑھا اور دیوانہ وار ان کی گاڑی کے قریب جا پہنچا۔ اسی اضطراب اور شوق کے عالم میں جب گاڑی سے لپٹنے ہی لگا تھا تو میرا ایک پاؤں ان کی گاڑی کے ٹائر کے نیچے آ گیا۔ اس چوٹ کو ٹھیک ہونے میں کئی ہفتے لگ گئے، مگر اس لمحے عجیب کیفیت تھی کہ درد کے بجائے دل میں ایک انوکھی سی لذت اور سکون محسوس ہو رہا تھا- گویا اس تکلیف کی کوئی حیثیت ہی نہ رہی ہو، کیونکہ مرشد کے دیدار کی آرزو پوری ہو چکی تھی۔

ان کی محفل میں بیٹھ کر انسان یوں محو ہو جاتا تھا کہ الفاظ صرف سماعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل میں اترتے چلے جاتے تھے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ مجلس کے نکات اور تفصیلات بعد میں اخبارات یا ذرائع ابلاغ کے ذریعے پوری طرح سمجھ میں آئیں، کیونکہ اس لمحے انسان ان کے انداز اور شخصیت کے رعب میں گم ہو جاتا تھا۔

ان کے چہرے پر عجیب نورانی وقار، گہرا سکون اور ایک محجوب سی مسکراہٹ تھی جو دل کو اندر تک چھو لیتی تھی۔ آج ایک مہینہ گزر جانے کے بعد بھی یہ احساس باقی ہے کہ یہ جدائی کسی معمولی تبدیلی کا نام نہیں۔ اسلامِ ناب کے پیروکار اپنے آپ کو یتیم اس لیے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سر سے ایک ایسا سایہ اٹھ گیا جو صرف رہبر نہیں بلکہ باپ، معلم اور مرشد کی حیثیت رکھتا تھا۔

مگر تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ خدا کے لیے جیتے اور خدا کے لیے ہی اپنی جان پیش کرتے ہیں وہ حقیقت میں کبھی نہیں مرتے۔ ان کا جسم تو رخصت ہو جاتا ہے، مگر ان کا فکر، ان کی سیرت، ان کی جدوجہد اور ان کی دکھائی ہوئی راہ نسلوں کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے۔

شاید اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ اس یتیمی کے درد کو محض نوحہ نہ بننے دیں بلکہ اسے احساسِ ذمہ داری میں تبدیل کریں۔ آنکھ کے آنسو کو عمل کے عزم میں ڈھال دیں اور اس عظیم رہبر کی یاد کو ایک نئے سفر، نئی استقامت اور نئے عہد کی بنیاد بنا دیں۔

میفاخ؛ میراث فکری و تمدنی امام خامنہ ای شہید

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha