تحریر: مولانا صادقُ الوعد
حوزہ نیوز ایجنسی| یہ معمولی سوال نہیں کہ مکتب اہلِ بیت علیہم السّلام سے تعلق رکھنے والا ایک فقیہ، ایک مرجع، ایک قائد، اہل سنت کے باشعور طبقے کے دلوں میں اتنی جگہ کیسے بنا لیتا ہے کہ وہ اسے صرف شیعہ رہبر نہیں، بلکہ امت کا قائد کہنے لگتے ہیں؟
یہاں نہ کسی مسلکی میڈیا کی ہمہ جہتی مہم تھی، نہ جذباتی نعرہ بازی۔ یہ محبت وہاں پیدا ہوئی جہاں دل کردار کے ترازو سے تولتے ہیں، صرف نعروں سے نہیں۔
تاریخ کی سچائی یہ ہے کہ امیر المؤمنین ع کا زمانہ بھی جہاں عدل علوی کے خلاف علم بغاوت اٹھایا مسئلہ مسلک کا نہیں تھا، مفاد کا تھا۔ سلطنت وسیع، فتوحات روشن، لیکن اندر سے بدن امت کو نفاق نے چاٹ رکھا تھا۔
کسی کے دل میں فتح مکہ کی ہزیمت کا زخم تھا، کسی کے سینے میں پرانے اقتدار کی حسرت، کسی کے ہاتھ میں تسبیح تھی اور دل میں تخت کی طلب۔ خوارج نماز میں پگھلتے تھے، مگر فیصلے تلوار سے کرتے تھے۔
نتیجہ؟
تین جنگیں، بے شمار شہادتیں، اور امت کا مستقبل اندرونی کشمکش کی نذر۔
آج بھی منظر بدل نہیں سکا، بس ناموں کے ہجے بدل گئے ہیں۔
کسی طرف عقل سیاسی کے نام پر ظالم سے مفاہمت ہے، تو دوسری طرف دین کے نام پر ایسی شدت پسندی کہ دشمن کا کام آسان ہو جائے۔
ایسے میں اگر کوئی رہبر عدل کی لکیر کھینچ کر کھڑا ہو جائے، قرآن کو دستاویز اقتدار نہیں، معیار حق بنا لے، اور امت کے زخموں کو اپنی رگ جاں سے جوڑ لے، تو وہ فطری طور پر ہر دو انتہاؤں کی زد پر آتا ہے، لیکن عوام اور پاک فطرت انسانوں کے دلوں میں اس کی جگہ بڑھتی جاتی ہے۔امامِ امت شہید سید علی خامنهای کے ساتھ بھی یہی ہوا۔
اول: احترامِ مقدسات—نفرت کے دروازے پر لگایا گیا قفل
فرقہ واریت کا پہلا ہتھیار ہمیشہ گالی ہوتی ہے؛ گالی زبان سے نکلتی ہے، مگر دلوں پر چلتی ہے۔ امام امت شہید نے جب دوٹوک کہا کہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین شرعا حرام ہے، تو دراصل انہوں نے اس خنجر کو ہی کند کر دیا جس سے امت کا سینہ چاک کیا جاتا تھا۔
یہ صرف ایک فقہی فتوٰی نہیں تھا، یہ اعلان تھا کہ جو تمہارے مقدسات کو گالی دیتا ہے، وہ میرا ساتھی نہیں ہو سکتا، چاہے میرے مسلک سے وابستہ ہی کیوں نہ ہو۔
یہاں اہل سنت کے علماء نے پہلی بار دیکھا کہ کوئی شیعہ مرجع اُن کے مقدسات کا دفاع اس جرات سے کر رہا ہے جو کبھی بہت سے اپنوں میں بھی نظر نہیں آئی۔
دوم: فلسطین—وہ زخم جو مسلک نہیں پوچھتا
القدس پر جب سودے بازی ہوتی ہے تو وہ صرف مٹی کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، یہ امت کے ضمیر کا سودا ہوتا ہے۔ امام امت شہید نے فلسطین کو سیاسی کارڈ” بننے نہیں دیا۔ انہوں نے فرمایا: قدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے، اُس پر خاموشی خدا پر ایمان کو سیاسی مصلحت کے نیچے دفنانا ہے۔ جب بہت سے مسلم حکمران حقیقت پسندی کے نام پر غاصب کے سامنے دست بستہ کھڑے تھے، یہ رہبر بے بدہل اسی غاصب کے خلاف یوم القدس کا اعلان کر کے امت کو یاد دلا رہا تھا کہ تمہارا دل ابھی مرا نہیں۔ یہ وہ لحظہ تھا جس میں اہل سنت کے بڑے بڑے دلوں نے مان لیا کہ یہ شخص شیعہ لیڈر سے آگے بڑھ کر قدس کا مجاہد ہے؛ اور قدس کے مجاہد کی امت میں کوئی مسلکی سرحد نہیں ہوتی۔
سوم: وحدتِ مسلمین—تقریر سے نکل کر میزِ عمل تک
وحدت کا لفظ اب اتنا استعمال ہو چکا کہ کانوں نے اس سے محبت کھو دی ہے۔ سب کہہ دیتے ہیں وحدت، وحدت، مگر عملی میدان میں—
یا تو دیوار اونچی ہو جاتی ہے یا دروازہ مزید تنگ۔
امام امت شہید کا فرق یہ تھا کہ وہ وحدت کو تقریروں کا مٹھاس بھرے لفظ نہیں، ایک سخت اور مسلسل جدوجہد سمجھتے تھے۔
وحدت کانفرنسیں، مختلف مسالک کے علما کو ایک سو موضع کی میز پر بٹھانا، بنیادی اختلاف کے باوجود باوقار مکالمہ، اور ہفتۂ وحدت جیسے اجتماعی شعائر۔
یہ سب اعلان تھا کہ اختلاف تمہارا حق ہے، مگر نفرت میرا راستہ نہیں۔ یہی وہ انداز ہے جو رہبر کو مسلک کے خانے سے نکال کر امت کے فیصلوں میں مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
چہارم: قرآن—خطبات نہیں، فیصلوں کا معیار
ہر دور میں کچھ لوگ قرآن کو دیواروں پر سجا دیتے ہیں، تقریروں میں پڑھتے ہیں، مقابلوں میں تلاوت کرتے ہیں، اور فیصلے کہیں اور سے لیتے ہیں۔ امام امت شہید کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ قرآن کو واقعی حَکم بنانا چاہتے تھے:
عالمی قرآنی مسابقات، قرّاء و حفّاظ کی حوصلہ افزائی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب سیاسی، فوجی اور تہذیبی معاملات پر بات کرتے، تو استدلال کا مرکز آیات قرآنی ہوتیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن والے دل فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ الفاظ نہیں، یقین بول رہا ہے۔
اہل سنت کے بہت سے قرّاء، حفاظ اور علماء نے اسی لیے انہیں خادمِ قرآن کہہ کر یاد کیا، نہ کہ صرف رہبرِ ایران۔
یوں سید علی خامنهای شہید کی قیادت اس دور میں مکتب علوی کی ایک زندہ شبیہ بن کر سامنے آئی:
عدل پر اصرار،
مظلوم کے ساتھ کھڑے رہنا،
ظالم سے مصافحہ نہ کرنا،
اور امت کو فرقوں کے خانوں سے نکال کر ایک صف میں کھڑا دیکھنے کی ضد۔
گرچہ یہ استقامت اور ویادت مہنگی پڑتی ہے؛
تاریخ گواہ ہے کہ علی ع کے چاہنے والوں کو کبھی سستے داموں نہیں خریدا جا سکا، انہیں ہمیشہ خون سے خاموش کرایا گیا ہے۔
اب سوال امت کے سامنے ہے، کوئی اور جواب نہیں دے سکتا:
کیا ہم پہچانتے ہیں کہ کون سی آواز ہمیں جوڑ رہی ہے اور کون سا شور ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے؟
کیا ہمیں فرق نظر آتا ہے اس رہبر میں جو تمہارے مقدسات کی حرمت کی قسم کھاتا ہے اور اس واعظ میں جو تمہاری غیرت کو دوسروں کی توہین سے گرم رکھنا چاہتا ہے؟
کیا ہم جانتے ہیں کہ کون قدس کو مسئلہ ضمیر کہتا ہے، اور کون اسے معاہدے کی شق بنا کر دستخط کے نیچے دبا دیتا ہے؟
فتنے ختم نہیں ہوں گے؛
چہرے بدلتے رہیں گے، الفاظ سجتے رہیں گے، نعرے نئے آتے رہیں گے۔
لیکن جس رہبر کے ہاتھ میں قرآن کا پرچم، سینے میں عدل کی آگ، اور دل میں امت کے لیے یگانگی کا درد ہو،
وہ بالآخر دلوں کی سلطنت فتح کر لیتا ہے، چاہے اس کے جسم پر دشمن کی گولیوں کے نشان ہی کیوں نہ ہوں۔









آپ کا تبصرہ