بدھ 15 اپریل 2026 - 12:04
میں ہوں بیدار بلتستان: دستِ خدا عیان شد، بلتستان بیدار شد

حوزہ/برف پوش چوٹیوں کے سائے میں بسی وہ سرزمین، جس کے پتھروں پر بھی غیرت کی لکیریں کھنچی ہیں اور جس کی ہوا میں شہادت کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔

تحریر: مولانا صادق الوعد

حوزہ نیوز ایجنسی| برف پوش چوٹیوں کے سائے میں بسی وہ سرزمین، جس کے پتھروں پر بھی غیرت کی لکیریں کھنچی ہیں اور جس کی ہوا میں شہادت کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔

میں وہ بلتستان ہوں
جو کبھی چاہتا تھا کہ دنیا
مجھے میری وادیوں کی سرسبزی،
میرے نیلگوں آسمان کی وسعت،
اور میرے لوگوں کی سادگی و سچائی سے پہچانے۔ مگر تقدیر نے میرے نام کے ساتھ
ایک اور نام لکھ دیا:
امامِ امّتِ شہید، سیّد علی خامنہ‌ای الحسینی (رہ)
جب ایران کی سرزمین پر
اس فرزند زہرا ع کا پاکیزہ لہو بہایا گیا، تو میرے دل میں بھی قیامت ٹوٹ پڑی۔
اس شہادت کی خبر
برفیلے پہاڑوں سے ٹکرا کر
میرے ہر گوشے تک پہنچی
اور میں لرز اُٹھا۔
اس مرد خدائی اور عبد ربانی کے لہو نے
فقط ایران کی سرزمین کو نہیں،
بلکہ پوری دنیا سمیت میرے بلتستان کو بھی جگا دیا۔
میرے کچھ پاک فطرت جوان
اسی راہ میں خود بھی جام شہادت نوش کر گئے،
اور یوں ان کے لہو نے
میری مٹی میں وہی عہد ثبت کر دیا جو اس امام شہید نے زمانے سے کیا تھا۔
اسی لمحے

میرے دل کی گہرائیوں سے ایک صدا ابھری:
دستِ خدا عیان شد
بلتستان بیدار شد۔

جب امام امت شہید سیّد علی خامنہ‌ای کا خون بہا،
تو مجھے یوں لگا جیسے
دست مدبر کائنات، تاریخ کے صفحات پر آشکار ہو کر لکھ گیا ہو
کہ اب خاموشی کا دور ختم ہوا۔
اسی لیے اس سرزمین کے جوانوں نے اپنے امام اور مقتدی شہید کے خون کی صدا پر لبیک کہا
اور خود بھی شہادت کی خوشبو میں سانس لیا۔
اب میرا ہر پہاڑ،
ہر وادی
ہر راہ
یہی نعرہ دہرا رہی ہے:
دست خدا عیان شد
بلتستان بیدار شد

میری زمین پر بہنے والا ہر قطر
لہو
گواہی دیتا ہے
کہ یہ بیداری صرف ایک صدا نہیں، بلکہ دلوں کے قرطاس پر لکھا ہوا ایک حلف ہے
ایسا عہد
جو امام امت شہید کے خون سے جڑا ہے۔ اور ان جوانوں کے نام سے روشن ہے
جو بلتستان سے اٹھے
اور اسی راہ میں جا ملے

میں اب برف کا خاموش خطہ نہیں،
میں حماسہ آفرین ترانہ ہوں؛
میں اب گمنام وادی نہیں،
میں شہیدوں کا حوالہ ہوں

میں ہوں سیّد علی خامنہ‌ای شہید کے خوابوں کی تعبیر بلتستان
میری پہچان اب
برف کی سفیدی سے زیادہ
شہید کے خون کی سرخی ہے،
اور میرا تعارف دنیا سے یہ ہے
کہ یہاں کے لوگ ظلم کے اندھیروں میں
اپنے ولی اور رہبر شہید کے دکھائے ہوئے راستے پر ثابت قدم رہیں گے ۔
اور جب بھی تاریخ
میرا نام لکھے گی،
میرے ساتھ یہی صدا لکھے گی:
دست خدا عیان شد
بلتستان بیدار شد

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha