جمعرات 23 اپریل 2026 - 21:06
شہید امام خامنہ ای کے چہلم پر انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام ”تجلیلِ شہداء و تجدیدِ عہد“/بلتستان کا عظیم ترین تاریخی اجتماع

حوزہ/12 اپریل 2026ء، بروز اتوار، بَلتستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن بن کر طلوع ہوا۔ انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام میونسپل اسٹیڈیم سکردو میں منعقدہ عظیم الشان اجتماع ''تجلیلِ شہداء و تجدیدِ عہد'' نہ صرف ایک پروگرام تھا، بلکہ عقیدت و بیداری کا ایک درخشاں مظہر تھا۔

تحریر: آغا زمانی سکردو

حوزہ نیوز ایجنسی|

12 اپریل 2026ء، بروز اتوار، بَلتستان کی تاریخ کا ایک یادگار دن بن کر طلوع ہوا۔ انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام میونسپل اسٹیڈیم سکردو میں منعقدہ عظیم الشان اجتماع ''تجلیلِ شہداء و تجدیدِ عہد'' نہ صرف ایک پروگرام تھا، بلکہ عقیدت و بیداری کا ایک درخشاں مظہر تھا۔

صبح ساڑھے نو بجے سے سہ پہر تین بجے تک جاری رہنے والا یہ اجتماع اپنے حجم، نظم و ضبط اور عوامی شرکت کے اعتبار سے بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہوا۔ چہلمِ شہید رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای رضوان اللہ علیہ اور شہدائے راہِ رہبری کے موقع پر پورا بلتستان سکردو کی جانب رواں دواں تھا۔ گلیوں، محلوں، وادیوں اور پہاڑی راستوں سے گزرتے قافلے عشقِ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے والہانہ جذبے کے ساتھ سکردو پہنچ رہے تھے۔ ہر چہرہ عقیدت سے دمک رہا تھا اور ہر دل میں شہداء کی یاد تازہ تھی۔ ضلع کھرمنگ سے بزرگ و محترم عالمِ دین آغا سید علی موسوی (صدر انجمنِ امامیہ کھرمنگ) کی قیادت میں ایک عظیم الشان قافلہ سکردو پہنچا، جس کا جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ اسی طرح ضلع شگر سے آغا سید محمد عباس موسوی کی سربراہی میں ایک بڑی ریلی میونسپل اسٹیڈیم میں داخل ہوئی، جس نے فضا کو نعروں اور جذبات سے گرما دیا۔ ضلع گانچھے اور سیاچن کے دور افتادہ علاقوں سے مومنین کی ایک بڑی تعداد صبح تین بجے سفر کا آغاز کرکے طویل اور دشوار گزار راستوں کو عبور کرتی ہوئی دوپہر ایک بجے سکردو پہنچی۔ یہ شرکت عشق و وفا کی ایک عملی تفسیر تھی۔ میونسپل اسٹیڈیم میں تیار کیا گیا اسٹیج دیدہ زیب اور پرمعنی تھا۔ اسٹیج پر آویزاں شخصیات کی تصاویر محض تصویریں نہ تھیں بلکہ ایک مکمل تاریخ، ایک فکر اور ایک جدوجہد کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ، مفکرِ پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال(رح)، بانیٔ انقلاب اسلامی امام خمینی قدس سرۃ، شہید رہبر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ، موجودہ رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای حفظہ اللہ، شہدائے راہِ رہبری بلتستان، رونقِ بلتستان داعیٔ امن علامہ شیخ محمد حسن جعفری اور نڈر و بیباک رہنما آغا سید باقر الحسینی کی تصاویر نہ صرف اسٹیج کی زینت تھیں بلکہ ہر دیکھنے والے کے دل میں ان ہستیوں کی قربانیوں، افکار اور خدمات کی جھلک تازہ کر رہی تھیں۔ یہ منظر جذبات کو مہمیز دے رہا تھا اور حاضرین کے عزم و حوصلے کو نئی توانائی عطا کر رہا تھا۔

اجتماع کا باقاعدہ آغاز صبح ساڑھے نو بجے تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ یہ سعادت مدرسہ حفاظ القرآن کے حافظ سید سفیر حسین اور حافظ مجتبیٰ نے حاصل کی، جن کی پرسوز اور مترنم آواز نے فضا کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے قرآن کی صدائیں دلوں میں اتر رہی ہوں اور اجتماع کے مقصد کو ایک الٰہی رنگ عطا کر رہی ہوں۔ نظامت کے فرائض آغا سید قمر عباس حسینی اور شیخ زاہد حسین زاہدی نے نہایت وقار، سلیقے اور دلنشین انداز میں انجام دیے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی بھی تھی اور جوش بھی، جس نے اجتماع کی روانی کو برقرار رکھا اور سامعین کو مسلسل متوجہ رکھا۔ نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کرنے کی سعادت محمد حسن اولڈینگ نے حاصل کی۔ ان کی آواز میں عقیدت کی مٹھاس اور محبتِ رسول(ص) کی حرارت نمایاں تھی، جس نے حاضرین کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور فضا کو نورانیت سے بھر دیا۔ یہ اجتماع اپنے آغاز ہی سے اس بات کا اعلان کر رہا تھا کہ بلتستان کے عوام نہ صرف اپنے شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہیں بلکہ ان کے مشن سے تجدیدِ عہد کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

اجتماع اپنے عروج کی جانب بڑھ رہا تھا کہ مقررین کے پراثر خطابات نے فضا کو مزید بامقصد اور ولولہ انگیز بنا دیا۔ سب سے پہلے نائب امامِ جمعہ والجماعت سکردو علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے خطاب کرتے ہوئے نہایت رنج و الم کے ساتھ اس صدی کے عظیم رہبر، شہیدِ اسلام حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ، شہدائے راہِ رہبری کراچی، اسلام آباد، گلگت، بلتستان، شہدائے ایران اور بالخصوص غزہ و لبنان کے مظلوم شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ملتِ اسلامی ایران و پاکستان سمیت دنیا بھر کے آزادگانِ عالم کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت کو چالیس دن گزر چکے ہیں، مگر ایرانِ اسلامی کی استقامت، مزاحمت اور استقلال آج بھی اسی قوت اور شان کے ساتھ قائم ہے۔ یہ استقامت دراصل شہداء کے لہو کی مرہونِ منت ہے، جو ملتوں کو جھکنے نہیں دیتی۔
اس کے بعد صدر انجمنِ امامیہ گمبہ سکردو شیخ غلام حسین واعظی نے اپنے خطاب میں رہبرِ معظم کی حیات و جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر و استقامت میں اپنے جدِ امجد سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عملی تصویر تھے۔ ان کی شہادت نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ یہ قربانی کسی ایک مکتب یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ قبلۂ اول بیت المقدس کی آزادی اور مظلوم انسانیت کے دفاع کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم سانحے پر غمزدہ ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی عسکری و حکومتی قیادت کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے عالمی سطح پر، خصوصاً امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں کیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے سینئر اسکالر الواعظ کریم خان نے نہایت فکری اور روحانی انداز میں ''لبیک یا حسین'' کے نعرے کی گہرائی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ "لبیک یا حسین" اور "لبیک یا خامنہ ای" محض نعرے نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات اور عہدِ وفا کا اظہار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حسینیت ایک ازلی و ابدی پیغام ہے، اور جب تک یہ پیغام زندہ ہے، یزیدیت مختلف صورتوں میں سر اٹھاتی رہے گی۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ہر انسان کے باطن میں جاری ایک مسلسل معرکہ ہے۔ انہوں نے حاضرین کو جھنجھوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب ہم "لبیک یا حسین" کہتے ہیں تو کیا ہم صرف زبان سے کہتے ہیں یا اپنے دل و جان سے بھی اس عہد کو نبھاتے ہیں؟ کیا امام حسین علیہ السلام ہمارے ظاہری چہروں کو دیکھتے ہیں یا ہمارے باطن اور خلوص کو؟ اسی طرح جیسے ایک حاجی "اللہم لبیک" کہہ کر اپنے آپ کو مکمل طور پر بارگاہِ الٰہی میں حاضر کرتا ہے، ویسے ہی ہمیں بھی امام حسین علیہ السلام کے حضور اپنے پورے وجود کے ساتھ حاضر ہونا چاہیے۔ ان خطابات نے نہ صرف اجتماع کے فکری پہلو کو مضبوط کیا بلکہ حاضرین کے دلوں میں ایک نئی بیداری، خود احتسابی اور عزمِ نو کی کیفیت بھی پیدا کر دی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ محفل محض ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی درسگاہ بن چکی ہے، جہاں سے ہر فرد اپنے دامن میں شعور، ولولہ اور ذمہ داری کا احساس سمیٹ کر اٹھ رہا ہے۔

اجتماع اپنے فکری و جذباتی نقطۂ عروج کی جانب گامزن تھا کہ امامِ جمعہ گلگت آغا سید راحت الحسینی کا خطاب گویا ایک ولولہ انگیز اعلان بن کر ابھرا۔ ان کی پرجوش آواز میں وہی درد، وہی عزم اور وہی یقین جھلک رہا تھا جو اس اجتماع کی روح میں رچا بسا تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز اس منظر کی عکاسی سے کیا کہ آج بلتستان کے دل سکردو میں علماء و عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے رہبرِ عزیز کے چہلم کے موقع پر جمع ہے۔ یہ اجتماع محض ایک ہجوم نہیں بلکہ بلتستان کے غیور، باشعور اور وفادار عاشقانِ اہلِ بیت علیہم السلام و رہبر معظم کا وہ کارواں ہے جو عالمی استعمار اور اس کے ایجنٹوں کی ناکامی کا عملی اعلان کر رہا ہے۔ آغا سید راحت الحسینی نے موجودہ عالمی صورتحال کو "کلِ ایمان اور کلِ کفر" کے درمیان جاری معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیطانِ بزرگ امریکہ نے بلاجواز ایران پر شب خون مار کر ہمارے رہبرِ عزیز کو شہید کیا اور یہ گمان کیا کہ ان کے چلے جانے سے انقلابِ اسلامی کا چراغ بجھ جائے گا۔ مگر تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ شہادتیں چراغ نہیں بجھاتیں بلکہ انہیں مزید فروزاں کر دیتی ہیں۔ رہبرِ معظم کی شہادت نے وہ عظیم اثر چھوڑا ہے کہ آج ان کے چہلم کے موقعے پر مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات مٹتے دکھائی دے رہے ہیں اور وحدت کی ایک نئی فضا جنم لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نہ صرف مسلمان بلکہ پوری انسانیت کی نگاہ میں ٹرمپ اور اس کی پالیسیوں کی علامت نفرت بن چکی ہے۔ ان کے بقول، وقت دور نہیں جب "فتحِ مبین" کے بعد دنیا کا نقشہ تبدیل ہوگا، عالمی استعماری طاقتوں کی اجارہ داری خاک میں مل جائے گی اور ایران کی اسلامی حکومت مزید قوت کے ساتھ عالمی افق پر ابھرے گی، جس سے اسلام کو نئی توانائی اور تقویت حاصل ہوگی۔ اپنے خطاب کے ایک اہم حصے میں انہوں نے گلگت بلتستان کے داخلی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر شیعہ اثناء عشری، شیعہ اسماعیلی اور شیعہ نوربخشی برادریاں حقیقی معنوں میں متحد ہو جائیں تو اس خطے کی سیاسی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اسی وحدت کے خوف کو مختلف سازشوں کے ذریعے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے باعث گلگت بلتستان کو تاحال آئینی حیثیت سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہمیں اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینے کے لیے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔ میونسپل اسٹیڈیم سکردو میں لہراتے سبز ہلالی پرچم اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ شیعانِ حیدرِ کرار کی رگوں میں وطنِ عزیز کی محبت پوری شدت کے ساتھ موجزن ہے۔ انہوں نے پاکستان کو اپنا محسن اور مسلح افواج کو اپنا محافظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی فوج اور قیادت کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت، بالخصوص آرمی چیف کی سفارتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے ایران کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا مشورہ دیا اور ایران نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ وہ عالمی استعمار کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ آغا سید راحت الحسینی کا خطاب درحقیقت ایک ہمہ گیر پیغام تھا۔ وحدت کا، مزاحمت کا، خودداری کا اور ایک روشن مستقبل کی امید کا۔ ان کے الفاظ نے اجتماع میں موجود ہر فرد کے دل میں ایک نئی حرارت، ایک نیا شعور اور ایک نیا عزم پیدا کر دیا۔ یوں یہ اجتماع محض یادِ شہداء تک محدود نہ رہا بلکہ ایک زندہ اور متحرک تحریک کی صورت اختیار کرتا دکھائی دیا۔

آغا سید راحت الحسینی کے ولولہ انگیز خطاب کے اختتام پر جب ظہرین کی نماز کا وقت ہوا تو میونسپل اسٹیڈیم ایک عظیم الشان عبادت گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔ حاضرینِ اجتماع نے صفیں باندھیں اور صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی کی اقتداء میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ یہ منظر اپنی روحانیت، نظم اور وحدت کے اعتبار سے ناقابلِ فراموش تھا۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہزاروں افراد، ایک ہی قبلہ، ایک ہی امام اور ایک ہی مقصد کے ساتھ۔ نماز کے بعد وسیع پیمانے پر نیاز کی تقسیم کا مرحلہ شروع ہوا۔ اندازاً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد پر مشتمل اس اجتماع کے لیے طعام کا انتظام بذاتِ خود ایک غیر معمولی کارنامہ تھا۔ اس کے پیچھے انجمنِ امامیہ بلتستان کی مسلسل شب و روز محنت، تنظیمی صلاحیت اور اجتماعی جذبہ کارفرما تھا۔ مقامی انجمنوں کو متحرک کیا گیا، انجمنِ تاجران سکردو سے تعاون حاصل کیا گیا، پیرامیڈیکل ٹیموں کو الرٹ رکھا گیا اور شہر کے متعدد ریسٹورنٹس کے مالکان نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت تھا کہ جب نیت خالص ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔ اس عظیم انتظام میں بے شمار گمنام اور مخلص افراد کی محنت شامل تھی، جو پسِ منظر میں رہ کر اس کامیابی کو ممکن بنا رہے تھے۔ خصوصاً جوانانِ امامیہ بلتستان نے نیاز کی تقسیم میں غیر معمولی سرگرمی کا مظاہرہ کیا اور کوشش کی کہ کوئی بھی شریک اس فیض سے محروم نہ رہے۔ بلتستان جیسے دور افتادہ خطے میں اس درجے کا منظم، وسیع اور مربوط اجتماع اپنی مثال آپ تھا۔ نماز و طعام کے بعد اگلی نشست کا آغاز ہوا مگر اس دوران بھی قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ میونسپل اسٹیڈیم عوام کے ایک بے کنار سمندر میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اسٹیج پر پورے بلتستان سے آئے ہوئے کم از کم تین ہزار علماء کی موجودگی نے اجتماع کو ایک منفرد وقار بخشا، جبکہ جگہ کی کمی کے باعث ہزاروں افراد اسٹیڈیم سے باہر سڑکوں پر کھڑے ہو کر پروگرام کا حصہ بنے رہے۔
اسی نشست میں صدر انجمنِ امامیہ استور شیخ حفاظت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رہبر پر ظلم کی انتہا کی گئی۔ ان کا ظاہری جسم اگرچہ نحیف و کمزور تھا مگر ان کے نظریے کی قوت کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہ کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ٹن بموں کی بارش بھی اس فکر کو مٹا نہ سکی کیونکہ یہ نظریہ دلوں میں زندہ ہے اور اس کے پیروکار آج بھی نظامِ حکومتِ اسلامی کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بعد ازاں صدر انجمنِ امامیہ کھرمنگ آغا سید علی موسوی نے اپنے منفرد اور تاریخی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں دو چہلم ایسے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ایک چہلم امام حسین علیہ السلام کا، اور دوسرا آج بلتستان کی سرزمین پر رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای کا چہلم۔ انہوں نے کہا کہ انجمنِ امامیہ بلتستان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا یہ اجتماع اپنی عظمت میں اس قدر بلند ہے کہ اگر یہاں کوئی خطاب بھی نہ ہوتا تو یہ ٹھاٹھیں مارتا انسانی سمندر ہی عالمی استعمار کے لیے ایک واضح پیغام کے طور پر کافی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت نے تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا ہے اور آج کا یہ اجتماع بلتستان کی تاریخ کا ایک سنگِ میل ہے۔ انہوں نے انجمنِ امامیہ بلتستان کے پیش کردہ "چارٹر آف ڈیمانڈ" پر مکمل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر سنجیدگی سے عملدرآمد نہ کیا گیا تو حالات کوئی بھی رخ اختیار کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم اپنے مرکز کی قیادت کے ہر حکم پر لبیک کہنے کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔

اجتماع کی فضا بدستور گرم اور بیدار تھی کہ صدر انجمنِ امامیہ شگر سید محمد عباس موسوی نے اپنے خطاب میں قرآنِ مجید کی روشنی میں ایک دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرآن واضح طور پر اہلِ ایمان کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ دشمنانِ اسلام سے دوستی کا ہاتھ نہ بڑھائیں، بلکہ ان سے فکری و عملی بیزاری اختیار کریں۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ آج جب ہم کفر اور اس کے حامیوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تو یہ کوئی وقتی ردِعمل نہیں بلکہ حکمِ الٰہی کی پیروی ہے۔ انہوں نے بطورِ استدلال قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت کی:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ"(سورۃ المائدہ: 51)
ترجمہ: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو انہیں دوست بنائے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔
اس کے بعد نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان شیخ شرافت علی نے ضلع روندو کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خطاب میں ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اصول ہمیشہ سے واضح ہے۔ ہم ظالم کے مخالف اور مظلوم کے حامی ہیں، خواہ وہ مظلوم دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو، پاکستان میں ہو یا گلگت بلتستان میں۔ انہوں نے روندو کی جغرافیائی و اسٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے بلتستان کا "آبنائے ہرمز" قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر انجمنِ امامیہ بلتستان کے پیش کردہ "چارٹر آف ڈیمانڈ" پر من و عن عمل نہ کیا گیا تو یہ راستہ بند کرنے جیسے سخت فیصلے بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں۔
سینئر نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان شیخ زاہد حسین زاہدی نے اپنے خطاب میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے پر ہر قسم کے ظلم و زیادتی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ یہ سرزمین یہاں کے باسیوں کی ہے۔ اس کے وسائل، معدنیات، دریا اور پہاڑ سب انہی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی بھی قسم کی قانون سازی عوام کو اعتماد میں لیے بغیر مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو بلتستان کے باشعور عوام اسے ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے ایک قرارداد بھی پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انجمنِ امامیہ بلتستان کے "چارٹر آف ڈیمانڈ" کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔
اسی دوران کم عمر ثناخوان صالح جلالی نے جب بارگاہِ اہلِ بیت(ع) میں سلامِ عقیدت پیش کیا تو اجتماع کی فضا یکسر بدل گئی۔ اس معصوم آواز میں ایسی سوز و گداز اور ایسی بے ساختہ عقیدت تھی کہ حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔ آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دلوں میں اہلِ بیت کی محبت ایک بار پھر موجزن ہو اٹھی۔
بعد ازاں صدر انجمنِ امامیہ گانچھے شیخ ذوالفقار یعسوبی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کے پاکیزہ لہو نے ملتِ اسلامیہ کے اندر ایک نیا جذبہ اور ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جس نے کفر و طاغوت کے سامنے اہلِ ایمان کو سربلند کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم اور ان کے پیروکاروں کی استقامت نے ثابت کر دیا ہے کہ حق کا راستہ کبھی شکست نہیں کھاتا اور اسی استقامت کے نتیجے میں "فتحِ مبین" کی امید روشن ہوئی ہے۔
انہوں نے گانچھے کے مومنین کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاچن جیسے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے سے لوگ صبح تین بجے روانہ ہو کر دوپہر ایک بجے سکردو پہنچے۔ یہ صرف شرکت نہیں بلکہ عشق و وفا کی ایک عملی تصویر ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم سب فدایانِ امامِ زمانہ(عج) ہیں اور ان پر اپنی جانیں قربان کرنا اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔

اجتماع اپنے فکری و روحانی تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا کہ صوفیہ نوربخشیہ سکردو کے خطیب مولانا اخوند عارف نے نہایت جامع اور وحدت آمیز خطاب کیا۔ انہوں نے ابتدا ہی میں اس حقیقت کو واضح کیا کہ یہ محفل کسی مسلکی تقسیم۔ شیعہ، سنی یا نوربخشی کی نمائندہ نہیں، بلکہ یہ اسلام کے نام پر دی گئی ایک عظیم قربانی کی یاد میں منعقد ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت درحقیقت کفر، صہیونیت، باطل اور گمراہی کی قوتوں کے ہاتھوں اسلام پر حملہ تھی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو لوگ ہدایت، ایمان اور قرآن کو اپنا شعار بناتے ہیں، وہ ہمیشہ عالمِ کفر کی نگاہ میں کھٹکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ باطل قوتیں کبھی بھی اہلِ حق کی حقیقی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہوتیں۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ وقتی مصلحتوں کے بجائے اپنے اصولوں پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان نہ کبھی اپنی شناخت کھو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی اور قالب میں ڈھل سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک ''خدائی جماعت'' کی صورت میں متحد ہوں اور عالمی استکبار کے مقابلے میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ مولانا اخوند عارف نے اہلِ ایران کی استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مزاحمت نے پوری امتِ مسلمہ کو حوصلہ دیا ہے۔ آج دنیا میں وہ ایک ایسی جری اور باوقار قوت کے طور پر سامنے آئے ہیں جو نہ صرف اپنے دفاع بلکہ پوری امت کے وقار کی علامت بن چکی ہے۔
اس کے بعد صدر ہیئتِ ائمہ جمعہ و جماعت گلگت، شیخ شرافت ولایتی نے اپنے خطاب میں رہبرِ مسلمین شہید رہبر اور ان تمام جوانوں کو سلامِ عقیدت پیش کیا جو اسلامی نظام کے تحفظ، بیت المقدس کی آزادی اور غزہ کے مظلوموں کی حمایت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے۔ انہوں نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم موجودہ رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے فرامین پر ہمیشہ لبیک کہتے رہیں گے اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
اجتماع کے ایک نہایت فکر انگیز مرحلے میں داعیٔ وحدت، امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے "ایامُ اللہ" کے تصور کو نہایت بصیرت افروز انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایامُ اللہ وہ دن ہوتے ہیں جب تاریخ کا دھارا بدلتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت و نصرت غیر معمولی انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں فرعون کا دریائے نیل میں غرق ہونا ایک یومُ اللہ تھا، جبکہ امام خمینی کے مطابق 11 فروری، انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کا دن بھی ایک عظیم یومُ اللہ ہے۔ اسی تسلسل میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ اور ان کے رفقاء کی شہادت بھی ایامُ اللہ میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی قدرت، عظمت اور نصرت کا ایک نیا باب کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی استکبار، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں جس جرات اور استقامت کا مظاہرہ کیا گیا، اس نے سپر طاقتوں کے غرور کو چکنا چور کر دیا۔ ان کے بقول، رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد بھی مختصر مدت میں جس انداز سے قربانیاں پیش کی گئیں، وہ کسی معجزے سے کم نہیں اور یہی قربانیاں مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی قوت کے ابھار کا پیش خیمہ بن رہی ہیں۔
انہوں نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے اس شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے
اپنے خطاب کے اختتام پر علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے اس عظیم اجتماع کے انعقاد پر انجمنِ امامیہ بلتستان کی قیادت، خصوصاً آغا سید باقر الحسینی اور مرکزی علماء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے سکردو میں پیش آنے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں اور کسی بھی گرفتاری کو عدالتی کارروائی اور شفاف تحقیقات کے بغیر قبول نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ انجمنِ امامیہ بلتستان کے "چارٹر آف ڈیمانڈ" پر فوری اور مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔

اجتماع اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہوا تو صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی کا خطاب گویا اس عظیم الشان اجتماع کی ترجمانی بن کر ابھرا۔ انہوں نے اپنے کلمات کا آغاز پورے گلگت بلتستان سے تشریف لانے والے علماء، جوانوں، بزرگوں اور عوام الناس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا۔ خصوصاً استور، نگر، ہنزہ، گلگت، سکردو، کھرمنگ، شگر، روندو، گلتری اور گانچھے سیاچن جیسے دور افتادہ علاقوں سے آنے والے قافلوں کے جذبۂ عشق و وفا کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع دراصل آپ سب کی محبت، قربانی اور شعور کا مظہر ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو انسانی حقوق کے نعرے بلند کرتے ہیں؟ فلسطین میں ہزاروں معصوم انسانوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا، غزہ کے معصوم بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا، مگر عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ظلم کے مقابلے میں ایک مضبوط آواز رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کی تھی، جو مظلوم فلسطینیوں کی حقیقی پشت پناہی کر رہے تھے اور "گریٹر اسرائیل" کے ناپاک منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ ان کی شہادت کے باوجود، انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کی سازشیں ناکام ہوں گی اور ان شاء اللہ ظالم قوتوں کا خاتمہ قریب ہے۔
آغا باقر الحسینی نے اپنے خطاب میں پھیالونگ واٹر ڈائیورژن پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب عوام متحد ہوں تو کوئی رکاوٹ ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض عالمی ادارے "وائلڈ لائف" یا دیگر ناموں پر اس خطے کے عوام کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقی انسانی حقوق کی پامالیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا دنیا کو ایران کی ان معصوم طالبات کی شہادت نظر نہیں آئی، جو بمباری کا نشانہ بنیں؟ انہوں نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ اگر انجمنِ امامیہ بلتستان کے پیش کردہ "چارٹر آف ڈیمانڈ" پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو بلتستان کے عوام اس سے بھی بڑا اجتماع منعقد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور یہ سلسلہ مطالبات کی منظوری تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے اجتماع کے ذریعے امریکہ کی جانب سے ایران اسلامی پر کی جانے والی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ امن کے داعی رہے ہیں، مگر ناانصافی اور جبر کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے اسلام آباد میں گرفتار کیے گئے بے گناہ جوانوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور خبردار کیا کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اپنے خطاب کے آخری حصے میں آغا باقر الحسینی نے شکریہ و سپاس کا ایک خوبصورت اور جامع انداز اختیار کیا۔ انہوں نے سکردو انتظامیہ، پولیس، میونسپل کمیٹی، واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ، امن و امان کے اداروں، العباس اسکاؤٹس، مسجد کمیٹی کے جوانوں، تمام ماتمی انجمنوں، ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف، انجمنِ تاجران، اور ان تمام افراد و اداروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس عظیم اجتماع کے انتظامات میں بھرپور کردار ادا کیا۔ چاہے وہ تبرک کی تقسیم ہو، وضو کے پانی کا انتظام ہو یا دیگر سہولیات کی فراہمی۔ انہوں نے میڈیا نمائندگان، صحافی حضرات اور تمام علماء کرام کا بھی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس اجتماع کے پیغام کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص ہنزہ، گلگت، استور اور نگر سے تشریف لانے والے معزز علماء و عمائدین اور خصوصاً آغا سید راحت الحسینی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے ان کی شرکت کو اجتماع کی کامیابی کا اہم حصہ قرار دیا۔ آخر میں انہوں نے انجمنِ امامیہ بلتستان کی کابینہ اور کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو گزشتہ چالیس دنوں سے مسلسل شب و روز محنت کرتے ہوئے اس اجتماع کو کامیاب بنانے میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

یوں یہ عظیم الشان اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا، یہ عظیم الشان اجتماع ایک زندہ تحریک، ایک بیدار شعور اور ایک اجتماعی عہد کی صورت میں تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو گیا۔ بلتستان کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے عوام، علماء اور جوانوں نے اپنے اتحاد، نظم اور فکری پختگی سے یہ ثابت کیا کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو فراموش کرنے والے نہیں بلکہ ان کے مشن کے حقیقی وارث ہیں۔ اس اجتماع نے جہاں عالمی استعمار کے خلاف نفرت اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا واضح پیغام دیا، وہیں داخلی سطح پر وحدت، خودداری اور حقوق کے حصول کے لیے ایک مضبوط لائحہ عمل بھی پیش کیا۔ یہ منظر اس بات کا غماز تھا کہ جب ایمان، شعور اور قیادت یکجا ہو جائیں تو تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو سکردو میں منعقدہ انجمنِ امامیہ بلتستان کے اس عظیم اجتماع نے آنے والے وقتوں کے لیے چھوڑا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha