جمعہ 24 اپریل 2026 - 19:46
ایران میں حکومت اور پاسداران میں اختلافات؟

حوزہ/جمہوری اسلامی ایران کے بارے میں گزشتہ سینتالیس سال جو اندازے لگائے گئے وہ آج تک غلط ہی ثابت ہوتے رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تک ایران کے اسلامی انقلاب کو اسی پیمانے میں تولا جاتا رہا ہے، جو دنیا میں اٹھنے والی دوسری سیاسی تحریکوں کے لیے مقرر کر لیا گیا ہے یا دنیا میں رونما ہونے والے دیگر انقلابات کے لیے رکھا گیا ہے۔

تحریر: مولانا سید حسن ظفر نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| جنگ کے میدان میں ناکامی کے بعد امریکہ، بلکہ یوں کہیے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے ایک بیانیہ بنانے میں مشغول ہے اور اس کے لیے حسب معمول اپنے من چاہے کچھ میڈیا ہائوسز اور کچھ من چاہے میڈیا پرسنز اور سوشل میڈیا اکٹوسٹس (Activists) کو بھی حرکت میں لا چکی ہے اور وہ بیانیہ ہے جمہوری اسلامی ایران میں داخلی اختلافات کے زور پکڑنے کا، ایک سال پہلے یہ داخلی اختلافات عوامی بغاوت کے عنوان سے سامنے لائے گئے، لیکن حالیہ چالیس روزہ جنگ میں وہ عوامی بغاوت کا اعلانیہ جس بری طرح فلاپ ہوا وہ ساری دنیا نے دیکھ لیا، کیونکہ جس طرح ایرانی عوام اپنی حکومت اور نظام کے ساتھ کھڑے ہوئے اور کھڑے ہیں، اس نے ساری دنیا کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا۔اب اس بیانیے کے راندۂ درگاہ ہونے کے بعد ایک نیا بیانیہ سامنے لایا گیا ہے وہ ہے ایران کی حکومت کے اندر اختلافات کا بیانیہ۔ خبریں یہ نشر کی جارہی ہیں کہ ’’حکومتی عہدیداران اور سپاہ پاسداران کے درمیان جنگ جاری رکھنے اور جاری نہ رکھنے پر زبردست اختلافات پیدا ہو چکے ہیں‘‘۔ اس بیانیے میں کہاں تک صداقت ہیں آئیے دیکھتے ہیں۔

جمہوری اسلامی ایران کے بارے میں گزشتہ سینتالیس سال جو اندازے لگائے گئے وہ آج تک غلط ہی ثابت ہوتے رہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اب تک ایران کے اسلامی انقلاب کو اسی پیمانے میں تولا جاتا رہا ہے، جو دنیا میں اٹھنے والی دوسری سیاسی تحریکوں کے لئے مقرر کر لیا گیا ہے یا دنیا میں رونما ہونے والے دیگر انقلابات کے لئے رکھا گیا ہے۔ میں نے پہلے بھی کسی تحریر میں یہ بات کہی تھی کہ ایران کا انقلاب مادی اور معاشی نعروں پر نہیں آیا اگر ایسا ہوتا تو یہ انقلاب ایران عراق جنگ کے ختم ہوتے ہی اپنے انجام کو پہنچ جاتا کیونکہ اس وقت آج کے مقابلے ایرانی قوم زیادہ مشکلات کا شکار تھی۔ اس انقلاب کی روح یا اس انقلاب کا جوہر روحانیت تھی جو آج تک ایرانی قوم کی روح میں باقی ہے۔ انقلاب کے بعد سے اب تک یہ حقیقت ہے کہ ایرانی عوام متعدد مرتبہ معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلی، یہ احتجاج ان کا حق ہے اور وہ اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ اس احتجاج کرنے پر کوئی پابندی نہیں ، لیکن اکثر ایسا ہوا کہ ان احتجاج کرنے والوں کو ڈھال بنا کر امریکہ اور اسرائیل کے تربیت یافتہ منافقین میدان میں نکلتے تھے اور پر امن مظاہروں کو پرتشدد گھرائو جلائو میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے تھے۔ اس کا ثبوت خود ڈونلڈ ٹرمپ اور نتن یاہو کے وہ بیانات ہیں جن میں ساری دنیا کے سامنے اقرار کرتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے ایران میں رجیم چینج کرنے کے لئے بہت بڑی تیاری کی ہے، کئی ارب ڈالر انوسٹ کیا ہے۔ اور متبادل قیادت بھی تیار کر لی ہے۔

گزشتہ سال کے ہنگاموں میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ لوگ مہنگائی کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے اور انھیں یہ مظاہرے کرنے کی آزادی حاصل تھی ، کچھ دن تک یہ مظاہرے بالکل پرامن رہے، پھر اچانک پولیس پر حملے شروع ہوئے، بازاروں میں بڑے پیمانے پر گھرائو جلائو کا آغاذ ہوتا ہے ، حتی کہ مساجد اور دیگر مذہبی مقامات پر حملے شروع ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ مظاہرین میں شامل منافقین کے مسلح جتھے خود مظاہرین کو فائرنگ کر کے قتل کرنا شروع کر دیتے ہیں، اور یہ خبریں ساری دنیا میں مرچ مصالح کے ساتھ نشر کی جارہی تھیں اور ایران میں رجیم چینج کی خوشخبریاں بانٹی جا رہی تھیں۔ صورتحال جب یہاں تک پہنچی تو ایرانی انتظامی فورسز اور خفیہ ادارے حرکت میں آگئے۔ایک اور بات یہ ہوئی کہ جب مذہبی مقامات پر حملے شروع ہوئے تو ایران کی باشعور عوام فوراً معاملے کی حقیقت تک پہنچ گئی۔ سب سے پہلے تہران کے تاجروں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا یہ کہہ کر کہ اس احتجاج سے امریکہ اور اسرائیل کو فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔ اسی طرح سارے ایران میں عوام احتجاج ختم کر کے گھروں میں واپس چلی گئی۔ اس صورتحال میں وہ عناصر جنھیں تربیت دے کر حالات خراب کرنے کے لئے سڑکوں پر نکالا گیا تھا وہ بے نقاب ہو گئے۔ اور سارے ایران میں بڑی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر امریکہ اور اسرائیل کا تلملانا اور شور مچانا تو بنتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ یہ سازش بے نقاب ہوتے ہی سارے ملک میں لوگ حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئے۔ اور ماضی کی طرح یہ سازش بھی نقش بر آب ثابت ہوئی۔

اب حالیہ جنگ میں بھی یہی ہوا، 28 فروری کو جب ایران پر امریک اور اسرائیل کا حملہ ہوا تو ٹرمپ اور نتن یاہو کے بیانات دیکھ لیجئے وہ اپنے ذعم باطل میں رہبر اور کچھ اہم کمانڈروں کو شہید کر کے اعلان کر بیٹھے کہ اب اسلامی حکومت ختم، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں اور نیا نظام سنبھالیں اور اس کاٹھ کے الو رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو شاہی لباس پہنوا کر تہران بھیجنے کی تیاری بھی کر لی۔لیکن ہوا یوں کہ کچھ دن میں ہی ساری آرزوئیں خاک میں مل گئیں۔چالیس دن منہ کی کھانے کے بعد ’’لوٹ کے بدھو گھر کو آئے‘‘کے مصداق جنگ بندی کی گلی ڈھونڈی۔ ڈرانے دھمکانے اور گھٹیا زبان استعمال کرنے سے بھی کام نہ چلا تو اب ایرانی ذمہ داروں کے درمیان اختلافات کا نیا منجن بازار میں متعارف کرایا گیا ہے۔ ایران میں انتخابات کی ایک عظیم تاریخ ہے وہاں بدترین حالات میں بھی انتخابات ملتوی نہیں کئے جاتے، وہاں 8 سالہ جنگ کے دوران بھی تین بار عام انتخابات منعقد ہوئے۔ انتخابات کا مطلب ہی یہ ہے ایک اپوزیشن ہمیشہ موجود رہتی ہے، اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایران میں کسی بھی ملک سے زیادہ شفاف انتخابات ہوتے ہیں۔

اور ان انتخابات کے نتیجے میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف وجود میں آتی ہے، اور پارلیمنٹ میں خوب خوب بحث مباحثے بھی ہوتے ہیں ، فیصلوں میں رد و بدل بھی ہوتا ہے۔ مگر ایک اصل جس پر سب متحد ہیں وہ ہے نظام کی حفاظت۔ یقینا حکومت چلانے والوں میں اس جنگ کے دوران بھی اختلاف رائے ہو گا، مگر وہاں ایک طریقہء کار ہے ، جب وہ سسٹم میں رہتے ہوئے ایک فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر سب اس فیصلے کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اور قوم کو حقائق سے آگاہ رکھتے ہیں۔ اسی لئے قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد رہتا ہے۔ اور اسی طرح ایرانی قوم کا بھی مزاج ہے، کہ چاہے وہ حکومت کے مخالف ہوں ،لیکن بات ایران اور نظام کی آجائے تو وہ نظام کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ بات وہاں کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کبھی ان کے دوست نہیں ہو سکتے، وہ یہ بھی شعور رکھتے ہیں کہ ان کی ہر پریشانی کا باعث امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ اور پھر اپنے عقیدے سے وابستگی، یعنی کربلا ان کی رگ و پے میں خون بن کے دوڑتی ہے، اس لئے شہادت کا جذبہ انھیں دشمن کے مقابلے میں استقامت عطا کرتا ہے، عالمی تجزیہ نگار جمہوری اسلامی ایران کے حالات پر تجزیہ کرتے وقت اس ایک نکتے یعنی کربلا کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے سبب ایران سے متعلق سارے اندازے غلط نکل جاتے ہیں۔ کربلا کو سمجھے بغیر ایرانی قوم کو سمجھنا ممکن نہیں۔ ایٹمی حملے کی دھمکیاں بھی ایرانی قوم کو خوفزدہ نہ کر سکیں، جس رات ٹرمپ نے ایک تہذیب کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کا اعلان کیا تھا اس رات ساری ایرانی قوم سڑکوں پر نکل آئی تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha