تحریر:آغا سید عابد حسین الحسینی
حوزہ نیوز ایجنسی|
اسلام ایک ایسا مکمل نظامِ زندگی ہے جس کی تعلیمات میں برادری، رواداری، یکجہتی اور اتحاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور انہیں اپنی صفوں کو متحد رکھنا چاہیے۔ تاہم، یہ وحدت ہر قیمت پر ہر بات کو قبول کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب فقہ اور شریعت کے پابند رہیں تاکہ اختلافات تفرقے کا سبب نہ بنیں۔ اس مضمون میں ہم ان تعلیمات کو تفصیل سے بیان کریں گے۔
برادری، رواداری اور یکجہتی پر قرآن و عترت کی تاکید
قرآن کریم نے ایمان والوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ" (الحجرات: 10) یعنی ”مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں“۔
اس آیت کے بعد ہی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: "فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْكُمْ" (الحجرات: 10) یعنی ”پس تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو“۔
اتحاد اور یکجہتی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے: "وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا" (آل عمران: 103) یعنی ”تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو“۔
اسی طرح سورہ انفال میں ارشاد ہے: "وَاَطِیْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِیْحُکُمْ" (الانفال: 46) یعنی ”اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا مت کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی“۔
ائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم اجمعین کے احادیث مبارکہ میں بھی اس موضوع پر بے شمار ارشادات ہیں:
1. قال رسولُ اللّه صلى الله عليه و آله :مَثَلُ المُؤمِنينَ في تَوادِّهِمْ وَ تَعاطُفِهِمْ وَ تَراحُمِهِمْ مَثَلُ الجَسدِ ؛ إذا اشتكى مِنهُ عُضوٌ تَداعى سائرُ الجَسَدِ بالسَّهَرِ و الحُمّى رسول اللہ صلی اللہ علیہ و و آلہ و سلم نے فرمایا: مومن ایک دوسرے کے لیے محبت، الفت اور ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہیں۔ جب بھی اس کے ایک حصے میں درد ہوتا ہے تو دوسرے حصے میں بے خوابی اور بخار پیدا ہوتا ہے۔ [مسند ابن حنبل : 6 / 379 / 18408 .]
2. قالَ النَّبِيُّ صلي الله عليه و آله: ألْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيانِ الْمَرْصُوصِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضَا.مومن آپس میں ایک مضبوط عمارت کی طرح ہیں، وہ ایک دوسرے سے جڑ کر مضبوط ہوتے ہیں“ [نهج الفصاحه، حديث 3103]
3. الإمام الصادق عليه السلام : المُسلِمُ أخُو المُسلِمِ ؛ لا يَظلِمُهُ ، و لا يَخذُلُهُ ، و لا يَغتابُهُ ، و لا يَخونُهُ ، و لا يَحرِمُهُ . امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا، اسے تنہا نہیں چھوڑتا، اس کی غیبت نہیں کرتا، اس کی خیانت نہیں کرتا اور اسے محروم نہیں کرتا۔ بحار الأنوار : [74 / 273 / 14]
قرآن و عترت کے مطابق کسی شخص پر اعتبار کرنے اور اسے معتبر ماننے کے معیار
اسلام نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ کب کسی شخص پر اعتبار کیا جائے اور اسے کب معتبر مانا جائے۔
اعتبار کے اسباب
· ایک شخص کو معتبر تب مانا جاتا ہے جب وہ ایمان دار، امانت دار اور صادق القول ہو۔
· جب وہ قرآن و عترت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔
· جب لوگ اسے سچا اور دیانت دار سمجھتے ہوں۔
اعتبار کے خاتمے کے اسباب
جب انسان رذائل کا حامل ہو جاتا ہے تو اس کا اعتبار خود بخود ختم ہو جاتا ہے:
1. جھوٹ اور دروغ گوئی: جب کوئی شخص جھوٹ بولتا رہتا ہے اور لوگ اسے دروغ گو کہتے ہیں تو اس کی کوئی بات قابل قبول نہیں رہتی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ" (الاسراء: 36) یعنی ”اور جس بات کی تمہیں تحقیق نہ ہو اس پر عمل نہ کرو“۔
حدیث میں ہے کہ ”قالَ رَسُولُ اللّه ِ صلي الله عليه و آله: إيّاكُمْ وَ الكِذْبُ فَإنَّ الكِذبَ يَهْدى إلَى الفُجُورِ وَ الفُجُورُ يَهدى إلَى النّارِ. ترجمه: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹ بولنے سے بچو، کیونکہ جھوٹ آدمی کو فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجور اور بدکاری آدمی کو جہنم کی آگ میں لے جاتی ہے۔[جامع الاخبار ص 417 ح 1157.]
2. دھوکے بازی اور فریب کاری: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ" (البقرہ: 9) یعنی ”وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، حالانکہ وہ خود اپنے سوا کسی کو دھوکا نہیں دیتے“۔
امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منسوب حدیث میں ایا ہے کہ المُؤمنُ لا يَغُشُّ أخاهُ و لا يَخُونُهُ و لا يَخذُلُهُ و لا يَتَّهِمُهُ . ترجمہ مومن اپنے بھائی کو دھوکہ نہیں دیتا، اس سے خیانت نہیں کرتا، اسے تنہا نہیں چھوڑتا اور اس پر الزام نہیں لگاتا۔ [الخصال : ۶۲۲/۱۰]
3. گناہان کبیرہ کا ارتکاب: قرآن مجید میں ارشاد ہے: "إِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ" (النساء: 31) یعنی ”اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے“۔
حدیث میں ہے: "الْكَبَائِرُ الَّتِي أَوْجَبَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهَا النَّارَ” ترجمه: گناه کبیرہ وہ ہے جس کے ارتکاب پر الله تعالی نے جہنم کی سزا واجب کیا ہے“۔
شریعت کی پابندی اور خلاف شرع سے اجتناب
جب ایک معتبر انسان بھی قرآن و حدیث یا دین کے مسلمات سے ہٹ کر بات کرتا ہے تو اسے بھی کوئی اعتبار نہیں رہتا۔ وحدت اور یکجہتی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر کوئی بات قبول کر لی جائے، بلکہ مراد یہ ہے کہ سب فقہ اور شریعت کے پابند رہیں تاکہ مزید اختلافات پیدا نہ ہوں اور جو اختلافات ہیں وہ باعث تفرقہ نہ بنیں۔
شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کا حکم
جب کوئی شخص شریعت کی خلاف ورزی کرتا دیکھا جائے، خواہ اس نے روحانی لباس ہی کیوں نہ پہنا ہو، اس وقت لازم ہے کہ ذمہ داران، اہل علم اور صاحب فہم افراد اسے اس کام سے روکیں۔
اگر شریعت بھی اپنی اپنی روایت اور رسم بن جائے تو نہ صرف فسادات، اختلافات اور تضادات بڑھ جائیں گے، بلکہ دینی بیداری بھی کمزور ہو جائے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ سب شریعت کی پابندی کریں اور بدعات سے اجتناب کریں۔
قرآن و عترت کی تعلیمات یہ ہیں کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انہیں اتحاد و یکجہتی کے ساتھ رہنا چاہیے۔ تاہم، یہ اتحاد اس معنی میں نہیں کہ ہر شخص کی ہر بات قبول کر لی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب شریعت کے پابند رہیں۔
کسی شخص پر اعتبار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچا، امانت دار اور گناہان کبیرہ سے بچنے والا ہو۔ جھوٹ، دھوکہ دہی اور گناہان کبیرہ کا ارتکاب اعتبار کو ختم کر دیتا ہے۔
شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو، خواہ وہ کسی بھی لباس میں ہوں، اہل علم کو روکنا چاہیے تاکہ دین میں بے ترتیبی اور بے راہ روی پیدا نہ ہو اور دینی بیداری قائم رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و عترت کی روشنی میں زندگی گزارنے، اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے اور شریعت کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ