تحریر : آغا سید عابد حسین حسینی، چئیرمین تبیان قرآنی ریسرچ انسٹیٹیوٹ
حوزہ نیوز ایجنسی I پارلیمنٹ میں ریلوے بل پر گفتگو کے دوران، آغا سید روح اللہ مہدی نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے جن جذبات کا اظہار کیا وه ہر کشمیری فرد کے دل میں موجود ہیں۔ انہوں نے شھید رہبر معظم اور دیگر شہداء کی شہادت پر تعزیت پیش کی، جو کشمیری عوام کے جذبات کا آئینہ دار تھا۔
آغا سید روح اللہ مہدی کا بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ سے یہ سوال کہ "اسرائیل کی مذمت پر تمہیں درد کیوں ہوتا ہے؟" انتہائی برمحل سوال ہے۔ اسرائیل تمہارا فادر لینڈ ہو سکتا ہے، ہمارا نہیں۔ کہہ کر آغا سید روح اللہ مہدی نے اس جنگ میں ظلم و انصاف، ظالم و مظلوم اور حق و باطل کے درمیان صف بندی کو واضح کر دیا ہے۔ پورے ہندوستان میں اکثریت انصاف، حق اور مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے، ان کی حمایت کرتی ہے، ان سے اظہار یکجہتی کرتی ہے اور ان کی مدد کے لیے کوشاں ہے۔ جبکہ اسرائیل کے حامی، چاہے وہ آر ایس ایس ہو یا کوئی اور، ظلم، ظالم اور باطل کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
مرکزی حکومت کے غلط رویے کے باوجود، ایران نے ہندوستانی عوام کے لیے اپنی ہمدردی کے پیش نظر آبنائے ہرمز سے ہندوستانی گیس کی ترسیل کی اجازت دی ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم نے نہ تو رہبر معظم انقلاب کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور نہ ہی میناب میں سکول کی بچیوں کے بے گناہ قتل عام پر امریکہ کی مذمت کی۔ ایسے مواقع پر عاقلانہ تقاضا ہے کہ دوست ملک کے ساتھ غم میں برابر شریک رہا جائے اور بلکہ ملک میں بھی سوگ منانے کا اعلان کیا جائے۔ مگر عقل کے اندھے سے عاقلانہ اقدام کی توقع ہی بے جا ہے۔
بہرحال سیاست میں جہاں مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، وہیں ایک سیاست دان کو عوامی جذبات کا ترجمان بھی ہونا چاہیے۔ آج پورے ہندوستان میں، گلی گلی سے لے کر پنجاب اسمبلی تک، عوام شدت سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف بول رہے ہیں اور ایران سے اظہارِ یکجہتی کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، مرکزی حکومت عوام سے دوری اختیار کیے ہوئے ہے، نہ ان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے اور نہ ہی ان کی آواز کو ابھرنے دیتی ہے۔
اسرائیل کے دہشت گردانہ عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک صدی قبل سے فلسطین پر قبضہ کرکے فلسطینیوں کو بے گھر کیا اور بے گناہوں کا قتل عام کیا۔ یہ دہشت گردانہ رویہ آج بھی جاری ہے، جہاں غزہ میں سب کچھ تباہ و برباد کرکے ستر ہزار سے زائد بے گناہ شہید کر دیے گئے۔ ان کا خون ابھی خشک بھی نہیں ہوا تھا کہ ایران پر جارحیت کر دی گئی۔
مگر اب جنگ کی صورت حال بدل چکی ہے۔ خونخوار نیتن یاہو اس حساس دور میں یا تو چوہے کی طرح کسی بل میں چھپے ہوئے ہیں، یا ایران کے میزائلوں نے اس منحوس کے خون سے اسرائیل کی زمین کو سیراب کر دیا ہے۔ امریکہ، جو جنگ کروانے اور جنگ بند کروانے کا سوپر پاور ہے، آج گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے۔ قمار باز ڈونلڈ ٹرمپ، ہفتے میں بار بار فتح کا اعلان کر چکا ہے ۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق نو بار کہہ چکا ہے ہم نے جنگ جیت لی، جبکہ جنگ اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور ان کے وفادار اتحادی بھی صورتحال دیکھ کر ساتھ چھوڑتے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی معیشت کی شاہ رگ ہے، ایران نے اسے مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اب یہاں سے گزرنا انہیں کو ممکن ہے جنہیں ایران اجازت دے۔ ابراہم لنکن بحری بیڑا، جو صدیوں سے سمندروں پر راج کرتا تھا، آج جنگ کے دوران ہی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔
اسرائیل پر میزائلوں کی بمبار تبھی ممکن ہوئی جب ایران نے ہمسایہ ممالک میں امریکہ کے تمام جنگی تنصیبات، راڈار، ایرپورٹ، رنویز، ڈیفنس سیسٹم، فوجی کیمپ، جاسوسی اڑے یہاں تک کہ جن ہٹلوں میں امریکی افواج کیمپ چھوڑ کر رہائش پزیر تھے سب کو نابود کیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران نے پہلے امریکہ کی آنکھوں پر حملہ کرکے اسے اندھا کر دیا۔ اب شاہد 136 ڈرون سے لیکر سجیل ، خرمشہر اور دژپھول جیسے میزائل اسرائیل پر اپنے ٹارگٹ منہدم کررہے ہیں۔ جو صورتحال پچھلے دو سالوں سے اسرائیل نے غزہ کی بنائی ایران نے فقط پندرہ دنوں میں اس سے کئی گنا بدتر حالت اسرائیل کی کردی۔
یہ حقیقت ہے کہ رہبر معظم انقلاب شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای، شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہو چکے ہیں۔ ہزاروں افراد ان کی طرح بے گناہ شہید کیے گئے اور ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا گیا۔ مگر نظریاتی طور پر، جب امریکہ اور اسرائیل اپنے مادی اور دہشت گردانہ مقاصد کے حصول میں مصروف ہیں ۔ ایران میں ہونے والے نقصانات انکے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ کیونکہ ایرانی قوم انسانیت کے لیے، خدا کے حکم سے استقامت کا مظاہرہ کر رہی ہے، اور اسرائیل دہشتگرد کی نابودی اور امریکہ کی غنڈہ گردی ختم کرا کے انہیں دونوں جہانوں میں عظیم اجر ملے گا۔ رونما ہونے والے نئے ورلڈ آرڈر میں ایران طاقتور ملک ابھر کر آئے گا اور آخرت میں بھی ایرانی رزمندگان اسلام اپنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکے اہلبیت اطہار علیھم سلام کے ساتھ محشور ہونگے۔
یقیناً اس حق و باطل کے معرکے میں فتح حق کو ہی حاصل ہوگی یہ ایک سنت الہی ہھ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہے
"جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" (حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، یقیناً باطل مٹنے والا ہی تھا)۔









آپ کا تبصرہ