تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I آج کے دور میں سچ بولنا شاید سب سے مشکل کام بن چکا ہے۔ خاص طور پر جب میڈیا سچ کا آئینہ بننے کے بجائے طاقتوروں کی چاپلوسی کا ہتھیار بن جائے۔ جو ادارے عوام کو حقائق بتانے کے لیے قائم کیے گئے تھے، وہی آج درباروں کے قصیدہ گو اور حکومتوں کے ترجمان بن چکے ہیں۔ یہی وہ میڈیا ہے جسے عوام نے طنزاً “گودی میڈیا” کا نام دیا ہے؛ ایسا میڈیا جو صحافت نہیں بلکہ چاپلوسی کی صنعت چلا رہا ہے۔
اسی گودی میڈیا کے ایک رپورٹر نے تل ابیب سے نشر ہونے والی ایک رپورٹ میں ایران کو “دہشت گرد ریاست” قرار دے دیا۔ بس پھر کیا تھا، سوشل میڈیا اور علمی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ آخر دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟
اور اگر تعریف یہی ہے جو گودی میڈیا بتا رہا ہے تو پھر دہائیوں سے فلسطینیوں پر بم برسانے والا، ان کے گھروں کو مسمار کرنے والا اور بچوں تک کو نشانہ بنانے والا ملک کیا کہلائے گا؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ گودی میڈیا کی صحافت کا معیار اب اتنا گر چکا ہے کہ وہ حقائق کو نہیں بلکہ اپنے آقاؤں کی خوشنودی کو معیار سمجھتا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافیوں کا کام سچ کی تلاش نہیں بلکہ طاقت کے دربار میں سر جھکا کر وہی بولنا ہوتا ہے جو ان کے سرپرست سننا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر ایسے فیصلے صادر کرتے ہیں جیسے دنیا کی عدالت بھی وہی ہوں اور انصاف کا پیمانہ بھی انہی کے ہاتھ میں ہو۔
حقیقت مگر اس شور و غوغا سے کہیں مختلف ہے۔ اگر تاریخ کے اوراق کھول کر دیکھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فلسطین کی سرزمین پر تشدد اور دہشت کے واقعات کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ صدی کے ابتدائی عشروں میں کئی مسلح گروہ وہاں سرگرم تھے جو دیہاتوں اور بستیوں پر حملے کرتے، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان کی زمینوں سے بے دخل کرتے اور خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرتے تھے۔ ان کارروائیوں میں بم دھماکے، قتل و غارت اور بستیوں کو خالی کرانے جیسے واقعات بھی شامل تھے۔
ان ہی واقعات میں بعض ایسے سانحات بھی پیش آئے جنہوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ یروشلم کے ایک مشہور ہوٹل میں بم دھماکہ ہوا جس میں درجنوں لوگ مارے گئے، اور بعض فلسطینی دیہاتوں میں قتلِ عام کے واقعات بھی تاریخ میں درج ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان گروہوں سے وابستہ بعض افراد بعد میں ریاستی سیاست کے اہم عہدوں تک پہنچ گئے۔
یہی وہ تاریخی حقیقتیں ہیں جنہیں گودی میڈیا بڑی مہارت کے ساتھ چھپا دیتا ہے۔ وہ کبھی اس تاریخ کا ذکر نہیں کرتا، کیونکہ اگر یہ حقائق عوام کے سامنے آ جائیں تو اس کا پورا بیانیہ زمین بوس ہو جائے گا۔ اس لیے وہ سچ کو دفن کر کے ایک نئی کہانی سناتا ہے جس میں ظالم مظلوم بن جاتا ہے اور مظلوم کو ہی مجرم بنا دیا جاتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ کون سا ملک طاقتور ہے اور کون سا کمزور۔ اصل سوال یہ ہے کہ انصاف کا معیار کیا ہے۔ اگر کسی قوم کی سرزمین چھینی جائے، اس کے گھروں پر بم برسائے جائیں، اس کے بچوں اور عورتوں کو مسلسل خوف میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے، تو پھر دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کا اصل چہرہ کہاں ہے۔
گودی میڈیا کے شور، اس کے بلند نعروں اور اس کی چاپلوسی سے حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی۔ تاریخ کے صفحات آج بھی موجود ہیں، اور جو شخص تعصب سے آزاد ہو کر انہیں پڑھ لے، وہ خود سمجھ سکتا ہے کہ اس خطے کی کہانی میں مظلوم کون ہے اور مجرم کون؟
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے صرف آج کے واقعات دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے پیچھے طاقت، سرمایہ اور مفادات کی ایک لمبی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ ہندوستان کے چند بڑے سرمایہ داروں کے تجارتی مفادات اسرائیل کے ساتھ اس قدر گہرے ہو چکے ہیں کہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری وہاں کی بندرگاہوں، دفاعی صنعتوں، ڈرون ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے میں لگی ہوئی ہے۔ جب کاروبار کے دھاگے اس قدر مضبوطی سے بندھے ہوں تو یہ حیرت کی بات نہیں کہ بعض میڈیا ادارے بھی اسی سمت جھکنے لگتے ہیں۔ چنانچہ صحافت کی آزادی کا دعویٰ کرنے والے یہ چینل دراصل سرمایہ اور طاقت کے ترجمان بن جاتے ہیں، اور سچائی کی جگہ وہی بیانیہ سناتے ہیں جو ان کے سرپرست سننا چاہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ گودی میڈیا کے بعض اینکر اور رپورٹر اتنی جرات کے ساتھ فیصلے سناتے ہیں جیسے وہ تاریخ کے منصف ہوں۔ مگر ان کی گفتگو میں ایک عجیب خاموشی بھی ہوتی ہے — وہ خاموشی جو تاریخ کے تلخ اور شرمناک حقائق کو چھپا دیتی ہے۔
اگر کوئی شخص واقعی انصاف کے ساتھ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ فلسطین کی سرزمین پر موجودہ تنازع اچانک پیدا نہیں ہوا۔ بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں جب یورپ میں یہودیوں پر مظالم ہوئے تو بڑی تعداد میں لوگ فلسطین کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ اس وقت فلسطین برطانوی اقتدار کے زیر اثر تھا، اور اسی ماحول میں ایک صہیونی ریاست قائم کرنے کا منصوبہ خاموشی سے آگے بڑھایا گیا۔
شروع میں زمینیں خرید کر آبادیاں بسانے کی کوشش کی گئی، مگر جب یہ راستہ سست اور مشکل ثابت ہوا تو طاقت اور خوف کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔ اس زمانے میں کئی مسلح گروہ سرگرم تھے جو بستیوں پر حملے کرتے، لوگوں کو خوف زدہ کر کے ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرتے اور پورے علاقے میں دہشت کا ماحول پیدا کرتے تھے۔
تاریخ کے صفحات میں ایسے لرزہ خیز واقعات درج ہیں جنہوں نے پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ یروشلم کے ایک بڑے ہوٹل میں دھماکہ ہوا جس میں درجنوں لوگ مارے گئے، کئی خاندان اجڑ گئے اور پورا شہر خوف کے سائے میں ڈوب گیا۔ اسی طرح فلسطین کے کئی دیہات ایسے سانحات کے گواہ ہیں جہاں بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ یہ واقعات صرف چند حادثات نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فضا کا حصہ تھے جس میں خوف اور جبر کے ذریعے زمینوں اور بستیوں کو خالی کرایا گیا۔
اور پھر تاریخ کی ایک عجیب ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ انہی تحریکوں سے وابستہ بعض افراد بعد کے زمانوں میں ریاستی اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچے۔ جو لوگ کبھی تشدد اور خونریزی کے الزامات میں گھِرے ہوئے تھے، وہی بعد میں اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔ یہ حقیقت تاریخ کے اوراق میں واضح طور پر موجود ہے، مگر گودی میڈیا کی زبان پر اس کا ذکر نہیں آتا۔ وہ اس باب کو ایسے چھپا دیتا ہے جیسے یہ حقیقت کبھی لکھی ہی نہ گئی ہو۔
آج بھی اگر کوئی شخص غزہ کی طرف نظر ڈالے تو انسانیت کا دل کانپ اٹھتا ہے۔ وہاں کے مناظر کسی جنگی میدان کے نہیں بلکہ ایک محصور بستی کے ہیں جہاں اسپتالوں پر بم گرتے ہیں، اسکول ملبے میں بدل جاتے ہیں اور معصوم بچوں کی لاشیں مٹی اور گرد میں ڈھکی ہوئی ملتی ہیں۔ گھروں کے ملبے سے ماں اپنے بچوں کو تلاش کرتی ہے، باپ اپنے خاندان کی قبریں خود کھودتا ہے، اور پوری بستی ایک اجتماعی ماتم گاہ بن جاتی ہے۔ یہ وہ منظر ہے جسے دیکھ کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔
مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی وقت گودی میڈیا کے اسٹوڈیوز میں بیٹھے ہوئے بعض اینکر اور تجزیہ کار ایسی تباہی کو یا تو معمولی واقعہ بنا کر پیش کرتے ہیں یا پھر اس کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ وہ سچ کے اس زخم پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور ایک ایسا بیانیہ گھڑتے ہیں جس میں مظلوم ہی مجرم بن جاتا ہے۔ یہ صحافت نہیں بلکہ ضمیر فروشی کی وہ بدترین شکل ہے جس میں سچائی کو دفن کر کے جھوٹ کو سجا کر پیش کیا جاتا ہے۔
غزہ کے کھنڈرات، تباہ شدہ اسپتال، خون میں بھیگی گلیاں اور ملبے تلے دبے معصوم بچے آج بھی دنیا سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر انسانیت کی عدالت کہاں ہے؟ اور وہ میڈیا جو خود کو سچ کا علمبردار کہتا ہے، وہ ان مظالم کے سامنے اتنا خاموش کیوں ہے؟
شاید اس لیے کہ جب صحافت طاقت کے دربار کی خادمہ بن جائے تو سچائی کی آواز سب سے پہلے اسی کے گلے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے۔
آج بھی غزہ، لبنان اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حملے اسی پرانی کہانی کا تسلسل ہی ہیں۔ اسپتالوں، اسکولوں اور عام شہری علاقوں پر بمباری کی خبریں اکثر عالمی میڈیا میں سامنے آتی ہیں۔ مگر گودی میڈیا کے اسٹوڈیوز میں بیٹھے ہوئے بعض اینکر اس حقیقت کو یا تو نظر انداز کر دیتے ہیں یا پھر اسے ایسے پیش کرتے ہیں جیسے یہ سب کچھ کسی خالی میدان میں ہو رہا ہو۔
ان حالات کو دیکھ کر ہر باشعور انسان کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ اگر کسی ریاست کی بنیاد ہی تصادم، جبر اور خوف کے ماحول میں رکھی گئی ہو تو کیا اسے مکمل طور پر بے قصور قرار دیا جا سکتا ہے؟
اور کیا تاریخ کے ان صفحات کو نظر انداز کر کے کسی ایک فریق کو یکطرفہ طور پر مجرم ٹھہرا دینا انصاف کہلائے گا؟
ضرورت سے زیادہ چاپلوسی آخرکار انسان کو عزت نہیں بلکہ رسوائی ہی دیتی ہے۔ درباروں کی دہلیز پر سر رگڑنے والوں کو شاید ھڈی کے چند ٹکڑے تو مل جاتے ہیں، مگر انجام اکثر ذلت ہی ہوتا ہے۔ یہی انجام اس رپورٹر کے ساتھ بھی پیش آیا جس نے ایران کو دہشت گرد قرار دینے میں بڑی بہادری دکھائی تھی۔
خبر یہ سامنے آئی کہ اسی ٹی وی چینل کے تل ابیب میں موجود رپورٹر کو اسرائیلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک براہِ راست نشریے کے دوران اس نے اسرائیلی وزیر اعظم کی موجودگی کی جگہ کا ذکر کر دیا۔ جنگ جیسے حساس ماحول میں یہ ایک ایسی غلطی تھی جس کے نتائج فوراً سامنے آ گئے۔
اطلاعات کے مطابق اسی لوکیشن کی بنیاد پر ایران نے اس مقام کو نشانہ بنایا جہاں نیتن یاہو موجود تھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر طرح طرح کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ بعض حلقوں میں یہ خبریں بھی پھیل گئیں کہ حملے میں نیتن یاہو مارا گیا ہے۔ اس خبر کے ساتھ ہی دنیا کے مختلف حصوں میں لوگ، خوشی جذبات کا اظہار کرنے لگے۔
یہ واقعہ دراصل ایک تلخ سبق بھی ہے۔ جو لوگ طاقتوروں کی خوشامد میں سچ کو مسخ کرتے ہیں اور دوسروں کو دہشت گردی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے پھرتے ہیں، وہ خود بھی کبھی نہ کبھی اسی نظام کی گرفت میں آ جاتے ہیں جس کی وہ تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ صحافت اگر حق اور انصاف کی آواز نہ رہے تو وہ صرف چاپلوسی کا کاروبار بن کر رہ جاتی ہے، اور ایسے کاروبار کا انجام اکثر عزت نہیں بلکہ شرمندگی ہی ہوتا ہے۔
مختصراً یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ صرف موجودہ سیاست کی پیداوار نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی سلسلہ ہے۔ گودی میڈیا چاہے جتنا شور مچائے، مگر تاریخ کے اوراق جھوٹ نہیں بولتے۔ جو شخص تعصب سے آزاد ہو کر انہیں پڑھ لے، وہ خود سمجھ سکتا ہے کہ اس خطے میں مظلوم کون ہے اور ظلم کا اصل چہرہ کہاں ہے۔









آپ کا تبصرہ