کربلا کا حقیقی پیغام؛ شبِ عاشوراء اور حضرت حرؑ کا انتخاب

حوزہ/شبِ عاشوراء درحقیقت تقدیر بدلنے والی رات ہے؛ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے یزید کے لشکر کی طرح تدبیر میں گزارتے ہیں یا اس رات کو حسین علیہ السلام کی طرح عبادت میں گزارتے ہیں۔

تحریر: عامر حسین کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی| شبِ عاشوراء درحقیقت تقدیر بدلنے والی رات ہے؛ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے یزید کے لشکر کی طرح تدبیر میں گزارتے ہیں یا اس رات کو حسین علیہ السلام کی طرح عبادت میں گزارتے ہیں۔

یہ جملہ کربلا کے پورے فلسفے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیاوی تدبیریں انسان کو عارضی فائدہ تو پہنچا سکتی ہیں، لیکن وہ روح کو مٹی میں ملا دیتی ہیں۔ یزیدی لشکر مادی اسباب کو سب کچھ سمجھ رہا تھا، مگر وہ تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔ اس کے برعکس، شبِ عاشورہ کی وہ چند گھڑیاں جنہیں امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں نے تلاوتِ قرآن اور نمازوں میں گزارا، انہوں نے کائنات کی تقدیر بدل دی۔

حضرت حرؑ کا لشکرِ حسینیؑ میں شامل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے اور تقدیر بدلنے کے لیے صرف ایک سچے ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری راتیں اور ہمارے دن کس راستے پر گزر رہے ہیں؟ کیا ہم دنیا کی عارضی تدبیروں کے اسیر ہیں، یا حسینؑ ابن علیؑ کی طرح خدا کی بندگی میں سکون تلاش کرتے ہیں؟ کربلا کل بھی ایک انتخاب تھی، کربلا آج بھی ایک انتخاب ہے۔کربلا کا یہ انتخاب محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک مستقل دعوتِ فکر ہے۔ حضرت حر علیہ السلام کا فیصلہ ہمیں سکھاتا ہے کہ گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ کر بھی اگر انسان حق کی آواز پر لبیک کہے، تو مٹی سے کندن بن سکتا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہمارے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: ایک مادی مفادات اور دنیاوی خوف کا راستہ، اور دوسرا حق، سچائی اور قربانی کا راستہ۔ سچا حسینی وہی ہے جو حالات کی سنگینی کو دیکھنے کے بجائے اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے اور مصلحتوں کو چھوڑ کر حق کا دامن تھام لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کربلا کے حقیقی فلسفے کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں حضرت حرؑ جیسا سچا اور جرات مندانہ انتخاب کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو دنیا کی عارضی چمک دمک اور باطل تدبیروں سے دور کر کے امام حسین علیہ السلام کے نقشِ قدم پر چلنے اور خالص بندگی کا سکون پانے کا حوصلہ بخش۔ آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha