حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مقیم علماء و طلاب کشمیر کی جانب سے قائم موکبِ طلاب کشمیر ان شبوں میں انقلابی اور با بصیرت عوام کی میزبانی اور خدمت رسانی کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں عوامی اجتماعات کے ساتھ ساتھ تبلیغی، سماجی اور میڈیا سرگرمیاں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، موکبِ طلابِ کشمیر میں بڑی تعداد میں لوٹشریک ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر حوزۂ علمیہ کے بعض ذمہ داران اور علمی و سماجی شخصیات نے بھی موکب کا دورہ کیا اور خادمانِ موکب کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے تبلیغی، سماجی اور میڈیا سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے طلاب کے جذبۂ خدمت اور عوامی یکجہتی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
واضح رہے کہ کشمیر کو عرصۂ دراز سے “ایرانِ صغیر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر اور برصغیر کے طلاب نے قم میں عوامِ ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنی دینی، انقلابی اور انسانی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
موکب میں مختلف موضوعات پر عوامی گفتگو اور فکری نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جن میں عوامی بیداری، سماجی سرمایہ کے تحفظ کے دینی و مقامی نمونے، دشمن کے میڈیا حربوں کے مقابلے میں حوزہ و جامعہ کی ذمہ داری، اور موجودہ حالات سے متعلق آزاد موضوعات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ موکب میں اردو و فارسی زبان میں حماسی کلپس کی نمائش، کشمیری شیعوں کی جانب سے ایران کے لیے امدادی خدمات کی تصاویر، کشمیری خواتین کی طرف سے سونے کے عطیات کی جھلکیاں، اور غیر ایرانی طلاب کی شبانہ عوامی اجتماعات میں فعال شرکت خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

موکب کے خادمان نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ایران ہمارے لیے حرم اور خطِ قرمز کی حیثیت رکھتا ہے، اسی لیے ہندوستان، کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے طلاب و مومنین عوامِ ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ ایران تنہا نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ خصوصاً برصغیر کے مسلمان ہر قدم پر اس کے ساتھ ہیں۔

خادمانِ موکب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ خدمت چند دنوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رکھی جائے گی، تاکہ عوامی خدمت، یکجہتی اور انقلابی شعور کے اس پیغام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم عوامِ ایران کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آخر دم تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ان شاء اللہ اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی و سربلندی کے لیے دعائیں اور عملی خدمات جاری رہیں گی۔









آپ کا تبصرہ