حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کو درپیش موجودہ جنگی صورتحال کے دوران قم المقدسہ میں جو مناظر دیکھنے میں آئے، وہ نہ صرف غیر معمولی بلکہ امتِ مسلمہ کی بیداری، ہمدردی اور باہمی ربط کی ایک زندہ اور عملی تصویر بن گئے ہیں۔

ایک طرف ایران کی مسلح افواج اور دفاعی ادارے ملک کے دفاع میں مصروف ہیں، تو دوسری جانب عوام، علماء اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے طلاب میدانِ عمل میں اتر کر اپنی ذمہ داری ادا کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہی دلنشین اور ولولہ انگیز مناظر میں سب سے نمایاں کردار ہندوستانی طلاب اور مؤمنین کا ہے، جنہوں نے قم کی سرزمین پر خدمت و یکجہتی کی نئی تاریخ رقم کر دی۔


حوزہ نیوز کے نمائند کے مطابق قم المقدسہ میں مقیم ہندوستانی علماء، طلاب اور مختلف دینی و سماجی تنظیموں نے ایرانی عوام کے ساتھ عملی اظہارِ یکجہتی اور ان کے حوصلے بلند کرنے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد موکب قائم کیے ہیں، جن کی تعداد تقریباً چودہ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ پہلی مرتبہ اس وسعت کے ساتھ ہندوستانی طلاب کی اجتماعی اور منظم خدمت بھی دیکھنے میں آئی ہے۔


ان موکبوں میں “موکب اباعبدالله الحسین علیہ السلام” جو مجمع علماء و طلاب ہندوستان کے زیر اہتمام قائم کیا گیا ہے، مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ “موکب ہیئت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا” (خاکفرج، کوچہ ۱۳)، “موکب فلاح فاؤنڈیشن” (چہارراہ نواب) جو مغربی بنگال کے طلاب کی جانب سے قائم کیا گیا، “موکب عشاق الحسین علیہ السلام” طلاب مدرسہ امام خمینی فلک جہاد “موکب ہندیہ” جو مدرسہ شہابیہ کے سامنے قائم ہے، “موکب مؤسسہ یادبود امام خمینیؒ کارگل” چہار راہ غفاری پر علماء و طلاب کشمیر اور طلاب مدرسہ القائم” کی جانب سے خیابان موسی صدر کوچہ ۲۹ و نیروگاہ توحید پر طلاب مدرسہ ثقلین سمیت دیگر موکب شامل ہیں۔ ہر موکب اپنی جگہ خدمت، نظم و ضبط اور اخلاص کی ایک الگ داستان سناتا دکھائی دیتا ہے۔


ان موکبوں میں نہ صرف زائرین اور راہگیروں کی خدمت کے لیے شربت، چائے، پانی اور کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں بلکہ موجودہ نازک حالات میں عوامی حوصلہ افزائی، دلی تسلی اور اخوتِ اسلامی کا پیغام بھی عام کیا جا رہا ہے۔ دن رات جاری رہنے والی یہ خدمات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خدمتِ خلق صرف ایک وقتی جذبہ نہیں بلکہ ایک شعوری اور دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیا جا رہا ہے۔

قم کی شاہراہوں اور گلی کوچوں میں یہ منظر خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا رہا کہ ہندوستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً مغربی بنگال، کشمیر، کارگل، اتر پردیش اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلاب اور مؤمنین ایرانی عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔ ان کے چہروں پر عزم، زبان پر دعائیں اور ہاتھوں میں خدمت کا جذبہ اس حقیقت کی عکاسی کر رہا تھا کہ ایران کے ساتھ ان کا تعلق محض تعلیمی یا وقتی نہیں بلکہ گہری دینی، روحانی اور قلبی وابستگی پر مبنی ہے۔

حوزہ نیوز کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان موکبوں میں خدمات انجام دینے والے طلاب کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سب سے بڑی ذمہ داری خدمتِ خلق، حوصلہ افزائی اور اتحادِ امت کو مضبوط کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ایران اس وقت جس آزمائش سے گزر رہا ہے، اسے صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ آزمائش ہے، جس میں ہر مسلمان خود کو شریک محسوس کرتا ہے۔

موکبوں کے منتظمین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ خدمت کا سلسلہ وقتی نہیں بلکہ حالات کے پیش نظر آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔ ان کے بقول، دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ضروری ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران تنہا نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر کے مسلمان، خصوصاً برصغیر کے مؤمنین، ہر مشکل گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

قم المقدسہ میں ہندوستانی طلاب کے یہ موکب درحقیقت صرف خدمت کے مراکز نہیں بلکہ اتحاد، اخوت، ایثار اور بیداری کے ایسے روشن مینار بن چکے ہیں جو پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جب امتِ مسلمہ ایک ہو جائے تو کوئی طاقت اسے تنہا نہیں کر سکتی۔
موکب بنام اردو زبان، مقابل بیت امام خمینیؒ میدان روح اللہ پر ہے جو بعد نماز مغربین ۸بجے سے ۱۲بجے شب تک، مولانا سید شمع محمد رضوی اور مولانا سید صابر رضا رضوی کی نظارت میں خدمت انجام دے رہا ہے۔








موکب اباعبداللہ الحسین علیہ السلام از طرف مجمع علماء و طلاب ہندوستان



موکب ہیئت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا



موکب چہارراہ توحید



موکب فلاح فاؤنڈیشن، چہار راه نواب، منجانب طلاب مغربی بنگال ہند




موکب ہندیہ، مقابل مدرسہ شہابیہ





موکب منجانب مؤمنین خوجہ ہند مقیم قم، خیابان صدوقی و مفید



موکب مؤسسہ یاد بود امام خمینی رح طلاب کرگل مقیم قم






موکب طلاب مدرسہ القائم
















آپ کا تبصرہ