حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بنارس ہندوستان کے تعزیتی پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے۔
بسمہ تعالیٰ
مصیبتِ عظمیٰ
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
آہ! آج ہم پر غم کا یہ کیسا پہاڑ ٹوٹ پڑا، واویلا صد واویلا۔
سب سے پہلے تعزیت حضرت ولیِّ عصر امامِ زمانہ (عج) کی بارگاہ میں کہ آج اُن کا نائبِ برحق امریکہ اور اسرائیل کی بربریت و درندگی کا نشانہ بن کر ہمارے درمیان سے رخصت ہو گیا۔
اے رہبرِ معظم! اے فرزندِ زہرا! اے خامنہ ای عزیز از جان!
اگر کربلا نہ ہوتی تو ہم سب آج آپ کی اس المناک ترین خبرِ شہادت کو سن کر بے موت مر جاتے، مگر آپ نے کربلا کی وراثت پائی اور اسلام و شریعت کے دفاع نیز قرآن و اہلِ بیتؑ کی محبت میں جامِ شہادت نوش فرمایا اور اپنی دیرینہ آرزو کو پہنچے۔
بدنصیب تو ہم ہیں جو آپ کے بعد بھی زندہ ہیں۔ اے کاش! ہم بھی آپ کی رکاب میں اس عظیم مرتبہ پر فائز ہوتے۔
آج ہمارا دل اتنا بے قرار اور درد و الم میں ڈوبا ہوا ہے کہ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح آپ کا سوگ اور غم منایا جائے کہ کچھ لمحوں کے لیے تسکین و تسلی کا سامان فراہم ہو سکے۔
ہم شکستہ دل اور غمزدہ وجود کے ساتھ تمام اربابِ اسلام، خاص طور پر مومنینِ بنارس سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس عظیم سانحہ کا بہت وسیع پیمانے پر متحدہ طور پر سوگ منایا جائے، دکانیں اور کاروبار بند رکھے جائیں، سب لوگ سیاہ لباس پہنیں، گھروں اور محلّوں میں سیاہ پرچم، سیاہ علم اور سیاہ بینر لگائے جائیں اور کم از کم ایک ہفتہ تک مسلسل سوگ کا ماحول رکھا جائے۔
مجالسِ عزا منعقد کی جائیں اور پورے وجود سے غم و الم کا مظاہرہ کر کے اپنے حسینی ہونے کا ثبوت پیش کیا جائے۔
اس کے علاوہ شہر کے تمام مؤمنین اور ماتمی انجمنیں علمِ مبارک، سیاہ پرچم اور سیاہ بینر وغیرہ کے ساتھ جلوس کی شکل میں، قبل از نمازِ ظہر وقت کی پابندی کے ساتھ صدر امامبارگاہ لاٹ، بنارس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اکٹھا ہوں، جہاں نمازِ ظہر سے پہلے جلسۂ عزا اور مجلسِ عزا کا انعقاد ہوگا۔
سوگ کے اس عظیم پروگرام میں سب کی شرکت ضروری اور لازمی ہے۔
والسلام
غم، مصیبت و عرض گزار
خادمِ دین و ملت
محمد ظفر الحسینی، بنارس










آپ کا تبصرہ