حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی پٹنم/ مدرسہ عالیہ سیدہ زینب (س) کے زیرِ اہتمام “شہید امام خامنہ ای اور نصرتِ امام (ع)” کے عنوان سے خواتین کے لیے دو روزہ اسلامی ورکشاپ 24 اور 25 اپریل 2026ء کو ایم آر فنکشن ہال، مچھلی پٹنم میں منعقد ہوئی، جس میں طالبات، اساتذہ اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
ورکشاپ کے مہمانِ خصوصی ہندوستان میں رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے نمائندہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالْمجید حکیم الٰہی تھے، جنہوں نے اپنے تفصیلی خطاب میں خواتین کے دینی، سماجی اور ثقافتی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے موجودہ دور کے چیلنجز اور ایک مسلمان خاتون کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر عبدالْمجید حکیم الٰہی نے اپنے خطاب کے آغاز میں شہید رہبر کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دور خواتین کے فعال کردار کا متقاضی ہے، اور ہندوستانی معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ ایسی باایمان، باعلم اور بااخلاق خواتین کا محتاج ہے جو اپنے زمانے کے تقاضوں سے آگاہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام ایسی عظیم خواتین سے روشن ہے جنہوں نے تہذیب و تمدن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ (س) نے اقتصادی اور فکری حمایت کے ذریعے رسالت کی بنیادوں کو مضبوط کیا، حضرت فاطمۃ الزہراء (س) عدل، معنویت اور تربیتِ نسل کا اعلیٰ نمونہ ہیں، جبکہ حضرت زینب کبریٰ (س) سیاسی شعور، بیداری اور سماجی بصیرت کی علامت ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان عورت کا کردار محض جذباتی یا حاشیائی نہیں بلکہ تمدنی اور تہذیبی ہے، اور کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی مؤثر شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے ہندوستان کی دینی اور سماجی ترقی میں خواتین کے کردار کو تین اہم جہات میں تقسیم کیا: دینی، سماجی اور ثقافتی کردار۔
انہوں نے کہا کہ خواتین گھر اور معاشرے میں قرآن و اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو فروغ دینے، نئی نسل کی اخلاقی و فکری تربیت، دینی تعلیمی مراکز میں شرکت اور اسلامی شناخت کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں دینی معلمات اور مربیات نئی نسل کی رہنمائی میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
سماجی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین خیراتی، تعلیمی، طبی اور نفسیاتی شعبوں میں فعال شرکت کے ذریعے معاشرے کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جبکہ ثقافتی سطح پر اسلامی شناخت کے دفاع، میڈیا کے درست استعمال اور اسلاموفوبیا کے مقابلے میں بھی خواتین کی ذمہ داریاں نہایت اہم ہیں۔
انہوں نے موجودہ دور میں مسلمان خواتین کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ثقافتی یلغار، شناخت کا بحران، معاشی و تعلیمی مسائل اور تفرقہ انگیزی ایسے بڑے مسائل ہیں جن کا مقابلہ بصیرت، علم اور اتحاد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ڈاکٹر حکیم الٰہی نے کہا کہ ایک مسلمان خاتون کے لیے دینی علم، عصری تعلیم، اخلاقی و روحانی تربیت، سماجی شعور اور اسلامی شناخت کے ساتھ فعال شرکت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مائیں امت کے مستقبل کی معمار ہیں اور صالح نسل کی تربیت سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے طالبات اور خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آج کی طالبات اور کل کی مربیات و رہنما ہیں، اور ہر وہ ادارہ جو خواتین کو بااختیار بناتا ہے، درحقیقت ایک پوری نسل کی تربیت کرتا ہے۔
ورکشاپ کے شرکاء نے خطاب کو نہایت بصیرت افروز اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیا، جبکہ منتظمین کے مطابق اس پروگرام کا مقصد خواتین میں دینی شعور، سماجی بیداری اور اسلامی شناخت کو مضبوط بنانا تھا۔









آپ کا تبصرہ