حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مچھلی پٹنم (آندھرا پردیش)/ بروزِ جمعہ ہندوستان کی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے مچھلی پٹنم میں شہید مقامِ معظم رہبری کی یاد میں مدرسہ عالیہ سیدہ زینب (س) کے زیرِ اہتمام ایم آر فنکشن ہال میں خواتین کے لیے دو روزہ عظیم الشان اسلامی ورکشاپ منعقد کی گئی، جس میں مختلف جامعات کی طالبات، خواتین اساتذہ اور معلمات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر ہندوستان میں نمائندۂ ولیِ فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالْمجید حکیم الٰہی نے خصوصی خطاب فرمایا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
مچھلی پٹنم میں “شہید خامنہ ای اور نصرتِ امام (ع)” کے عنوان سے دو روزہ خواتین اسلامی ورکشاپ کا انعقاد
یہ پروگرام “ شہید خامنہ ای اور نصرتِ امام (ع)” کے عنوان سے 24 اور 25 اپریل 2026ء کو منعقد ہوا، جو مقامِ معظم رہبری کے حوالے سے منعقدہ دو روزہ تربیتی و تعلیمی کورس کے اختتام پر ایک عظیم الشان تقریب کی صورت اختیار کر گیا۔

دو روزہ تربیتی کورس
منتظمین کے مطابق اس کورس میں مچھلی پٹنم اور حیدرآباد کی مختلف یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے طالبات نے شرکت کی۔ کورس کے دوران مقامِ معظم رہبری کی حیاتِ مبارکہ، شخصیت کے مختلف پہلوؤں اور ان کی فکری و تمدنی خدمات پر تفصیلی دروس دیے گئے۔

ایک ہزار سے زائد شرکاء
تقریب میں تقریباً ایک ہزار سے زائد طالبات، خواتین اور اساتذہ نے شرکت کی، جس سے پروگرام کی اہمیت اور عوامی پذیرائی نمایاں طور پر سامنے آئی۔ ورکشاپ میں عالمہ ممتاز مہدی (حیدرآباد)،عالمہ کنیز زہرا (حیدرآباد)، عالمہ سیدہ رضیہ فاطمہ (حیدرآباد)، عالمہ سیدہ طاہرہ رضوی (مچھلی پٹنم)، عالمہ خدیجہ فاطمہ (حیدرآباد) نے مختلف موضوعات پر درس اور بیان دئے۔ خاص طور پر مناب میں اسکول کے ننھے بچوں پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ظالمانہ شہادت پر مذمت اور شہادتِ آیت اللہ خامنہ ای تعزیت پیش کرتے ہوئے بی بی خدیجہ سلام اللہ علیہا کی قربانیاں، بی بی زہراء سلام اللہ علیہا کا طرزِ حیات، کربلا میں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا کردار پر مفصلا روشنی ڈالی گئی۔

نمائندۂ ولیِ فقیہ ہند کا خصوصی خطاب
اس موقع پر اپنے خصوصی خطاب میں ڈاکٹر عبدالْمجید حکیم الٰہی نے خواتین کے دینی، سماجی اور تمدنی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: “موجودہ دور میں باایمان، باعلم اور بااخلاق خواتین ہی امت کے مستقبل کی معمار ہیں، اور مسلمان عورت کا کردار معاشرے کی دینی، ثقافتی اور سماجی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ آج کا دور خواتین کے فعال کردار کا متقاضی ہے اور ہندوستانی معاشرہ ایسی باشعور خواتین کا محتاج ہے جو اپنے زمانے کے تقاضوں کو سمجھتی ہوں۔

انہوں نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ (س)، حضرت فاطمۃ الزہراء (س) اور حضرت زینب کبریٰ (س) کی عظیم شخصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تاریخِ اسلام ایسی عظیم خواتین سے روشن ہے جنہوں نے تہذیب و تمدن کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان عورت کا کردار محض جذباتی یا حاشیائی نہیں بلکہ ایک تمدنی اور تہذیبی کردار ہے، اور کسی بھی معاشرے کی ترقی خواتین کی مؤثر شرکت کے بغیر ممکن نہیں۔

نمایاں طالبات میں انعامات
تقریب کے اختتام پر تربیتی کورس میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کو نمائندۂ ولیِ فقیہ ہند کے ہاتھوں انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔
مناب کے شہید بچوں سے اظہارِ یکجہتی
پروگرام کے اختتامی مرحلے میں مدرسہ عالیہ سیدہ زینب (س) کی طالبات نے مناب ایلیمنٹری اسکول کے شہداء کی یاد میں سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور “WE INDIANS STAND WITH MINAB” کا نعرہ بلند کرتے ہوئے انصاف اور امن کے لیے اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے معصوم جانوں کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

شہر بھر میں بینرز اور پوسٹرز
قابلِ ذکر ہے کہ پروگرام کے حوالے سے مچھلی پٹنم کی شاہراہوں، کوچوں اور اہم مقامات پر بڑے بڑے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے تھے، جو شہید امت رہبرِ انقلاب اسلامی سے وفاداری، تجدیدِ عہد اور نمائندۂ ولیِ فقیہ ہند سے عقیدت کے اظہار کا مظہر تھے۔









آپ کا تبصرہ