حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ/ شہیدِ اُمت رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کے چہلم کے موقع پر علی گڑھ کے امام بارگاہ حسینیہ زہراؑ میں ایک پُروقار مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں مؤمنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مجلس کا آغاز قاری محمد اختر نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا، جس کے بعد جناب عباس نقوی نے حدیثِ کساء پیش کی۔ بعد ازاں محمد مصطفیٰ اور محمد اختر نے شہداء کی یاد میں سلام پیش کیا، جبکہ وسیم عباس امروہوی نے مناب کے معصوم بچوں کی یاد میں مرثیہ اور اشعار پیش کیے، جس سے حاضرین پر رقت طاری ہو گئی۔
اس موقع پر حجۃ الاسلام مولانا اختر عباس جونؔ نے اپنے خطاب میں شہداء کی پاکیزہ حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے رہبرِ معظم کی زندگی کو ایک مثالی نمونہ قرار دیا۔
اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنی تھیالوجی کے سابق صدر پروفیسر مفتی زاہد علی خان نے خطاب کرتے ہوئے مناب کے مظلوم بچوں کا تذکرہ کیا، جس پر مجلس میں موجود افراد اشکبار ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران اور فلسطین عالمی سطح پر تنہا دکھائی دیتے ہیں، جبکہ عرب دنیا کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
مجلس کے دوران "یادِ رہبر" کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی، جسے ولی حسن نے تیار کیا تھا۔ اس فلم میں رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد علی گڑھ میں ہونے والے احتجاجات، مجالس اور عوامی جذبات کی عکاسی کی گئی۔
بعد ازاں نمائندۂ ولیِ فقیہ در ہند حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خطاب کرتے ہوئے انسانوں کی مختلف اقسام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو معصوموں کی جان لے لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ انسانیت اور اپنے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔
انہوں نے ہندوستانی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کی حمایت کر کے انسانیت کا ساتھ دیا اور اپنی بیداری کا ثبوت پیش کیا۔ مزید برآں، انہوں نے رہبرِ معظم کی زندگی کے ایک واقعے کا ذکر کیا کہ جب انہیں جان کے خطرے کے پیش نظر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا، تو انہوں نے اپنی ذات کے بجائے قوم کی سلامتی کو ترجیح دی۔
مجلس کے اختتام پر حضرت امام حسینؑ کے مقتل کے مصائب بیان کیے گئے، جس سے فضا سوگوار ہو گئی۔ مولانا تقی نقوی نے ترجمہ کے فرائض انجام دیے، جبکہ نظامت کے فرائض محمد محبوب رضوی ہلوری نے بحسن و خوبی انجام دیے۔
اس مجلس میں علی گڑھ اور اطراف و اکناف سے آئے ہوئے افراد کی بڑی تعداد نے بلا تفریقِ مذہب و ملت شرکت کی۔ امام بارگاہ میں ایک عظیم اجتماع دیکھنے میں آیا، جہاں ہر طرف رہبرِ معظم اور شہداء کی تصاویر آویزاں تھیں۔ مجلس میں مناب کے معصوم بچوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔









آپ کا تبصرہ