ہفتہ 7 مارچ 2026 - 17:06
رہبر معظم کی مظلومانہ شہادت پر بڈگام اشکبار / ہزاروں سوگواروں کی شرکت، امریکہ و اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے  

حوزہ/ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مظلومانہ شہادت کے پر درد اور اندوہناک سانحے پر آج بھشتی زہرا ؑ پارک، نزدیک ڈی سی آفس بڈگام میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایک عظیم الشان اور پُرسوز مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائب امام عصر (عج)، ولی امر مسلمین جہاں اور مقام رہبری حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مظلومانہ شہادت کے پر درد اور اندوہناک سانحے پر آج بھشتی زہرا ؑ پارک، نزدیک ڈی سی آفس بڈگام میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے ایک عظیم الشان اور پُرسوز مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔

اس سوگوار اجتماع میں ہزاروں عقیدت مندوں شرکت کی اور شہید رہبر معظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے دکھ اور غم کا اظہار کیا۔مجلس کے دوران فضا رقت انگیز مناظر سے بھر گئی جب انجمن شرعی شیعیان سے وابستہ مرکزی ذاکرین نے انتہائی درد و سوز کے ساتھ مرثیہ خوانی کی۔ مرثیوں کی گونج نے ماحول کو سوگ اور حزن میں ڈبو دیا اور حاضرین مجلس اشکبار آنکھوں اور نوحہ و ماتم کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہے۔ اس موقع پر شرکاء نے شہید رہبر معظم کی عظیم خدمات، ان کی استقامت اور ان کے عالمی مشن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے افکار اور جدوجہد کو زندہ رکھا جائے گا۔رہبر معظم کی مظلومانہ شہادت پر بڈگام اشکبار / ہزاروں سوگواروں کی شرکت، امریکہ و اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے  

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے صدر انجمن شرعی شیعیان، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے نہایت پرجوش، مدلل اور ولولہ انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی مظلومانہ شہادت محض ایک شخصیت کا فقدان نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور دنیا کے مظلوم انسانوں کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ رہبر معظم ایک ایسے قائد تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اسلام کے تحفظ، مسلمانوں کی عزت اور مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی تھی۔انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کی زندگی استقامت، بصیرت اور استکبار کے خلاف جدوجہد کی روشن مثال تھی۔ انہوں نے دہائیوں تک عالمی سامراج اور صہیونی جارحیت کے خلاف ڈٹ کر آواز بلند کی اور مظلوم اقوام کے لیے امید کا چراغ بنے رہے۔ ان کی شہادت دراصل عالمی استکبار، بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی بوکھلاہٹ اور اخلاقی شکست کا واضح ثبوت ہے۔رہبر معظم کی مظلومانہ شہادت پر بڈگام اشکبار / ہزاروں سوگواروں کی شرکت، امریکہ و اسرائیل کے خلاف فلک شگاف نعرے  

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظلم کے ایوان ہمیشہ شہداء کے خون سے لرز اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم کا پاکیزہ خون رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ ان شاء اللہ یہ امریکہ اور اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کے زوال اور نابودی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طاقت کے نشے میں چور قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ ایک عظیم رہبر کو نشانہ بنا کر مزاحمت کی آواز کو خاموش کر دیں گی تو یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبر معظم کی شہادت ملت اسلامیہ کے عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کرے گی۔ جس طرح کربلا کے شہداء کے خون نے تاریخ کا دھارا بدل دیا تھا، اسی طرح آج یہ مظلومانہ شہادت پوری امت مسلمہ کے اندر بیداری، مزاحمت اور اتحاد کی نئی روح پھونکے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں ظلم و جارحیت کے مرتکب عناصر کے لیے اب کوئی محفوظ پناہ گاہ باقی نہیں رہے گی کیونکہ مظلوم اقوام اپنے حقوق کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔صدر انجمن نے کہا کہ رہبر معظم کی سب سے بڑی نصیحت امت مسلمہ کے درمیان اتحاد، آزادی کا تحفظ اور سرزمین کی سالمیت کی پاسداری تھی۔

انہوں نے کہا کہ آج اس سانحے کے بعد سب سے بڑی ذمہ داری یہی ہے کہ امت مسلمہ تفرقہ اور انتشار سے بچتے ہوئے وحدت و یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور ظلم و استبداد کے خلاف مشترکہ آواز بلند کرے۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر اس عظیم سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہید رہبر معظم کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ ان کے افکار، ان کے انقلابی مشن اور ان کی استقامت کی راہ کو زندہ رکھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے عوام جموں و کشمیر اور پوری امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ بیداری، اتحاد اور استقامت کے ساتھ ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند رکھیں۔مجلس کے اختتام پر بارگاہ الٰہی میں خصوصی دعا کی گئی کہ خداوند متعال شہید رہبر معظم کو اپنے اجداد طاہرین علیہم السلام کے جوار میں بلند ترین مقام عطا فرمائے، ملت اسلامیہ کو صبر جمیل اور بصیرت عطا کرے اور امت کو ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق نصیب فرمائے۔

مجلس کے اختتام کے بعد پُرعزم اور پُرسوز جلوس بھشتی زہرا ؑ پارک بڈگام سے بس اسٹینڈ بڈگام تک نکالے گئے۔جلوسوں کے شرکاء نے شہید رہبر معظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نوحہ خوانی اور ماتم کیا جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت میں فلک شگاف نعرے بلند کیے گئے۔ جلوس کے دوران فضا “لبیک یا حسینؑ”، “مرگ بر اسرائیل” اور “مرگ بر امریکہ” کے نعروں سے گونجتی رہی اور شرکاء نے شہید رہبر معظم کی قربانی کو مزاحمت، استقامت اور بیداری کی علامت قرار دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha