تحریر: مولانا سید محمد فائز باقری، حوزہ علمیہ قم المقدسہ
حوزہ نیوز ایجنسی| قافلہِ حسینی کی گونج آج بھی تاریخ کے افق پر سنائی دیتی ہے—ایک ایسا قافلہ جو جمود یا سمجھوتے کے لیے نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین تحریک، انقلاب اور متحرک قوت کا آغاز کرنے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ کربلا نے ہمیں سکھایا کہ زندگی کا اصل جوہر بامقصد عمل اور پُرعزم جدوجہد میں مضمر ہے۔ محرم کے ان ایام میں—جو بیک وقت عظیم الشان وقار اور گہرے حزن و ملال کا امتزاج ہیں—اور اس مہینے میں ہم ایک ایسے عزادار، کربلا کے پیروکار اور حسینی کی تشییع جنازہ میں شریک ہوئے جو جدید دور میں امت کی تحریک اور ارتقا کے عظیم معمار تھے: یعنی رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای طاب ثراہ؛ وہ شخصیت جن کا عملی کردار—مدارسِ دینیہ کے طلبہ کے سادہ اور معمولی حجرات سے لے کر امت کی رہنمائی کے بلند ترین منصب تک—زہد و تقویٰ، گہری بصیرت اور راہِ خدا میں مسلسل جدوجہد کا ایک مکمل اور روشن نمونہ رہا۔
آپ نے تحریکِ عاشورہ کی روح کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے اسلامی ترقی کے نظریے کو محض ایک معاشی فارمولے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے مقدس تہذیبی جہاد کے طور پر پیش کیا جس کا مقصد عالمی استکبار کی فکری اور مادی زنجیروں سے آزادی حاصل کرنا ہے۔
اس تحریک کی نظریاتی وضاحت کرتے ہوئے، شہید خامنہ ای نے مادہ پرستانہ ترقی کے اس مغربی ماڈل کو سختی سے مسترد کیا جو انسانیت کو مشین اور سرمائے کی گرفت میں جکڑ لیتا ہے۔ شہید انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کے اس ابدی پیغام سے الہام لیتے ہوئےجو آپ نے جنگ کے آخری لمحات میں اپنے مدمقابل آنے والے بنی امیہ کے طرفداروں کو خطاب کرتے ہو ارشاد فرمایا: "اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تم قیامت کا خوف نہیں رکھتے..." اس جیسی پرجوش پکار کے ذریعے لوگوں کو آزادی اور وقار کی طرف بلایا تھا—آپ نے یہ واضح کیا کہ الہی وحی اور اخلاقیات سے عاری ترقی، "جدید جاہلیت" اور نوآبادیاتی نظام (نیو کالونیلزم) کے سوا کچھ نہیں ہے۔
رہبر شہید کے نظریۂ ارتقا میں مادی اور روحانی پہلو دو ایسے بازو ہیں جو ایک دوسرے سے جدا نہیں کئے جاسکتے۔ مغربی تہذیب نے روح اور روحانیت کو نظر انداز کرکے اخلاقی تعطل کی کیفیت اختیار کرلی ہے؛ اس کے برعکس، اسلامی تہذیب کا وضع کردہ اسلامی ماڈلِ ارتقا جسے شہید رہبر نے اپنا نصب العین بنایا، مادی خوشحالی، ٹیکنالوجی اور سائنس کو روحانی تکمیل، قربِ الٰہی اور دنیا بھر میں توحید کے قیام کی راہوں کے طور پر دیکھتا ہے۔ توحید پر مبنی یہ نقطۂ نظر اشرافیہ کے فکر و خیال کے دائرے کو استعماری اثرات سے آزاد کرانے کی بنیادی اساس فراہم کرتا ہے، جس سے وہ فکری تقلید کی زنجیریں توڑنے اور اپنے مقامی و خود ساختہ ماڈل تشکیل دینے کے قابل ہوسکتے ہیں۔
شہید خامنہ ای کا عملی کردار اور شخصیت ترقی کے اس نمونے کی مکمل عکاس تھی۔ جہاں مادہ پرست مکاتبِ فکر ترقی کو عہدیداروں کی نمود و نمائش اور عیش و عشرت سے تعبیر کرتے ہیں، وہیں رہبر شہید کی سادہ طرزِ زندگی، تکلفات سے پاک زاہدانہ روش اور پسماندہ عوام کے ساتھ گہرے تعلق نے ان غلط تصورات کو باطل ثابت کردیا۔ "ہم کرسکتے ہیں" (We Can) کے اصول پر پختہ یقین رکھنے والے شہید، جہادی اقدامات، قومی ترقی اور محروم طبقات کی بے لوث خدمت کے ہمیشہ پرزور حامی اور علمبردار رہے۔ آپ کے کردار میں پائی جانے والی یہ مسلسل متحرک کیفیت دراصل کربلا میں مظاہرہ کیے جانے والے اس صبر کا عملی اظہار تھی—یعنی ایک ایسا فعال اور تعطل کو توڑنے والا صبر جو خطرات اور ظالمانہ پابندیوں کو ایسے مواقع میں بدل دیتا ہے جن کے ذریعے امت کی بے پناہ داخلی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جاسکے اور باایمان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جاسکے۔
رہبر شہید کے نزدیک، اس ترقی کا ایک بنیادی ستون سماجی انصاف کے ساتھ اس کا اٹوٹ تعلق ہے۔ آپ نے ایسی کسی بھی ترقی کو مسترد کردیا جو طبقاتی تفریق اور دولت کے چند مخصوص ہاتھوں میں ارتکاز کا باعث بنے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے اس خونیں قیام سے سبق حاصل کرتے ہوئے — جس کا بنیادی فلسفہ ہی معاملات کی اصلاح اور عدل و انصاف کا قیام تھا — شہید خامنہ ای نے انصاف کو اسلامی ترقی کی روح اور جوہر قرار دیا۔ جو تہذیب معاشرے کے چہرے سے محرومی کی گرد صاف کرنے اور تمام شہریوں کی ترقی کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے، وہ اسلام کی حقیقی روح سے کوسوں دور ہے۔ چنانچہ، معاشرے میں دولت اور فکری قوت کی منصفانہ تقسیم بدعنوانی اور انحراف کے خلاف اس نظام کے اندرونی تریاق کا کام دیتی ہے۔
آج، رہبر شہید کا پاکیزہ خون ہمارے تہذیبی راستے کی حقانیت اور شہادت کی سرخ میراث کے ساتھ اس کے گہرے تعلق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کی شہادت نے انصاف اور استعمار سے آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی ہے اور اس متحرک نمونے کو عملی جامہ پہنانے کے حوالے سے اشرافیہ اور ذمہ داران کی ذمہ داریوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ نواسے رسول شہید اعظم شہید انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال شہادت سے الہام لیتے ہوئے اور شہید خامنہ ای کے گراں قدر فکری و عملی جد وجہد کے ورثے پر انحصار کرتے ہوئے، ہم عہد کرتے ہیں کہ تعمیر و ترقی اور سائنسی و مادی پیش رفت کے سفر میں توحیدی اقدار سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے؛ بلکہ مومنین کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، ہم انسانیت کے سامنے ایک 'نئی اسلامی تہذیب' کے افق کو آشکار کرنے کا عزم کرتے ہیں جو ان تمام جدوجہد کا حتمی ہدف ہے۔ عاشورہ کے شہداء کے پاکیزہ خون سے شروع ہونے والا یہ سفر، ہمارے دور کے شہداء کے خون کے طفیل فتح کی بلندیوں اور حق کے ظہور تک پہنچے گا۔









آپ کا تبصرہ