حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی معروف و عروس البلاد ممبئی کی مرکزی مسجد، مسجد ایرانیان کے امام جماعت و معروف خطیب و مفکر حجت الاسلام و المسلمین سید نجیب الحسن زیدی جو تشییع جنازہ شہید رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے ایران تشریف لائے اس موقع پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے انہوں نے خصوصی گفتگو کی۔
حوزہ: آپ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای رضوان اللہ کی شرکت کے سلسلہ سے ایران آئے ان چند دنوں میں دوران تشییع آپ نے کیا محسوس کیا؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: ایرانی قوم اور دنیا کےگوشے گوشے سے آئے حریت پسندوں نے ایک تاریخ رقم کر دی یہ دنیا کی واحد ایسی تشییع تھی جس میں کثیر تعداد میں مذہب و ملت سے ماوراء لوگوں نے اپنے محبوب و پسندیدہ قائد کے جنازے کے پیچھے چلتے ہوئے انکی راہ پر چلنے اور سامراج سے مقابلہ کا عہدکیا یہ ایک ایسا احساس ہے جوناقابل بیان ہے ۔
احساس کی کچھ کیفیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ کا لباس نہیں دیا جا سکتا، جہاں زبان خاموش ہو جاتی ہے اور دل خود اپنی ترجمانی کرنے لگتا ہے۔ ایسے لمحوں میں آنکھوں کے آنسو وہ بات کہہ دیتے ہیں جو ہزاروں جملے بھی بیان نہیں کر سکتے۔اور ہم نے اس تشییع جنازہ میں احساس کے مواج سمندر کودیکھا جوان بوڑھے عورتیں بچے سب اپنے جذبات کا اظہار کررہے دکھائی دئیے کوئی رہبر شہید کی تصویر سینہ سے لگائے تھا کوئی ہاتھوں میں سرخ پرچم لئیے تھا تو کوئی انتقام انتقام کی صدائیں بلند کر رہا تھا۔
کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں قید بیان و تحریر میں نہیں لایا جا سکتا کچھ ہستیاں وہ ہوتی ہیں جنکی عقیدت بیان نہیں ہوسکتی، جب محبت عقیدت کی منزل تک پہنچ جائے تو الفاظ راستہ کھو دیتے ہیں، قلم رک جاتا ہے زبان خشک ہو جاتی ہے اور دل کی دھڑکنیں خود ایک خاموش داستان لکھنے لگتی ہیں۔

بعض جدائیاں صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتیں بلکہ روح کے کسی گوشے میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیتی ہیں جسے زمانے کی کوئی صدا پُر نہیں کر سکتی۔
کچھ شخصیات کی عظمت کو الفاظ میں قید کرنا سورج کو چراغ میں سمونے کے مترادف ہے؛ ان کا ذکر زبان سے کم اور دل سے زیادہ کیا جاتا ہے۔
وہ لمحے جب محبت، احترام اور غم ایک ساتھ جمع ہو جائیں، وہاں آنسو بھی الفاظ بن جاتے ہیں اور خاموشی بھی ایک مکمل خطبہ بن جاتی ہے۔
کچھ رشتے وقت کے محتاج نہیں ہوتے مرجعیت و عوام کا رشتہ ایساہی ہے کچھ عظمتیں فاصلے سے کم نہیں ہوتیں، اور کچھ یادیں موت کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہتی ہیں اور رہبر شہید کی ذات ایسی ہی تھی جسے فراموش کرنے کا مطلب خود فراموشی ہوگا۔
حوزہ: الحمد للہ ہندوستان کے علماء مفکرین دانشور طبقے اور عوام سبھی نے اس عظیم تشییع میں رہبر شہید سے اپنے عشق کا اظہار کیا اسکے ہندوستانی تہذیبی ورثے اور ایران سے جڑی اس کی جڑوں کے پس منظر میں اسے آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: یقینا اس تشییع میں ہندوستانی عوام، علماء اور صاحبان فکر و نظر نے بہت خوبصورت کردار ادا کیا اور ق غیر مسلم مذہبی رہنماوں نے بھی اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا اور ہونا بھی چاہیئے۔
ایران اور ہندوستان کا تعلق صرف سفارتی روابط، تجارت یا سیاسی مفادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ہزاروں سال پر محیط ایک گہرا تہذیبی، علمی اور روحانی رشتہ ہے۔ دونوں سرزمینوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے افکار، زبان، ادب، فنون اور تہذیبی اقدار کو متاثر کیا ہے۔ فارسی زبان نے صدیوں تک ہندوستان کی علمی، ادبی اور انتظامی زندگی میں بنیادی کردار ادا کیا، جبکہ ہندوستان کی روحانی روایت، فلسفہ، فن اور ثقافت نے بھی ایرانی معاشرے پر اپنے نقوش چھوڑے۔
ہندوستان کے محلات، کتب خانوں، شاعری، موسیقی اور تعمیرات میں ایران کی تہذیبی خوشبو آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح ایران میں ہندوستان کے علمی اور ثقافتی اثرات کے آثار موجود ہیں۔ یہ تعلق کسی وقتی سیاسی اتحاد کا نتیجہ نہیں بلکہ دو قدیم تہذیبوں کا فطری میل ہے، جہاں انسانیت، علم، عدل، روحانیت اور اخلاقی اقدار مشترک بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔
اسی تاریخی پس منظر میں جب ایران کی کسی عظیم شخصیت کا انتقال یا شہادت ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا کے ان معاشروں تک پہنچتے ہیں جن کے دل ایران کے ساتھ تہذیبی اور روحانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
حوزہ: ہمارا ایران سے ہزاروں سالوں کا تہذیبی و لسانی اشتراک رہا ہے ایران و ہند کے مابین تہذیبی اشتراک کے تناظر میں رہبر کی شخصیت کو کس زاویئے سے دیکھتے ہیں؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی شخصیت بھی اسی تناظر میں ہندوستان میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی علمی، سیاسی اور فکری زندگی کو صرف ایک ملک کے رہنما کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر اور قائد کے طور پر دیکھا گیا جس نے اپنی زندگی کو مزاحمت، خود مختاری، عدل اور مظلوم اقوام کی حمایت جیسے اصولوں کے لیے وقف کر دیا اور انہیں اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔
حوزہ: کیا رہبر شہید کی اس عظیم الشان تشییع کو قومی سوگ کا نام دیا جا سکتا ہے؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای رضوان اللہ تعالٰی کی شہادت کے 4 ماہ بعد ہونے والی عظیم الشان تشییع کو صرف ایک قومی سوگ کی تقریب قرار دینا اس کے حقیقی مفہوم کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ منظر ایک بڑے تہذیبی، سماجی اور سیاسی اظہار میں تبدیل ہوگیا۔ تہران، قم، مشہد، نجف اور کربلا جیسے مقدس مراکز میں لاکھوں انسانوں کی شرکت نے یہ پیغام دیا کہ بعض شخصیات اپنی زندگی میں صرف ایک منصب کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ وہ ایک فکر، ایک نظریے اور ایک تاریخی شعور کی علامت بن جاتی ہیں۔
حوزہ: اس عظیم تشییع کا اہم پیغام آپ کی نظر میں؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: اس عظیم اجتماع نے یہ واضح کیا کہ کسی رہنما کی اصل طاقت صرف حکومتی اداروں سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد، فکری وابستگی اور اجتماعی شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ تشییع کا یہ منظر ایک ایسی اجتماعی طاقت کا اظہار تھا جو محبت، عقیدت اور ایک مشترکہ نظریے سے وجود میں آتی ہے۔
حوزہ: رہبر شہید کی زندگی میں جدو جہد اور انکے خدمات کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں انکے افکار و نظریات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: رہبر انقلاب کی زندگی جہد مسلسل، عزم پیہم اور علم و دانش و خدمت کے سفر سے عبارت تھی، شہیدکی پوری زندگی علم، جدوجہد اور فکری مزاحمت سے لبریز تھی ان کی نظر میں اسلامی تاریخ محض ماضی کا ایک قصہ نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی کا ایک زندہ پیغام ہے۔ وہ ائمہ اہل بیتؑ کی سیرت کو ظلم کے مقابلے میں حق کی جدوجہد، فکری بیداری اور اجتماعی ذمہ داری کے آئینے میں دیکھتے تھے۔

ان کا نظریہ یہ تھا کہ دین صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کی عزت، آزادی، عدل اور اخلاقی زندگی کی تعمیر کا مکمل نظام ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے اپنی زندگی کو علمی خدمت، سیاسی جدوجہد اور اسلامی اقدار کے دفاع کے لیے وقف کیا۔
اسی لیے ہم انہیں صرف ایک سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک ایسے عالمِ دین کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے اپنے علم کو عملی میدان میں استعمال کیا۔
حوزہ: ہندوستان کی عوام خاص کر غیر مسلم بھائیوں کی رہبر کے سلسلہ سے عقیدت کے بارے آپ کیا سوچتے ہیں؟ خصوصاً غیر مسلم بھائیوں میں رہبر شہید کے سلسلہ سے احترام کے پہلو؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: ہندوستان کی تہذیب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مختلف مذاہب اور نظریات رکھنے والے لوگ بھی عظیم شخصیات کے کردار، اخلاق اور انسانی خدمات کا احترام کرتے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کے لیے ہندوستان میں پائی جانے والی عقیدت کو بھی اسی وسیع تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بہت سے غیر مسلم ہندوستانی حلقے ایران کی تہذیب، اس کی خود مختاری کی جدوجہد، علمی روایت اور عالمی سیاست میں اس کے کردار کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی شخصیت کا احترام صرف مذہبی وابستگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے کردار، استقلال، فکری قوت اور مظلوم انسانوں کے لیے آواز بلند کرنے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔
ہندوستان کی سرزمین نے ہمیشہ ان شخصیات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے جنہوں نے اپنی زندگی اصولوں، قربانی اور بلند مقاصد کے لیے وقف کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے قائدین، دانشوروں اور روحانی شخصیات کے لیے یہاں ایک خاص احترام پایا جاتا ہے۔
حوزہ: موجودہ دور میں ایران اور ہندوستان کے مابین آپسی تعلقات اور ہندوستانی عوام کی ایران سے محبت کے مستقبل کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: آج کے دور میں ایران اور ہندوستان کے تعلقات صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت بھی ہیں۔ دونوں ممالک اپنی تاریخی وراثت، ثقافتی قربت اور عوامی روابط کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ تہذیبوں کا مکالمہ، علمی تعاون، ثقافتی تبادلہ اور عوامی رابطے دونوں قوموں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای رح کی شہادت کے موقع پر ہندوستان میں پیدا ہونے والا احساسِ احترام اس بات کی علامت ہے کہ قوموں کے تعلقات صرف حکومتوں کے درمیان نہیں ہوتے بلکہ عوام کے دلوں میں بھی قائم ہوتے ہیں۔ تہذیبیں سرحدوں سے نہیں بلکہ اقدار، یادوں اور مشترک انسانی جذبات سے جڑی ہوتی ہیں۔

مختصر یہ کہ رہبر شہید کی زندگی اور ان کی یاد صرف ایران کے ایک تاریخی باب کا عنوان نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو آزادی، عدل، خود داری اور انسانی وقار کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایران اور ہندوستان کا رشتہ بھی اسی مشترک انسانی ورثے کی ایک روشن مثال ہے، جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ احترام، مکالمے اور امن کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔
حوزہ: ہندوستان کے علماء کی جانب سے تشییع رہبر کے سلسلہ سے کوئی خاص پیغام
مولانا سید نجیب الحسن زیدی: ہندوستان کے بزرگ علماء و دانشور طبقے نے اس تشییع جنازہ میں نہ صرف زبردست شرکت کی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ ایران کی عظیم سرزمین سے اٹھنے والی ایک صدا آج ہندوستان کے دلوں تک بھی پہنچی ہے۔ یہ صرف ایک قوم کے رہنما کی جدائی کا لمحہ نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی رشتے کی یاد کا موقع ہے جو صدیوں سے ایران اور ہندوستان کی تہذیبوں، علوم، ادب اور روحانی اقدار کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے۔
ہندوستانی علماء، دانشور طبقہ اور اہل فکر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایران کی سرزمین کوئی اجنبی خطہ نہیں؛ یہ وہ سرزمین ہے جس کے علم و ادب، حکمت و معرفت اور تہذیبی اثرات نے برصغیر کی فکری و ثقافتی زندگی کو صدیوں تک روشن کیا۔ فارسی زبان کی شیرینی، عرفان کی گہرائی، علم کی روایت اور انسانیت کے احترام کی قدریں دونوں تہذیبوں کے درمیان ایک مضبوط پل رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب ہم رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی تشییع کے عظیم منظر کو دیکھتے ہیں تو یہ صرف ایران کا ایک قومی واقعہ نظر نہیں آتا، بلکہ ایک ایسی شخصیت کو خراجِ عقیدت محسوس ہوتا ہے جس نے اپنی زندگی کو علم، استقلال، مظلوموں کی حمایت اور اصولی سیاست کے لیے وقف کیا۔
ہندوستانی معاشرے میں، خصوصاً اہل علم و دانش کے درمیان، آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت کو ایک صاحبِ فکر عالم، ایک صاحبِ بصیرت قائد اور ایک ایسی آواز کے طور پر دیکھا گیا جس نے عالمی سطح پر خود مختاری، انصاف اور انسانی وقار جیسے موضوعات کو اہمیت دی۔
ہم اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ ہندوستان کی تہذیب ہمیشہ ان شخصیات کا احترام کرتی آئی ہے جنہوں نے اپنے اصولوں، قربانیوں اور بلند مقاصد کے لیے زندگی گزاری۔ اسی روایت کے تحت مختلف مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد ایران کے اس غم کو ایک انسانی اور تہذیبی احساس کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔

یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قوموں کے تعلقات صرف حکومتوں کے درمیان نہیں ہوتے بلکہ دلوں، تہذیبوں اور مشترک اقدار کے درمیان بھی قائم رہتے ہیں۔ ایران اور ہندوستان کا تعلق اسی گہرے رشتے کی ایک روشن مثال ہے۔
آج ایران سوگوار ہے تو ہندوستان کے تہذیبی دل میں بھی ایک احساس کی لہر موجود ہے؛ کیونکہ عظیم شخصیات صرف ایک ملک کی میراث نہیں ہوتیں، وہ پوری انسانیت کے فکری سرمایہ کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ ایران و ہندوستان کے درمیان یہ تاریخی تہذیبی رشتہ مزید مضبوط ہو، دونوں قومیں علم، امن، عدل اور انسانی اقدار کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہیں، اور آنے والی نسلیں اس مشترک ورثے کو مزید روشن کریں۔
ایک چراغ اگر کسی ایک سرزمین پر روشن ہو تو اس کی روشنی صرف وہیں محدود نہیں رہتی؛ عظیم انسانوں کی فکر بھی ایسی ہی روشنی ہے جو سرحدوں سے آگے دلوں کو منور کرتی ہے۔

آخر میں خاص کر اپنے شہر ممبئی کے تمام علماء کی جانب سے میں حوزہ نیوز ایجنسی کےذریعہ یہ کہنا چاہوں گا تمام علماء اسلامی جمہوریہ ایران کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنے محبوب رہنما کے فقدان پر غمگین و رنجیدہ ہیں آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کے ساتھ اپنے تجدید عہد کا اعلان کرتے ہیں
جو علماء تشییع جنازہ میں شریک نہ ہو سکے انہیں اس بات کا غم ہے کہ موانع برطرف نہ ہو سکے اور وہ اس تاریخی اجتماع کا حصہ نہ بن سکے ممبئی شہر کے بزرگ عالم حجت الاسلام حسنین رضوی کراروی صاحب نے خاص طور پر حقیر سے ایران آئے وقت فون پر رہبر شہید سے اپنے والہانہ عشق کا اظہار کرتے ہوئے رندھے ہوئے گلے سے کہا کاش وہ بھی اس عظیم اجتماع کا حصہ ہوتے مگر طبیعت کی ناسازگاری و دیگر وجوہات کی بنا پر چاہتے ہوئے بھی نہ پہنچ سکے۔ انہوں نےفرمایا تھا آپ جہاں بھی جائیں ہماری طرف سے پیغام پہنچائے گا کہ ہم نہیں سکے لیکن ہم ہر طرح سے رہبر کی اطاعت و انکے فرمان پر عمل کرنے کا عہد کرتے ہیں اسی طرح حجہ الاسلام والمسلمین جناب آقای حسینی نے بھی جب سنا کہ حقیر کا تشیع میں شرکت کا ارادہ ہے تو اپنے جذبات کا اظہار فرماتے ہوئے رہبر شہید کےسلسلہ سے فرمایا: رہبر شہید نے اپنی شہادت کے ذریعہ جو چراغ جلایا ہے اسکی روشنی انشاءاللہ پوری دنیا کو روشن کرے گی ۔
اسی طرح حجہ الاسلام والمسلمین جناب آقای روح ظفر، حجہ الاسلام والمسلمین جناب عزیز حیدر ودیگر بزرگان نے بھی چلتے چلتے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور رہبر کے نقش قدم پر چلنے کا عہد کیا ۔









آپ کا تبصرہ