جمعرات 14 مئی 2026 - 14:19
ایران اور ہندوستان کے تعلقات محض سیاسی نہیں، تہذیبی اور روحانی رشتہ ہے: ڈاکٹر فرید الدین فریدعصر

حوزہ/ نئی دہلی میں ایران کے ثقافتی مشیر ڈاکٹر فرید الدین فریدعصر نے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایران اور ہندوستان کے تہذیبی، ثقافتی اور روحانی تعلقات کا مستقبل سیاسی تبادلوں سے کہیں گہرا ہے، دونوں ممالک کا رشتہ ہزاروں سال پرانی مشترکہ تاریخ، علم، ادب، عرفان اور حکمت پر استوار ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی مشیر، نئی دہلی میں ایران کلچر ہاؤس کے سربراہ اور ثقافتی نظم و نسق و فلسفۂ فنونِ دینی کے پروفیسر ڈاکٹر فرید الدین فریدعصر سے ایران اور ہندوستان کے تہذیبی، ثقافتی اور روحانی تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ اس گفتگو میں دونوں ممالک کے تاریخی رشتوں، مشترکہ تہذیبی ورثے، مذہب و ثقافت کے کردار، نئی نسل کے چیلنجز اور ثقافتی سفارت کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈاکٹر فریدعصر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور ہندوستان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور روحانی بنیادوں پر قائم ایک گہرا رشتہ ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سوال: ایران اور ہندوستان کے تعلقات کو آپ کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ صرف سیاسی تعلق ہے یا اس سے کہیں زیادہ گہرا رشتہ موجود ہے؟

جواب: ایران اور ہندوستان کا تعلق صرف دو ملکوں کے درمیان سفارتی یا سیاسی تعلق نہیں بلکہ یہ دو عظیم تہذیبوں کا تاریخی اور روحانی رشتہ ہے۔ دونوں سرزمینیں ہزاروں سال سے علم، ادب، عرفان، فن اور حکمت کی امین رہی ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ایرانی اور ہندوستانی تہذیبیں ایک دوسرے سے اس قدر متاثر ہوئی ہیں کہ آج بھی ہندوستان کے کئی علاقوں میں ایرانی ثقافت کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے جبکہ فارسی زبان اور ایرانی ادب کی ترقی میں ہندوستانی دانشوروں اور شعرا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

اسلام کے بعد بھی ایران نے صوفیانہ اور روحانی انداز کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو ہندوستان تک پہنچایا، جس نے دونوں معاشروں کے درمیان فکری اور مذہبی قربت کو مزید مضبوط کیا۔ اسی لیے اگر کوئی مؤرخ ایران یا ہندوستان کی حقیقی شناخت کو سمجھنا چاہے تو اسے دونوں کی مشترکہ تاریخ اور تہذیبی ورثے کا مطالعہ کرنا ہوگا۔

سوال: آپ کے نزدیک آج کے دور میں ایران اور ہندوستان کے تعلقات کی بنیاد کن مشترک اصولوں پر قائم ہے؟

جواب: میرے خیال میں دونوں ممالک کے درمیان چند بنیادی مشترکات بہت اہم ہیں۔ سب سے پہلی چیز “تہذیبی شناخت” ہے۔ ایران اور ہندوستان دونوں اپنی شناخت کو صرف جدید قومی ریاست کے تصور تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اپنی قدیم تہذیب اور تاریخی شعور کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں معاشروں میں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود ایک وسیع تہذیبی وحدت موجود ہے۔

دوسری اہم چیز قومی خود اعتمادی اور آزادی ہے۔ ایران اور ہندوستان دونوں نے استعمار اور بیرونی دباؤ کا سامنا کیا اور اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ دونوں ممالک اپنی قومی عزت، آزادی اور خود مختاری کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔

اسی طرح مذہب بھی دونوں معاشروں میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہندوستان میں مذہبی اور روحانی روایات قومی شناخت کا حصہ ہیں جبکہ ایران میں اسلامی فکر سماجی اور سیاسی نظام کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس لیے دونوں ممالک سخت مغربی سیکولرازم کے بجائے روحانی اور مذہبی اقدار کو اہمیت دیتے ہیں۔

سوال: آج کی نئی نسل کے درمیان ایران اور ہندوستان کے تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

جواب: یہ ایک نہایت اہم سوال ہے، کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ نئی نسل میں تاریخی شعور کمزور ہوا ہے۔ برطانوی استعمار نے دونوں ممالک کے درمیان لسانی اور تہذیبی روابط کو نقصان پہنچایا، اور بعد کے سیاسی حالات نے بھی فاصلے بڑھائے۔ اس لیے اب ضروری ہے کہ ہم صرف ماضی کی یادوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ جدید ذرائع کے ذریعے اس تعلق کو نئی نسل تک منتقل کریں۔

ڈیجیٹل میڈیا، ثقافتی پروگرام، مشترکہ ادبی میلوں، فلموں، موسیقی، یونیورسٹی روابط اور طلبہ کے تبادلوں کے ذریعے نوجوانوں کو اس مشترکہ تہذیبی ورثے سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ہمیں فارسی، ہندی اور سنسکرت زبانوں کے شعبوں کو مضبوط کرنا ہوگا اور دونوں ممالک کے علمی و ادبی حلقوں کے درمیان مستقل روابط قائم کرنے ہوں گے۔

سوال: آپ ثقافتی سفارت کاری کو ایران اور ہندوستان کے مستقبل کے تعلقات میں کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟

جواب: میری نظر میں ثقافتی سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو دونوں ممالک کو طویل مدت تک ایک دوسرے کے قریب رکھ سکتا ہے۔ سیاسی تعلقات وقت اور حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، لیکن تہذیب، فن، ادب اور روحانیت پر قائم تعلقات زیادہ پائیدار ہوتے ہیں۔

ہمیں ایسی ثقافتی سفارت کاری کی ضرورت ہے جو سیاسی اختلافات کو ثقافتی پل میں تبدیل کر دے۔ مثال کے طور پر مشترکہ فلمی منصوبے، ادبی کانفرنسیں، صوفیانہ مکالمے، فنونِ لطیفہ کی نمائشیں اور بین المذاہب گفتگو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور قربت کو بڑھا سکتی ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایران اور ہندوستان کو دنیا کے سامنے صرف سیاسی طاقتوں کے طور پر نہیں بلکہ دو عظیم تہذیبی مراکز کے طور پر پیش ہونا چاہیے، کیونکہ اصل رشتہ سیاست نہیں بلکہ تہذیب، روحانیت اور انسانی اقدار ہیں۔

سوال: آخر میں آپ ایران اور ہندوستان کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایران اور ہندوستان کا تعلق تاریخ کے کسی ایک دور یا کسی حکومت تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا تہذیبی رشتہ ہے جو ہزاروں برس سے قائم ہے اور آئندہ بھی قائم رہے گا۔ اگر ہم اپنی مشترکہ تاریخ، ثقافت، ادب، روحانیت اور انسانی اقدار کو بنیاد بنائیں تو دونوں ممالک نہ صرف اپنے تعلقات کو مضبوط بنا سکتے ہیں بلکہ دنیا کے سامنے تہذیبی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کی ایک خوبصورت مثال بھی پیش کر سکتے ہیں۔

جواہر لعل نہرو نے تاج محل کو “ہندوستانی جسم میں ایرانی روح” قرار دیا تھا، اسی طرح ایران اور ہندوستان کا تعلق بھی دو جسموں میں ایک مشترکہ تہذیبی روح کی مانند ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha