یادداشت: عیشل زہراء جامعۃ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
الله تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، مگر ان سب میں دل کو سب سے قیمتی نعمت کہا جا سکتا ہے۔جوان کا دل بالخصوص جذبات اور بے شمار خواہشوں سے بھرا ہوتا ہے۔ یہی دل خدا کے بندے کو خدا سے جوڑ بھی سکتا ہے اور اس سے جدا بھی کر سکتا ہے۔
اگر خدا کا بندہ اپنی بے شمار دنیاوی خواہشوں کا غلام بن جائے تو یہی دل انسان کی بے سکون زندگی کے لیے کافی ہے۔ دنیا کے غلام سکونِ زندگی اور اطمینانِ قلب سے محروم ہوتے ہیں، اور بہت سے بندوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی بے سکونی کی اصل وجہ کیا ہے۔
انسان کی بے سکون زندگی کی اصل وجہ دل کی دنیا کا مر جانا اور دل کے موسم کا خراب ہو جانا ہے۔
دل کا موسم خدا کا ذکر چاہتا ہے۔ دل کی دنیا خدا کی عبادت اور اس کی یاد کی محتاج ہے۔ اور جب ایک جوان کا دل اپنے پروردگار کی یاد میں لگ جائے، اس کی رضا کا طلب گار بن جائے، تو پھر حقیقی سکون والی زندگی خدا کے بندے کا مقدر بن جاتی ہے۔
جسے خدا کی محبت مل جائے، اسے دنیا کی غلامی نہیں کرنی پڑتی۔ انسان پھر دنیا کی خواہشوں کو بھول جاتا ہے، کیونکہ خدا اسے بن مانگے دنیا کی بے شمار نعمتوں اور خوشیوں سے نواز دیتا ہے۔
جس جوان کا دل خدا سے لگ جائے، پھر خدا بھی اس جوان سے بے انتہا محبت کرتا ہے، کیونکہ ایک جوان مجبوری میں نہیں بلکہ خدا کی محبت میں اس کی عبادت کرتا ہے۔
اس دل کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ یہی دل اگر دنیا کی غلامی میں پڑ جائے تو تھک جاتا ہے، لیکن اگر خدا کو راضی کرنے میں لگ جائے تو آباد ہو جاتا ہے۔ پھر خدا اس کی دنیا اور آخرت، دونوں سنوار دیتا ہے۔
امامِ عصرؑ کو بھی جوان کے دل کی ضرورت ہے۔ اگر اس دل کو جوانی ہی میں گمراہی سے بچا لیا جائے تو انسان کا گریہ بھی جوانی ہی سے خالص ہو جاتا ہے، فقط خدا کی محبت اور امامِ عصرؑ کی یاد میں۔ یہی خالص اور پاک گریہ وقت کے امامؑ کے ظہور کی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
دل کی پاکیزگی انسان کو خدا کی یاد، وقت کے امامؑ کی یاد، نیک اعمال کی انجام دہی اور معاشرے کی خدمت پر آمادہ کرتی ہے۔
حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں: "نوجوان کا دل خالی زمین کی مانند ہوتا ہے؛ اس میں جو کچھ بویا جائے، وہ اسے قبول کر لیتا ہے۔ اس لیے میں نے تمہیں ادب و تربیت کی نصیحت اس سے پہلے کی کہ تمہارا دل سخت ہو جائے اور تمہارا ذہن دوسری مشغولیات میں لگ جائے۔” (نہج البلاغہ، خ31)









آپ کا تبصرہ