تحریر: ثمن رباب رضوی جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
تمہید
کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک دائمی مکتبِ فکر ہے۔ اگر امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے اسلام کو حیاتِ نو بخشی تو حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا نے اپنے علم، صبر، بصیرت اور بے مثال قیادت سے اس پیغام کو رہتی دنیا تک پہنچایا۔ عاشوراء کے بعد کا مرحلہ درحقیقت "زینبی قیادت" کا مرحلہ تھا، جس میں ایک ایسی خاتون نے، جس کے سامنے اپنے بھائی، بیٹوں اور عزیزوں کی شہادت کا منظر تھا، نہ صرف اہلِ بیتؑ کی حفاظت کی، بلکہ امامت کے پیغام کو بھی محفوظ رکھا۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے حضرت زینبؑ کے علمی مقام کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:أَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ، وَفَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَةٍ
"آپ بحمد اللہ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی انسان نے تعلیم نہیں دی، اور ایسی صاحبِ فہم ہیں جنہیں کسی نے سمجھایا نہیں۔" (الاحتجاج، شیخ احمد بن علی الطبرسی، ج 2)
یہ جملہ حضرت زینبؑ کی شخصیت کا بنیادی تعارف ہے۔ آپؑ کی قیادت صرف جذباتی قوت نہیں بلکہ علم، بصیرت اور الٰہی تربیت پر قائم تھی۔
قیادت کا قرآنی معیار
قرآن مجید فرماتا ہے:﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾(سورۂ سجدہ، آیت 24)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ الٰہی قیادت کے دو بنیادی ستون ہیں:
- صبر
- یقین
حضرت زینبؑ کی پوری زندگی ان دونوں صفات کی عملی تفسیر ہے۔
خود سازی؛ قیادت کی پہلی شرط
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:مَنْ نَصَبَ نَفْسَهُ لِلنَّاسِ إِمَامًا فَلْيَبْدَأْ بِتَعْلِيمِ نَفْسِهِ قَبْلَ تَعْلِيمِ غَيْرِهِ
"جو شخص لوگوں کی رہنمائی کرے، اسے چاہیے کہ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح کرے۔"(نہج البلاغہ، حکمت 73)
حضرت زینبؑ نے پہلے اپنے ایمان، عبادت، علم اور تقویٰ کو کمال تک پہنچایا، پھر حالات نے جب ذمہ داری دی تو پوری امت کی رہنما بن گئیں۔
علم اور بصیرت
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ "ہر انسان کی قدر اس کے علم اور کمال کے مطابق ہے۔" (نہج البلاغہ، حکمت 81)
اسی لیے حضرت زینبؑ کے خطبات صرف جذباتی تقریریں نہیں بلکہ قرآن، توحید، امامت اور عدلِ الٰہی کی گہری معرفت کا آئینہ ہیں۔
استقامت؛ زینبی قیادت کا جوہر
قرآن فرماتا ہے:﴿إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾(البقرہ: 153)
کربلا کے بعد قید، بھوک، سفر، شہداء کی جدائی اور بچوں کی کفالت جیسے مصائب کے باوجود حضرت زینبؑ نے کبھی اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کا تصور بھی نہیں کیا۔
حق گوئی
یزید کے دربار میں حضرت زینبؑ نے اعلان فرمایا:فَكِدْ كَيْدَكَ وَاسْعَ سَعْيَكَ... فَوَاللَّهِ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا. "جتنی تدبیر کرنی ہے کر لو، خدا کی قسم! تم ہمارا نام کبھی مٹا نہیں سکتے۔" (الاحتجاج، ج 2؛ بحار الأنوار، علامہ مجلسی، ج 45)
یہ خطبہ ظلم کے مقابلے میں حق گوئی کی ابدی مثال ہے۔
رضا و تسلیم
جب عبید اللہ بن زیاد نے کہا: "تم نے اللہ کا اپنے خاندان کے ساتھ کیا معاملہ دیکھا؟"
حضرت زینبؑ نے جواب دیا: مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلًا. میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ (بحار الأنوار، ج 45؛ الإرشاد، شیخ مفید (واقعۂ کربلا کی روایات کے ضمن میں)
یہ جملہ مصیبت سے انکار نہیں، بلکہ اللہ کی حکمت اور رضا پر کامل یقین کا اعلان ہے۔
خدمت اور احساسِ ذمہ داری
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْ عِتْقِ أَلْفِ نَسَمَةٍ."جو اپنے مؤمن بھائی کی ایک حاجت پوری کرے، اس کے لیے یہ ہزار غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔" (الکافی، شیخ کلینی، کتاب الإيمان والكفر)
حضرت زینبؑ نے اہلِ بیتؑ کے بچوں کی حفاظت، امام سجادؑ کی نگہبانی اور پیغامِ عاشورا کی تبلیغ کے ذریعے خدمتِ خلق کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی۔
عصرِ حاضر کی طالبات کے لیے پیغام
آج کی زینبی طالبہ وہ ہے جو:
- علم کو عبادت سمجھے۔
- تحقیق کو اپنی عادت بنائے۔
- حجاب اور حیا کو عزت سمجھے۔
- حق کے اظہار سے نہ ڈرے۔
- سوشل میڈیا کو تبلیغِ دین کا ذریعہ بنائے۔
- اپنی تعلیم کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی نصرت کے لیے استعمال کرے۔
ایسی طالبہ صرف ڈگری یافتہ نہیں، بلکہ معاشرے کی فکری معمار ہوتی ہے۔
نتیجہ
زینبی قیادت کسی سیاسی منصب یا سماجی حیثیت کا نام نہیں بلکہ علم، بصیرت، صبر، عبادت، حق گوئی اور خدمت کا مجموعہ ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے ثابت کیا کہ ایک باایمان خاتون اپنے کردار کے ذریعے پوری تاریخ کا رخ بدل سکتی ہے۔ عصرِ غیبت میں ہر طالبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علم، اخلاق اور عمل کے ذریعے زینبی کردار کو زندہ رکھے، کیونکہ یہی کردار امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے لیے آمادہ معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
"زینبی قیادت تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ہر دور میں حق کی حفاظت کرنے والوں کے لیے ایک زندہ منشور ہے۔"









آپ کا تبصرہ