تحریر: شمع بیگم، جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ بشریت گواہ ہے کہ جب بھی حق و باطل کا معرکہ برپا ہوا، عفت مآب اور شجاع خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ وہ عظیم فداکاریاں انجام دیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اسلام کا آغاز حضرت خدیجہ (س) کی قربانیوں سے ہوا اور تحفظِ ولایت کا سفر حضرت فاطمہ زہراء (س) کے خطبات سے ہوتا ہوا کربلا میں جنابِ زینب (س) کی بے مثال فصاحت و بلاغت تک پہنچا۔
آج غیبتِ کبریٰ کے اس کٹھن دور میں، جہاں عالمی استکبار اور مادہ پرستی کے طوفان نے انسانی اقدار کو ہلا کر رکھ دیا ہے، امامِ وقت (عج) کے ظہور کے لیے زمینہ سازی کرنا ہر مومن بالخصوص مومنات کی اولین ذمہ داری ہے۔ موجودہ دور کی منتظر خاتون محض ایک خاموش تماشائی نہیں، بلکہ وہ اپنے تقویٰ، حجاب، بصیرت اور شجاعت کے ذریعے باطل قوتوں (خصوصاً امریکی و مغربی استعمار) کے عزائم کو خاک میں ملا رہی ہے۔ یہ ریسرچ دستاویز اسی مہم اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنما اصولوں کا احاطہ کرتی ہے۔
اور آج کے دور میں ہمیں خود کو امام کے لے تیار کرنا اور کچھ اسے منتشر خواہشات سے خود روکنا اور اسے خواتین کی فکر جو یہ مانتی ہے کہ اسلام ایک قید ہے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور زمانِ حاضر میں مغربی تہذیب سے متاثر ہو کر عورتیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کو اپنے لئے توہین سمجھتی ہیں کیوں کہ مغرب کی اسلام کُش مہم اور تیز ہوا انہیں مردوں کے دوش بدوش چلنے کی طرف مسلسل دھکیلے جا رہی ہے اور اسلامی تعلیمات سے برسرِ پیکار ہونے والے مرد بھی صرف اپنی خواہشاتِ نفسانی کی تسکین کی سہولت کی خاطر اسی قسم کے نعرے لگاتے نظر آتے ہیں، حالانکہ خداوندِ کریم نے عورت و مرد کو جو علیٰحدہ علیٰحدہ خصوصیات عطا فرمائی ہیں ان سے آگے قدم بڑھانے کی جرأت کرنا خدائی فیصلے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے اس نے اپنی حکمتِ کاملہ سے عورت کے وجود کو ایسے سانچے میں ڈھالا ہے کہ گھر کے اندرونی کام کو سنبھالنے کی ذمہ داری کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے اور اپنی چار دیواری کے اندر اپنے فرائض کی ادائیگی اس کے نمایاں مقام پر فائز ہونے کی دلیل ہے اسکے برخلاف اس نے مرد کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ وہ گھریلو زندگی کے سنوارنے کے علاوہ بیرونی میل جول سے اپنے نمایاں کردار کے ذریعے اپنی خداداد استعداد کو عمل میں لاکر اپنے لئے ایک بلند مقام حاصل کرے اور اخلاق و کردار کی تعمیر کے ذریعے انسانیت سے حیوانیت و درندگی کے بدنما داغ دھو کر کائنات میں امن وامان قائم کرے۔
مولائے کائنات حلاّلِ مشکلات حضرت علی علیہ السلام نے عورت و مرد کی پوزیشن کو ایک مختصر سے جملے میں یوں واضح فرمایا ہے: "حُسْنُ الرِّجَالِ فِي عُقُولِهِمْ وَ عُقُولُ النِّسَاءِ فِي حُسْنِهِنَّ" (بحار الانوار ج ۱)
ترجمہ: مردوں کا حُسن انکی عقلوں میں مضمر ہے اور عورتوں کی عقلیں ان کے حُسن کے پردہ میں ہیں۔
اس جملے کی کئی توجیہات ہو سکتی ہیں:
۱۔ مرد کے لئے جوہرِ انتخاب جو اس کی
امتیازی حیثیت کا نشان ہے وہ عقل ہے یعنی مرد عقل و خرد سے ہی اپنی محبوبیت کا سکہ جما سکتا ہے اور اس کی دانائی و عقلمندی اس کا کمال اور زیورِ حسن ہے لیکن اس کے برخلاف عورت کا جوہرِ امتیاز جو اس کی قدر و منزلت کا موجب ہے وہ اس کا حسن ہے یعنی عورت کی خوبصورتی ہی اس کی محبوبیت کا سبب ہوتی ہے۔
۲۔ مرد کے لئے مایہ ناز اور سرمایہ افتخار عقل ہے اور اسی عقل و دانش کے بل بوتے پر مرد دوسروں پر سبقت لے جانے کا اہل ہوتا ہے لیکن اس کے برخلاف عورت کی سبقت کا معیار اور مدارِ رفعت اس کا حسن ہوتا ہے اور وہ صرف حسن و صورت کی بناء پر ہی مقامِ افتخار میں قدم رکھ سکتی ہے۔
۳۔ مرد کی عقل و دانش سے اسکی خوبیاں منظرِ عام پر آتی ہیں، لیکن عورت کے حسنِ منظر سے متاثر ہو کر اس کی عقل و خرد سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔
۴۔ مرد کی دانشمندی اس کو اپنے فرائض سے روشناس کرواتی ہے اور عورت کا حسن اس کو اپنے فرائض سے غافل کرنے کا موجب بنتا ہے۔
۵۔ مرد عقل کو اپنے مقبولِ عام ہونے کا ذریعہ قرار دیتا ہے اور عورت کی عقل اس کو صرف اپنے حسنِ ظاہری کے اضافہ کی طرف دعوت دیتی ہے یعنی مرد کی سوچ بچار اپنی دنیوی یا اخروی فلاح و بہبود میں ہوا کرتی ہے جو اُس کا حقیقی حسن اور عورت کی تمام تر توجہ اپنے بناؤ سنگھار میں صرف ہوتی ہے جو اس کی ظاہری چاہت کا ہی ذریعہ ہے۔
لہٰذا دونوں فریقین کو اپنے اپنے مقام پر رہنا زیبا دیتا ہے لہٰذا عورت کا اپنے مخصوص فرائض کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا اس کی شرافت اور فطری خوبی ہے اور عورت کا اسلامی زندگی کو غلامی سے تعبیر کرنا کم اندیشی ہے بلکہ اس کا اپنی حدودِ معینہ سے گزر کر مردوں کے دوش بدوش رہنے کا جذبہ اس کی فطرت سے کھلی ہوئی بغاوت ہے اور اس کے اس خیال کو آزادی کے نظریہ سے تعبیر کرنا انتہائی بے وقوفی ہے اور جو مرد عورتوں کو اس نظریہ کی طرف لانے کی کوشش کرتے ہیں وہ صرف اپنی خواہشات کو حاصل کرنے کے لئے ان کی بھولی بھالی عقلوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور جو عورتیں اس دام میں پھنس کر اس غلط نظریہ کو اپنی آزادی کا پیش خیمہ سمجھتی ہیں انہیں صرف دھوکہ ہی ہوتا ہے۔
لہٰذا مردوں کو چاہئے کہ وہ عورتوں کو انکے جائز اور اسلامی حقوق سے محروم نہ کریں اور انہیں اپنی شرعی حدود میں رکھ کر انہیں انکے فرائضِ نسوانی سے روشناس کرائیں، مردوں کا عورتوں پر بے جا تشدد اور نا قابلِ برداشت رویہ ان کو خدا اور رسول کے احکام سے باغی بناتا ہے مرد کیوں کہ بہت سے اُمورِ خانہ داری سے فارغ ہوتا ہے اس لئے اگر جسمانی قوت اور مالی وسعت اسے اجازت دے تو ایک سے زیادہ بیویاں کر سکتا ہے جن کی حد چار تک ہے بشرطیکہ وہ اپنے عادلانہ رویہ سے ان کی حق تلفی نہ کرے لیکن عورت امورِ خانہ داری اور بال بچوں کی تربیت میں گھر کر اس قدر مشغول الذمہ ہو جاتی ہے کہ وہ صرف ایک ہی مرد کی ذمہ داریوں کا بوجھ بمشکل اٹھا سکتی ہے لہٰذا اس کے لئے بیک وقت صرف ایک ہی مرد سے نکاح کرنے کی پابندی ہے تو مرد کیلئے متعدد ازواج کا جواز اور عورت کے لئے صرف ایک مرد کی پابندی ایک فطری تقسیم ہے اس کو مرد کی آزادی اور عورت کی قید سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا اگر وسیع نظر سے دیکھا جائے اور عورت و مرد دونوں کے فرائض کا جائزہ لیا جائے تو ہر ایک اپنے اپنے مقام پر آزاد ہے اور اگر فرائض و ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے تو دونوں مقید ہیں۔
اگر عورت کے لئے یہی قید ہے کہ وہ صرف ایک مرد سے نکاح کر سکتی ہے تو کیا مرد اس امر کا مقید نہیں کہ وہ عورت کیلئے تمام لوازماتِ زندگی مہیا کرے۔
جہاں مرد ایک نکاح کی قید سے آزاد ہے وہاں عورت اپنے لوازماتِ زندگی کی فکر سے آزاد ہے۔اگر عورت کیلئے بچوں کی پرورش کی قید ہے تو مرد پر تمام تر اخراجات کی ادائیگی کی قید ہے۔
اگر عورت پر پردے کی پابندی ہے تو مرد پر عورت کے لئے مناسب مکان و رہائش کا بندوبست اور پردہ داری کے جملہ اسباب کی فراہمی کی پابندی ہے۔
لہٰذا عورت کی پابندی عورت کی شان کے مطابق ہے اور مرد کی پابندی مرد کے رتبے کے مطابق ہے اور دونوں پابندیاں اپنے اپنے مقام پر موزوں ہیں جو پابندی عورت پر عائد ہے اس سے مراد آزادی ہے اور جو قید مرد کے لئے ہے اس سے عورت کو آزادی حاصل ہے۔
عورت چونکہ صرف اپنی پابندی کو مدنظر رکھتی ہے اور مرد کی پابندیوں کا اسے احساس نہیں ہوتا ہے اس لئے وہ سمجھتی ہے کہ مرد آزاد ہیں اور اس کے برعکس مرد عورتوں کو آزاد سمجھتے ہیں لہذا عورتیں اپنے حدود پھلانگ کر مردوں کے فرائض سنبھالنے میں خوشی محسوس کرتی ہیں اور مرد اپنے فرائض کو بارِ خاطر قرار دیکر عورتوں کے نام نہاد نظریہ آزادی کی تائید کرتے ہیں کیوں کہ اس میں ان کو دو فائدے نظر آتے ہیں ایک عورت کے اپنے اخراجات سنبھال لینا ان کے لئے غنیمت ہوتا ہے اور جذبہ شہوانیت کی تسکین اس سے اچھی طرح ہوتی ہے، بہرحال عورت کے لئے یہ نام نہاد آزادی صرف عورت ہی کیلئے قید در قید ہے کیوں کہ امورِ خانہ داری اور بچوں کی نگہداری کا بوجھ تو ویسے کا ویسا ان کے سر رہتا ہے اور مزید برآں جو اخراجات مرد پر عائد تھے وہ بھی اب ان پر آجاتے ہیں۔
لہٰذا خدا کا قانون وہ قانون ہے جس کو قیامت تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکتا اور قرآن مجید میں خدا نے مردوں اور عورتوں کو اپنی اپنی حدود میں پابند رہنے کا حکم دیا ہے وہی دونوں کی دنیا و آخرت کی کامیابی و بھلائی کی ضامن ہے۔ (تفسیر انوار النجف ج ۳ ص ۶۴)









آپ کا تبصرہ