حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی کے شعبۂ تحقیق کے زیرِ اہتمام کتابخانہ امام خامنہ ای میں"نہج البلاغہ میں استعاراتی اسلوب" ایک علمی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں جامعہ کے اساتذہ اور طلبا نےشرکت کی۔
نشست کا آغاز نمازِ ظہرین کے بعد ہوا۔ پروگرام کی نظامت طالب علم فضل عباس نے انجام دی۔ تلاوتِ قرآنِ کریم کی سعادت ایاز علی نے حاصل کی جبکہ بعد ازاں حسن رضا جعفری نے منقبت سے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔
مدیر حوزہ علمیہ امام کاظم نجف اشرف حجۃ الاسلام والمسلمین سید رضا موسوی نے اپنے خطاب میں سب سے پہلے عربی ادب میں استعارہ کے مفہوم، اس کی اقسام اور بلاغی اہمیت کو واضح کیا۔

اس کے بعد انہوں نے نہج البلاغہ سے مختلف اقتباسات پیش کرتے ہوئے استعاراتی اسلوب کی باریکیوں کو مدلل انداز میں بیان کیا اور بتایا کہ حضرت امیرالمؤمنینؑ کے کلام میں استعارہ نہ صرف فصاحت و بلاغت کا مظہر ہے بلکہ فکری گہرائی اور معنوی وسعت کا بھی آئینہ دار ہے۔
خطاب کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں طلبہ نے موضوع سے متعلق مختلف علمی سوالات پیش کیے۔ آقای موسوی نے نہایت متانت اور تفصیل کے ساتھ ان کے تسلی بخش جوابات دیے، جس سے نشست کی علمی افادیت میں اضافہ ہوا۔
پروگرام کے اختتام پر آقای سکندر علی بہشتی نے مہمانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی اس نوعیت کی علمی نشستوں کے ذریعے تحقیقی روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور باہمی علمی تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔

آخر میں معاونِ آموزش ڈاکٹر سید بشیر نقوی کے دستِ مبارک سے حجۃ الاسلام والمسلمین سید رضا موسوی کو جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کی جانب سے شائع شدہ نہج البلاغہ کا نسخہ بھی بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا۔










آپ کا تبصرہ