پیر 23 فروری 2026 - 15:42
نہج‌ البلاغہ پر اعتراضات کا جواب؛ سید رضی بلند پایہ فقیہ اور مفسر تھے: رضا استادی

حوزہ/ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ رضا استادی نے نہج‌البلاغہ کے معتبر ہونے کے خلاف اٹھائے گئے شبہات کو تاریخی شواہد کی روشنی میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عظیم کتاب کے مرتب سید رضی نہ صرف ادیب اور شاعر تھے بلکہ ایک ممتاز فقیہ اور عظیم مفسر قرآن بھی تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ رضا استادی نے نہج‌البلاغہ کے معتبر ہونے کے خلاف اٹھائے گئے شبہات کو تاریخی شواہد کی روشنی میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عظیم کتاب کے مرتب سید رضی نہ صرف ادیب اور شاعر تھے بلکہ ایک ممتاز فقیہ اور عظیم مفسر قرآن بھی تھے۔

نہج البلاغہ کے سلسلے میں منعقد ہونے والی سلسلہ وار نشستوں کی افتتاحی تقریب میں محققین اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام سے دلچسپی رکھنے والے افراد کی موجودگی میں آیت اللہ رضا استادی نے خطاب کیا۔ اس نشست کا مقصد نہج‌البلاغہ پر تحقیقی مبانی کو واضح کرنا تھا۔

سید رضی کی علمی شخصیت

آیت اللہ استادی نے اپنی گفتگو کے پہلے حصے میں سید رضی کی شخصیت سے متعلق ایک تاریخی غلط فہمی کی اصلاح کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر انہیں صرف شاعر اور ادیب سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے کے جلیل القدر فقیہ اور مفسر قرآن تھے۔

انہوں نے سید رضی کے فقہی اساتذہ، ان کے فتاویٰ اور قرآن کریم کی دس جلدوں پر مشتمل تفسیر کی تالیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہج‌البلاغہ کو مرتب کرنے ان کی علمی جامعیت سب پر ثابت ہے اور انہیں محض ادبی شخصیت قرار دینا درست نہیں۔

نہج‌البلاغہ کی سند اور شبہات کا رد

آیت اللہ استادی نے اس دعوے کو بھی رد کیا کہ نہج‌البلاغہ سید رضی کی طرف منسوب نہیں ہے۔ انہوں نے تاریخی شواہد پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید رضی کے اپنے ہاتھ سے لکھی گئی نسخے ان کی وفات کے کئی صدیوں بعد تک موجود رہے، جنہیں بزرگ علما نے دیکھا، جن میں ابن ابی‌الحدید بھی شامل ہیں۔ یہ امر خود اس کتاب کی صحت اور انتساب کی تائید کرتا ہے۔

انہوں نے اس کتاب کے"مرسل" ہونے کے شبہے کے جواب میں وضاحت کی کہ سید رضی نے ادبی اسلوب کو ملحوظ رکھتے ہوئے اسناد حذف کیں، تاہم بعد کے علما نے مستدرکات تحریر کر کے ان خطبات اور خطوط کی اسناد کو استخراج اور مرتب کیا ہے۔

معروف شروح پر تنقیدی نظر

آیت اللہ استادی نے اہل سنت کی دو معروف شروح کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ محمد عبده نے نہج‌البلاغہ کو عالم عرب میں متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کے طریقہ کار پر سنجیدہ اعتراضات موجود ہیں۔ ان کے بقول، جہاں کہیں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا کلام اہل سنت عقائد سے ہم آہنگ نہ تھا، وہاں انہوں نے یا تو اس میں تبدیلی کی یا اسے غیر مستند قرار دیا۔

اسی طرح ابن ابی‌الحدید کی بیس جلدوں پر مشتمل شرح کو ادبی اور تاریخی لحاظ سے نہایت وقیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کلامی اور اعتقادی پہلو سے اس میں تعصبات اور انحرافات پائے جاتے ہیں، لہٰذا اس کا مطالعہ تنقیدی نظر کے ساتھ ہونا چاہیے۔

کلامِ امیرالمؤمنینؑ کی عظمت

آیت اللہ استادی نے اکابرین کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نہج‌البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کا کلام فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کلام خالق کے کلام سے ایک درجہ کم اور مخلوق کے کلام سے بلند تر ہے، جو اس کی بے مثال عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha