۴ تیر ۱۴۰۰ | Jun 25, 2021
پیشه گر

حوزہ / حجۃ الاسلام والمسلمین پیشه گرنے تاکید کی ہے کہ نہج البلاغہ کو دینی مدارس میں اصلی درس سمجھ کر پڑھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا: اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس کتاب کا معاشرے میں مطالعہ ہو تو سب سے پہلے دینی مدارس میں اس کتاب کی ترویج ہونی چاہئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محقق نہج البلاغہ حجۃ الاسلام والمسلمین امید پیشہ گرنے اصفہان میں امامزادہ ہارونیہ میں نہج البلاغہ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام تربیت معلم نہج البلاغہ کورس کی افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: نہج البلاغہ میں سید رضی نے امیر المومنین (علیہ السلام) کے کلام کو جمع کیا اور نہج البلاغہ نامی کتاب ہمارے پاس ہے اسے ایک ہزار چالیس سال قبل اس عظیم شخصیت نے جمع کیا تھا۔

انہوں نے دینی مدارس میں نہج البلاغہ کو اصلی درس کے عنوان سے پڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں اس کتاب کا مطالعہ ہو تو اس سے پہلے دینی مدارس میں اس کے متعلق تحقیق اور ترویج ہونی چاہئے۔

حجۃ الاسلام امید پیشہ گر نے کہا: قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے ترجمہ کے ساتھ ساتھ ان کی تفاسیر سے بھی استفادہ ہونا چاہئے کیونکہ نہج البلاغہ کے بعض مطالب کو درک کرنے کے لئے صرف ترجمہ کافی نہیں ہے بلکہ نہج البلاغہ کی تفسیر اور شرح سے بھی استفادہ ہونا چاہئے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 1 =