۲۸ خرداد ۱۴۰۰ | Jun 18, 2021
سلمان عابدی

حوزہ/اردو ادب کی خوش قسمتی کہیئے کہ مکمل نہج البلاغہ کے منظوم ترجمے کے لیے ادیب عصر، محقق دوراں، خطیب بے بدل، دبیر دہر، انیس عصر، فرزدق دوراں شاعر شیریں بیاں، حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سلمان عابدی زید عزہ کی ذات کو صنّاع ازل نے چن لیا ورنہ یہ شعبہ ھل من مبارز کی صدائے بازگشت کو ہی سنتا رہتا۔

حوزہ نیوز ایجنسیl
منظوم ترجمہ:حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سلمان عابدی زید عزہ

تمام حمد ہے مخصوص اس خدا کے لئے
امیر جو نہیں ہوتا عطا کے روکنے سے

نہ جود و فضل و کرم سے کبھی وہ رکتا ہے
نہ بخششوں میں کمی آتی ہے نہ تھکتا ہے

علاوہ اس کے " یہ صورت بہت نمایاں ہے "
کہ ہر سخی کی عطا میں کمی کا امکاں ہے

اور اس کے ماسوا یہ بھی بڑی حقیقت ہے
کہ ہر بخیل یہاں قابل مذمت ہے

وہ فائدوں سے بھری نعمتیں عطا کر کے
وہ رزق و روزی کی تقسیم کے تسلسل سے

تمام بندوں پہ احسان کرنے والا ہے
" وہ اپنی بخششیں ہر آن کرنے والا ہے "

یہ کائنات کی مخلوق اس کا کنبہ ہے
وہی ہر ایک کی روزی بھی دینے والا ہے

اور اپنے سارے عطایا کے طالبوں کے لئے
ہے رستہ کھول دیا اس نے راغبوں کے لئے

وہ اپنے مانگنے والوں کو بھی سدا بخدا
جو مانگتے نہیں،  ان سے سوا نہیں دیتا

ہے ایسا پہلا نہیں جس کی ابتدا کوئی
کہ اس سے پہلے ہو معبود و کبریا کوئی

ہے آخر ایسا نہیں جس کی انتہا کوئی
کہ جس کے بعد بھی رہ جائے کوئی شئ باقی

بصارتوں کو نگاہوں کی اس نے ہے روکا
کہ اس کو دیکھیں یا ادراک کر سکیں اسکا

اثر زمانے کا اس پر کبھی نہیں پڑتا
کہ حال بدلے تغیر ہو اس میں کچھ پیدا

نہ اس کی جا ہے کوئی اور نہ ہے مکاں اسکا
کہ انتقال مکانی کا ہو گماں پیدا

وہ سونے چاندی کی دھاتیں کہ سانسیں بھر بھر کر
جنہیں پہاڑوں کے معدن ہیں پھینکتے باہر

وہ موتی اور وہ مرجان کی کٹی شاخیں
کہ جنکو سیپیاں ہنس کر اچھال دیتی ہیں(1)

وہ بخش دے تو کرم پر اثر نہیں پڑتا
ذخیرہ اس کی عطاوں کا گھٹ نہیں سکتا

پھر اس کے بعد بھی اتنے خزانے ہوں گے کہ بس
جنہیں گھٹا نہیں سکتی ہے سائلوں کی ہوس

کہ وہ جواد و کریم و سخی ہے کچھ ایسا
فقیر سائلوں کو دے کے جو نہیں ہوتا

نہ ہی فقیروں کا حد سے بڑھا ہوا اصرار
اسے بخیلی پہ کرسکتا ہے کبھی تیار

(1) قوافی کے تعلق سے ایک وضاحت-
 
نہج البلاغہ کے منظوم ترجمہ میں ہم نے بعض مقامات پر  " سے " کا قافیہ " ہے " باندھا ہے یا مثلا  " شاخیں " کا قافیہ " ہیں : باندھا ہے -
قافیہ اس وقت قائم ہوتا ہے جب دو لفظوں میں کم سے کم ایک حرف مشترک ہو اور اس کے پہلے جو حرکت یعنی زیر زبر یا پیش آئے وہ بھی مشترک ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ قافیہ کا آخری حرف جو " روی " کہلاتا ہے اس کے ما قبل حرف کی حرکت ہی قافیہ بناتی ہے اگر حرف روی کے پہلے آنے والے حرف میں دونوں جگہ حرکت ہو تو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ حرکتیں مختلف ہوں چنانچہ " خوش " کا قافیہ " شش " یا" غم" کا قافیہ " گم " یا " سے " کا قافیہ " ہے " یا ایک جگہ ہم نے " پیش " کا قافیہ " طیش"  باندھا ہے جو کہ جائز ہے - یہاں تک کہ بعض عروض دان ( خصوصا ایرانی) مکتوبی قافیہ کو بھی جیسے"  قوت " بمعنی طاقت کا قافیہ" قوت" بمعنی روزی جائز سمجھتے ہیں قوافی کے متعلق میرا اپنا خیال یہ ھیکہ حتی الامکان ان اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے جو کسی حد تک تنوع کو قائم رکھ سکیں اور بنیادی طور پر قافیہ کا یہی مقصد ہے اور بس -
والسلام

سلمان عابدی

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 2 =