۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
نجات

حوزہ/ حجت الاسلام معینی نے کہا: یہ بہت خوبصورت بات ہے کہ دینی علوم کا ایک طالب علم جس نے اپنے دماغ اور روح کو بہترین علوم سے آراستہ کیا ہے وہ اچھی جسمانی تندرستی اور صحت مند جسم کا مالک بھی ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اصفہان/ حال ہی میں، ایک نوجوان عالم دین کی سائبر اسپیس میں جاری ہونے والی ویڈیو نے لوگوں کے درمیان کافی مقبولیت حاصل کی جس میں انہوں نے اپنے عمامے سے ایک شخص کو اصفہان میں کوہ صفا سے گرنے سے بچایا۔

حجت الاسلام مہدی معینی مدرسہ اصفہان کے درس خارج کے طالب علم ہیں جنہوں نے ٢٠٠٥ سے مدرسہ حضرت ولیعصر (ع)  میں داخل ہو کر تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور تعلیم و مباحثہ کے علاوہ وہ ایک پیشہ ور کوہ پیما ہیں اور 15 سال سے کراٹے کے میدان میں بھی فعال ہیں۔

اصفہان میں حوزہ نیوز ایجنسی کے ایک رپورٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے اصفہان کے کوہ صفہ سے گرنے والے ایک شخص کو بچانے کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ: کچھ دن پہلے کوہ پیمائی کے لیے اپنے ہفتہ وار معمول کے مطابق میں اصفہان کے کوہ صفہ پر چڑھ گیا، راستے میں چوٹی کے قریب ایک جگہ ہے جو کوہ پیماؤں کے آرام کے لیے ہے۔

در ایں اثنا ایک شخص اس علاقے کے نچلے حصے پر پھنس گیا ، جس کے اوپر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور نہ ہی واپس جانے کا کوئی راستہ تھا، وہاں خطرناک حالات تھے اور اس شخص کے گرنے کا امکان تھا ، اور فائر ڈیپارٹمنٹ کو کال کرنا ممکن نہیں تھا کیوں کہ اس میں بہت وقت ضائع ہو جاتا، اسی لیے میں تیزی سے وارد عمل ہو گیا۔

انہوں نے کہا: وہ شخص جو گر رہا تھا وہ بھی ہمارے کوہ پیماؤں اور دوستوں میں سے تھا جس نے بدقسمتی سے گاڑی سے اپنی رسی نہیں لی، لہذا چونکہ اس وقت ہمیں رسی تک رسائی حاصل نہیں تھی، اس لیے میں نے اپنے عمامے کا استعمال کیا اور عمامے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے دوست کو بچایا، اور اسے گرنے سے روکا۔

حجت الاسلام معینی نے کہا: میں  6 سال سے معمم ہوں اور میں نے عمامے کے ساتھ گزشتہ تین سالوں میں ہمیشہ کوہ پیمائی کو پیشہ ورانہ طور پر کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ وہ گزشتہ برسوں کے دوران صوبے اور پڑوسی صوبوں میں کئی چوٹیوں پر چڑھنے میں کامیاب رہے ہیں ، انہوں نے کوہ پیمائی میں عمامے میں اپنی موجودگی کو ایک نعمت اور خیر عظیم سمجھا اور سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے لوگوں میں مذہب کو فروغ دیا۔

طلباء کے کھیلوں کی ضرورت اور پیشہ ورانہ کھیلوں کے میدانوں میں علماء کی موجودگی کے بارے میں ، کوہ پیما عالم نے کہا: "میں طلباء کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ پیشہ ورانہ کھیلوں کے میدان میں کھیلوں کو اہمیت دیں۔

حجت الاسلام معینی نے مومن کی خوشی اور نشاط کی ضرورت کے بارے میں امام علی (ع) کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام علی (ع) مومن کی نشانیوں میں سے ایک خوش مزاجی اور شادابی سمجھتے ہیں، اور سستی و تنبلی کو ایک مومن سے دور گردانتے ہیں، اس لیے خوشگواری اور شادابی کا سب سے اہم عنصر  ورزش ہے۔

انہوں نے زور دیا: یہ بہت خوبصورت بات ہے کہ دینی علوم کا ایک طالب علم جس نے اپنے دماغ اور روح کو بہترین علوم سے آراستہ کیا ہے وہ اچھی جسمانی تندرستی اور صحت مند جسم کا مالک بھی ہو۔

حجت الاسلام معینی نے مزید کہا: حکام طالب علموں کو ورزش کے لیے میدان فراہم کریں، جو کہ یقینی طور پر مدرسہ کی تعلیم میں بھی بہت نتیجہ خیز ہے۔

حجت الاسلام معینی نے بیان کیا: لوگوں کے درمیان موجودگی ، لوگوں کے ساتھ ہونا اور لوگوں کے ساتھ رہنا ایک مولوی کی تبلیغی ذمہ داری ہے، مجھے یقین ہے کہ معاشرے میں لوگوں کے درمیان عمامے میں میری موجودگی علماء کی مساجد اور امام بارگاہوں میں موجودگی سے کہیں زیادہ نتیجہ خیز ہے۔

علمی لباس میں میرے ہفتہ وار کوہ پیمائی کے راستے میں لوگوں کو پتہ چلا کہ علماء بھی اہل ورزش ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 12 =