۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
News ID: 374826
30 نومبر 2021 - 23:55
قیامت

حوزہ/ ایک بہت بڑی حقیقت اور ناشناختہ روداد موت ہے ۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔انسان اپنی فکری حیات کےابتدائی ایام سے موت کی حقیقت کو سمجھنے  کی کوشش میں ہے  ۔ جستجوکایہ سفر ابھی ناتمام ہے ۔

اصلاح،تدوین وتخریج: سائرہ نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی। موت کےقریب کاتجربہ
ایک بہت بڑی حقیقت اور ناشناختہ روداد موت ہے ۔ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔انسان اپنی فکری حیات کےابتدائی ایام سے موت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش میں ہے ۔ جستجوکایہ سفر ابھی ناتمام ہے ۔ مختلف مذاہب نے کوشش کی ہے کہ اس حقیقت کو انسانیت کے لئے واضح کر یں ۔ چنانچہ سائنسدانوں کے لئے یہ حقیقت ابھی تک پوشیدہ(مخفی) ہے لیکن بعض انسانوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن کو اصولی طور پر موت کے قریب کا تجربہ کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ کہ روح کا انسانی جسم سےالگ ہو کر مختلف عوالم میں سیر کرنا ! اِن تجربات میں ہوتا یہ ہے کہ رُوح کا تعلق مادی جسم سے سُست پڑ جاتا ہے، اِس سُستی کے نتیجے میں رُوح کو آزادی مل جاتی ہے اور وہ ایسے مناظر دیکھ سکتی ہے جن کامشاہدہ کرنا روح کے لئےاِس سےقبل ممکن نہیں تھا ! گزشتہ سالوں میں مغربی سائنسدانوں کی جستجواس حقیقت کے بارے میں بڑھ گئی ہے ۔ یقینا آپ نے بھی ایسے لوگوں کی داستان سنی یا پڑھی ہوگی جو موت کے قریب جا کر پلٹ آئے ہیں !
مثال کے طور پر ہارٹ اٹیک کے بعد کچھ لوگوں کی روح جسم سے خارج ہو کر کسی حادثہ یا Shock کی وجہ سے دوبارہ پلٹ آتی ہے۔یہ وہ سوال ہے جو بہت سے لوگوں کے ذہن میں ابھرتا جا رہا ہے کہ موت کے نزدیک کا تجربہ ( Near Death Experience)یا اس کا مخفف NDE کیا ہے؟
۱۔ بعض ماہرین(NDE) کو دماغ کی غیر معمولی فعالیت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کیفیت قرار دیتےہیں جو موت کے قریبی لمحات میں پائی جاتی ہے اور وہم کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہارٹ اٹیک کے نتیجہ میں آکسیجن دماغ تک نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے دماغی سیلزکا کیمیائی توازن بگڑ جاتا ہے ۔ ان ماہرین کے جواب میں اِس حقیقت کی طر ف اشارہ کیا جاتا ہے کہ میڈیکل سائنس کے مطابق ذہن کی فعالیت اور حرکت کی IGG ٹیسٹ کے ذریعہ پیمائش کی جا سکتی ہے ۔ بہت سے افراد جوموت کے قریب کا تجربہ رکھتے ہیں،ان کے IGG ٹیسٹ میں ایک سیدھی لکیر (Straight Line) سامنے آتی ہے !
میڈیکل سائنس کے مطابق یہ لکیر اُس وقت سیدھی ہوتی ہے جب دماغی سیلز کوئی بھی الیکٹرو میگنیٹک (Electro Magnetic) حرکت نہ کر رہے ہوں تو ایسی صورت ِحال میں دماغ کی وہ توانائی باقی نہیں رہتی جوسوچ یاخیال کو جنم دےسکے ۔ زیادہ تر لوگ جنہوں نے یہ تجربہ کیا ہے وہ اپنی دیکھی ہوئی روداد کو بہت شفاف ، براہِ راست اور اپنے شعورکی سطح سے بالا تر بیان کرتے ہیں ،جب کہ وہ حالتِ بیداری اور معمول کی زندگی میں اِس قدر شفاف اور واضح شعوری سطح رکھنے کا دعویٰ نہیں کرتے ۔
ڈاکٹر پم وین لومل(Pim Van Lommel) جو ماہر امراضِ قلب ( Heart Specialist) ہیں، بیس سال انہوں نے علمی اور اصولی نقطہ نظر سے تحقیق کی ہے ۔ وہ بےشمارمریض جنہیں ہارٹ اٹیک ہوا اور ان کے نتائج کو سن ۲۰۰۱ میں علمی جریدہ لانسٹ (Lancet) میں نشر کیا گیا ۔ ان کی تحقیقاتی رپورٹ یہ بیان کرتی ہے کہ موت کے قریب کےتجربہ(NDE)کا ہارٹ فیل ہوجانے، بے ہوش رہنے ، دوائیں جو استعمال کی جاتی ہیں ، یا اس شخص کا موت سے خوفزدہ ہوجانے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یعنی موت کے قریب کےتجربہ میں اور ہارٹ فیل ہونے کی وجوہات میں کوئی تعلق نہیں پایا جاتا ۔
اِسی طرح دیگر تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق کسی شخص کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ اُس کی نسل یا اس کا مذہبی اور ثقافتی پس منظرکیاہے،اور اُس کی معاشرتی حیثیت یاتعلیمی قابلیت کتنی ہے! اُس کے NDE)) کے بارے میں پہلے سے جاننےیا نہ جاننےسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ڈاکٹر پم وین لومل اپنی تحقیقات کے نتیجہ کے بارے میں یہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارا ضمیر اور روح موت کے بعد باقی رہتا ہے ۔
2۔ بہت ساری رپورٹس کے مطابق جس شخص نے یہ تجربہ کیا ہے ،اس کے باوجود کہ اس کے زندہ رہنے کی کوئی علامات Symptoms نہیں ہوتیں، وہ بخوبی مادی دنیا میں ہونےوالے واقعات کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔مثلاڈاکٹرز آپریشن تھیٹر میں کیا کر رہے ہیں ،وہاں موجود لوگوں کو دیکھ اورسُن سکتاہے او ر دنیا میں واپس پلٹنے کے بعد ان ساری تفصیلات کو باریکی سے بیان کرتاہے ۔
ہمارے اپنے ملک میں کئی بار ایسے واقعات ہوئے ہیں ، حتی کہ یہ لوگ آس پاس کے موجود لوگوں کے ذہنوں کے افکار کو بھی بیان کر چکے ہیں ۔ مشہور واقعہ ہے کہ آقا محمد زمانی سن ١٩٧٧ میں کار حادثہ میں انتقال کر گئے اور ان کی حیات کی ساری علامات ختم ہو گئیں ۔لیکن پھر اچانک وہ زندگی کی آغوش میں واپس آگئے ۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے وہ ساراماجرا ڈاکٹرز اور نرسرز سےبیان کیا جو آپریشن تھیٹر اور سر د خانے میں رونما ہوا ۔ جو کچھ انہوں نے بتایا ،وہ حقیقت کے عین مطابق تھا ۔جن علمی اورسائنسی معیارات کوہم جانتے ہیں، اس واقعہ کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں ۔
۳۔ کچھ ایسے لوگ جو پیدائشی نابینا تھے، انہوں نےاس تجربہ کے دوران آس پاس کی چیزوں کو بخوبی بیان کیا ۔
ڈاکٹر ریمنڈموڈی (Dr Raymond Moody) کی کتاب "حیات بعدازحیات"(Life After Life) میں ایک ایسی عورت کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، جو پچپن سے نابینا تھی۔ اُس نےموت کے قریب کے تجربہ کے بعد آپریشن تھیٹر میں ہونے والے سارے واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ۔اس نے بتایا کہ کون کون لوگ آپریشن تھیٹر میں داخل ہوئے اور ان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی اور آپریشن میں استعمال ہونے والے سامان کی شکل کیسی تھی۔
ڈاکٹر کینتھ رنگ اور شیرون کوپر( Dr Kenneth Ring and Sharon Cooper) نےاپنی تحقیقات کے نتیجہ کوکتاب ’’ ذہن کی نظریں ‘‘ میں بیان کرتے ہوئے ان افراد کی نشاندہی کی ہے جو پیدائشی طور پر نابینا تھے اور انہوں نے موت کےقریب کے تجربہ کے بعد کے حقائق کو بیان کیا ہے ۔
۴۔بہت سےچھوٹے بچے جوموت کے قریب کے تجربہ سے گزرے ہیں،ان کی روداد اور رپورٹس بڑے لوگوں جیسی تھیں جب کہ وہ بچے موت کے بارے میں مذہبی تعلیمات اور معاشرتی نظریات نہیں رکھتےتھے اور ان کے ذہن میں موت اور اِس عالم کے بعد کی دنیا اور روحانیت کا کوئی تصور نہیں تھا ۔بچوں اور بڑوں کی ذہنی ساخت مختلف ہوتی ہے۔
اسی حوالہ سےڈاکٹر ملوین ایل مورس ( Dr Melvin L.Morse) جو بچوں کے امراض کے ماہر ( Child Specialist) تھے اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں کوئی عقیدہ نہیں رکھتے تھے ۔انہوں نےسن ۱۹۸۲ میں ڈیوٹی کے دوران موت کے قریب کے تجربہ کا پہلا مشاہد ہ کیا۔وہ بچہ جو ان کے زیر ِعلاج تھا ،دنیا میں پلٹنے کے بعد بخوبی بیان کر سکتا تھا کہ ڈاکٹرزنے کس طرح سے سر جری کی اور اس کی روح کس طرح جسم سے الگ ہوئی۔ وہ آپریشن تھیٹر میں ہونے والے تمام واقعات کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا ، اس تجربہ کے نتیجہ میں ڈاکٹر کے خیالات میں تبدیلی آئی ۔
۵۔ کئی افراد جنہوں نے موت کے قریب کا تجربہ حاصل کیا،ان کی زندگی میں اس تجربہ کاگہرا اثر نظرآیا۔یہ اثر ان کی شخصیت اور(Ideology) میں نمایاں تھا۔ جیسےاِس کتاب کے چھپنے کے بعد ایک شخص نے رابطہ کیا اور بتایاکہ وہ اپنے چھوٹے سے شہر میں ایک سافٹ ویئر کی دکان میں کام کرتا تھا۔اگرچہ وہ نماز اور دینی مسائل پر توجہ دیتا تھا لیکن کچھ عرصہ سے زیادہ ترغیر اخلاقی فلمیں (Porn Movies) بیچ رہا تھا! یہاں تک کہ اسےموت کے قریب کا تجربہ پیش آیا اور اُس نے دیکھا کہ وہ تمام لوگ جنہیں اس نےفلمیں فروخت کی تھیں، کئی اخلاقی مشکلات اور مسائل سے دو چار تھے۔جس شخص کو بھی اس نے فلم بیچی، اس وجہ سے اس کے کندھوں پر ایک سنگین وزن رکھ دیا گیا ۔ ایک سیمنٹ کے بلاک جتنا وزنی بوجھ !اور وہ اس بوجھ کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس شخص کے مطابق بلاک کاوزن اتنابھاری تھا کہ وہ خودکوموت کے دہانے پرمحسوس کررہاتھا،یہاں تک کہ اسےاجازت ملی کہ وہ دنیا میں واپس پلٹ آئے، اُس دن کے بعد اس نےاپنے تمام گاہکوں کوڈھونڈا اور انہیں بہت مشکل سے راضی کیا کہ اب وہ دوبارہ ان موضوعات کے پیچھے نہ پڑیں ۔
ان لوگوں میں پائی جانے والی تبدیلیاں ہمیشہ مثبت پہلو رکھتی ہیں ۔مثلاایک با مقصد زندگی بسرکرنا،کائنات کی تخلیق کےمقصد کوسمجھنا،اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا اوراپنے کام،ملازمت اور کاروبار کےاندازمیں تبدیلی لانا ۔ اور ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ اپنی بقیہ زندگی کونیکی اور خیرات کے لئے وقف کر دیتے ہیں ۔ اخلاق میں مہربان ، صبر و تحمل والے بن جاتے ہیں اور نشہ اور منشیات کے استعمال کو ترک کر دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک جہاں تمام چیزیں مادی نظر سے بیان کی جاتی ہیں،وہاں ان افراد کی زندگی میں روحانی پہلو کئی گنا زیادہ ابھر کر سامنے آتا ہے ۔
۶۔ موت کے قریب تجربہ میں انسان اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھتا ہے، چاہے وہ اعمال اچھےہوں یا بُرے !قرآن کریم اس نکتہ کویوں بیان کرتاہے :
" پھر جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی ہے وہ اسے دیکھے گا ۔اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہے وہ اسے دیکھے گا ۔" (سورہ الزلزال :٧اور٨)
آقای زمانی اپنی داستان میں ایک مقام پر بیان کرتے ہیں : "بچپن کی بات ہے کہ مشہد جانے کی توفیق نصیب ہوئی ، گاڑی گرم ہو کر راستے میں رُک گئی ۔ قریب ہی ایک گاؤں تھا ، ڈرائیور نے مجھے ایک پانی کا برتن دیا اور کہا: یہاں قریب ایک چشمہ ہے ،جاؤوہاں سے پانی بھر کر لے آؤ ! میں نے چشمہ سے پانی بھرا لیکن میں کمسن تھا اور برتن کو گاڑی تک لانا میرے لئے مشکل تھا ۔ راستے میں خیال آیا ، کیوں نا تھوڑا سا پانی پھینک دوں تاکہ برتن اٹھانے میں آسانی ہو ۔ سامنے ہی ایک درخت نظر آیا جو خشک زمین پر تھا ۔ میں درخت کی طرف چل پڑا اور پانی سے درخت کی جڑوں کو سیراب کرنے لگا ،اگرچہ وہاں تک جانے کے لئے تھوڑا زیادہ چلنا پڑا ۔ عالمِ برزخ میں میرے اس کام کو بہت سراہا گیا۔ میرے تصور میں نہیں تھا کہ وہاں میرےاس عمل کو اتنی زیادہ اہمیت دی جائے گی ۔گویا تمام ارواح میرے اس عمل پر فخر محسوس کر رہی تھیں۔ مجھے دکھایا گیا کہ میرا یہ عمل بہت قیمتی ہے کیونکہ وہ کام خلوص کے ساتھ انجام دیا گیا تھا ۔

٧.ممکن ہے کہ کچھ افراد ایسا تصور کریں کہ اس طرح کی روداد یں جھوٹی ہوتی ہیں اور اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے گھڑی گئی ہیں ۔جواب میں یہ بیان کرنا ہو گا کہ جھوٹ بولنے کی سب سے بڑی وجہ انسان کا ذاتی مفادہوتاہے جب کہ جو افراد موت کےقریب کا تجربہ کر چکے ہیں ،انہیں اس کےحقائق بیان کرنے کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اگرحقیقت پسند نظر وں سے دیکھا جائے تو وہ تمام افراد جنہوں نے موت کے قریب کا تجربہ بیان کیا ہے ،جھوٹے نہیں ہو سکتے کیونکہ موت کے قریب کے تجربہ کی رپورٹس ہزاروں کی تعدادمیں ہیں اور ان کے درمیان مشابہت بھی پائی جاتی ہے ؛یہاں تک کہ جو شخص ہرشےکو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ،یہ رودادیں اسے بھی سوچنےپرمجبورکر دیتی ہیں۔ بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ رپورٹس مذہب یا خدا پر اعتقاد کو پروان چڑھانے کی نیت سے بنائی جاتی ہیں۔ اس بات کا ذکرپہلے بھی کیاجاچکاہےکہ بہت سے افراد جنہوں نے یہ تجربہ کیا،ان میں ایسے کم سن بچے بھی شامل تھے جو دین ،مذہب اور خدا کے وجود یا دینی نقطہ نظر کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے تھے۔اور ان میں سےکئی تجربہ کرنے والے افراد کادین دارہوناتو دُور کی بات ہے ،وہ خدا کےبھی منکرتھے !

٨۔ اس روداد میں عموماہر شخص اپنی زندگی کے تمام مناظرفلم کی شکل میں دیکھتاہےیعنی اُس کا ہرنیک اوربراعمل اس کی آنکھوں کے سامنےہوتاہے ۔ اس کیفیت میں ہر شخص اپنے عمل کی تاثیر کو اپنی ذات یا دیگر افراد کی زندگی کےحوالہ سے بخوبی سمجھتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انسان کسی کےساتھ محبت سے پیش آتا ہے تو فوراخوشی محسوس کرتا ہے اوراگرکسی کی دل آزاری کرے تو اسےشرمندگی محسوس ہوتی ہے۔عموماایک نورانی حقیقت اس تجربہ میں ان لوگوں کے ہمراہ ہوتی ہے اور ان سے پوچھتی ہے کہ تم نے اپنی عمر کیسےگزاری؟
تقریباً سب لوگ جنہوں نے یہ تجربہ کیا ہے ،زندگی کی طرف اس عقیدےکے ساتھ پلٹتے ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ وہ اپنےپروردگار اوربندگانِ خدا سے محبت کریں اور اس کے بعد علم کاحصول اور دیگر ترجیحات۔
آیت اللہ قراٴتی فرماتے ہیں :" حوزہ علمیہ کےکسی بزرگ عالمِ دین نے جب موت کے قریب کا تجربہ حاصل کیا توانہوں نےبیان فرمایا کہ میں نےکائنات کی دوسری سمت ایک ہی لمحہ میں تمام دنیاوی اعمال کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔یہ کہ میں نے اپنی پوری زندگی تباہ کر دی ہے اور میرے اکثر اعمال ریاکاری اور اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں اورصرف گناہ باقی بچے ہیں ۔میں اس قدر خوف زدہ تھااورسمجھ نہیں پا رہا تھاکہ کیاکروں، میں نے اللہ کے ملائکہ سے بےحد اصرارکیا ، یہاں تک کہ محبت اہلِ بیت علیہم السلام کے صدقہ میں میری شفاعت ہوئی اورمجھے واپس پلٹنے کی اجازت ملی ۔
٩۔ جن افراد نے موت کے قریب کا تجربہ حاصل کیا ہے ،وقت کے بارے میں ان کا نقطہ نظر قابلِ غور ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ اُس عالم کے وقت اورہماری دنیا کے وقت میں کوئی مشابہت نہیں ہے ، وہاں پر وقت گویا بہت گہرا اور پُرہے ۔ان کےمطابق موت کے قریب کےتجربہ میں وقت ایسا ہے گویا آپ اَبدی زمانہ (Infinity) میں داخل ہو چکے ہوں ، یعنی ممکن ہے کہ آپ بہت ساری رودادوں کو چند لمحوں میں دیکھ لیں! کسی خاتون سے پوچھا گیا کہ آپ کاموت کے قریب کا تجربہ کتنی دیر کا تھا ؟ وہ کہنے لگیں کہ آپ کہہ سکتے ہیں ایک سیکنڈیا دس ہزار سال ،اِن دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ موت کے قریب کے تجربہ میں وقت کوئی معنی نہیں رکھتا ، شاید آپ چند لمحوں میں بہت سی رودادیں دیکھ لیں جن کو بیان کرنے کے لئے آپ کو کئی گھنٹے چاہیےہوں گے۔
١٠۔ موت کے قریب کے تجربہ میں انسان اپنی گزشتہ زندگی کے ان واقعات کو بھی دیکھتا ہے جو وہ مکمل طور پر بھول چکا ہوتا ہے ، یا وہ واقعات اُس عرصہ میں رونما ہوئے جب وہ کم سِن تھا اور اس عرصہ کے واقعات کو یاد کرنا ناممکن تھا ۔ لوگ اپنے اُن رشتہ داروں سے بھی ملاقات کرتے ہیں جو ان سے پہلے دنیا سے رخصت ہو چکے ہوتے ہیں ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ موت کے قریب کا تجربہ کرنے والا شخص عام زندگی میں کسی انسان کی موت کی خبر نہیں رکھتا ، لیکن دورانِ تجربہ اسے اطلاع ملتی ہے کہ وہ شخص انتقال کر چکا ہے ۔
کولٹن برپو (Colton Burpo) کی روداد’’عرشِ حقیقی‘‘نامی کتاب میں شائع کی گئی ہے ۔ ایک چارسالہ بچہ جو سن ۲۰۰۳ میں دورانِ آپریشن وقتی طور پر انتقال کر گیااور ہوش میں آنے کے بعد اس نےاپنے والدین کوبتایاکہ اس کی اپنی اُس بہن سے ملاقات ہوئی جو اس کی ولادت سے پہلے دورانِ پیدائش مرچکی تھی ، اس کے والدین کے لئےیہ بہت حیرت کی بات تھی کیونکہ انہوں نے اپنے بیٹے کو کبھی اُس بیٹی کے بارے میں نہیں بتایا تھا ۔ کولٹن کی عارضی موت کے دوران آس پاس کے افراد جو سرگرمیاں انجام دیتے رہے، ان کے بارے میں بھی اس نے ان کو آگاہ کیا ۔
چنانچہ اس بات کی طرف توجہ دینی ہوگی کہ اگر چہ موت کے قریب کا تجربہ ایسا نہیں کہ آپ اس کو علمی سطح پر آزماسکیں اور ہر شخص کےساتھ ایساہوناممکن بھی نہیں ہے لیکن جن افراد نے یہ تجربہ کیا ہے، ان کی دقیق رپورٹس سے ہم پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ نظریہ(موت کے قریب کا تجربہ) حقیقت پر مبنی ہے ۔ جو شخص دینی معلومات رکھتا ہے ،وہ ان رودادوں کوپڑھ کر بہت آسانی سےان کے صحیح یا غلط ہونے کاادراک کرسکتا ہے کیونکہ ان رودادوں میں بیان شدہ باتیں دینی کتب میں موجود ہیں ۔البتہ بعض اوقات مفاد پرست عناصر ان تجربوں کے نام پر ناجائز دوکانداری کرتے ہیں ۔
آخر میں یہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ تمام افراد جنہوں نے اِس تجربہ کو حاصل کیااور وہ زمان و مکان کی قیدسےآزاد ہوئے ، درحقیقت ان کی موت کا وقت مقرر نہیں تھا اور ملک الموت نے ہمیشہ کے لئےان کو اِس دنیا سے الگ نہیں کیا تھا ۔
لہذا اکثر رودادوں میں نامہ اعمال کے حساب کتاب کے بارے میں خبر نہیں ملتی جب کہ تمام ادیان کا یہ مشترکہ عقیدہ ہے کہ موت کے بعد حساب کتاب ضرورہوتا ہے۔ان واقعات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دیگر افراد کو یاددہانی کراتا ہے کہ مادی دنیا میں حد سےزیادہ غرق نہ ہو جاؤ اور خود کو واپسی اور معاد کے لئے آمادہ کرو ۔ اب ہم اِس طویل مقدمہ کے بعد ایک ایسے شخص کی روداد کی طرف بڑھ رہےہیں جو ایک خاص تجربہ سے گزرا ،وہ چند منٹ کے لئے اِس مادی دنیا سے خارج ہوا اور التماس اور دعاؤں کی بدولت اس کی واپسی ہوئی ،اُس کی روداد اپنی مثال آپ ہے ۔ جب میں بہت تلاش و کوشش کے بعد اس شخص تک پہنچا اور اس سے ملا قات اور گفتگوکی تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس کی گفتگو عین وہی مطالب بیان کرتی ہے جو معاد کے موضوعات پر کتب میں درج ہیں ۔ لہٰذا میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ بھی اِس سفر میں ہمارے ساتھ رہیں ۔

جاری ہے...

تبصرہ ارسال

You are replying to: .