۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
مسیحی

حوزہ / ایک ایسی خاتون ، جو کولمبیا چھوڑ کر اپنے خاندان کی بہتر زندگی  کے لئے امریکہ گئی تھی وہ کہتی ہے کہ کہ کس طرح اسلام نے ان کے بیٹے کو پریشان کن زندگی سے بچایا۔

حوزہ نیوز ایجنسی نے aboutislam کا حوالہ دیتے ہوئے ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ بلا ایک ایسی خاتون ہے۔ جو بہتر زندگی گزارنے کے لئے کولمبیا کو چھوڑ کر امریکہ روانہ ہوگئی تھی .

اب یہ خاتون کچھ سال پہلے کی اپنی یادوں کو اس طرح ذکر کرتی ہے۔ 
جب اسے اپنے بیٹوں سے بہت تکلیف ہوتی تھی. 
ان کے بیٹوں میں سے ایک نے ہائی اسکول چھوڑ دیا تھا اور دن رات شراب پی کر گلیوں میں پریشانی کا باعث بنا رہتا تھا ۔  اور دوسرے کو دو سال کی سزا ہو گئی تھی اور وہ دو سال سے جیل میں تھا. 

بلا  کہتی ہے کہ کچھ سمجھ  نہیں آرہا  تھا کہ میں کیا کروں۔ میں نے پندرہ سال قبل کولمبیا چھوڑ دیا تھا تاکہ ریاستہائے متحدہ میں بہتر خاندانی مستقبل کی تلاش کروں. میں نے اس راہ میں بہت سی سختیاں برداشت کی ۔ 
ایک دن جب میرے بیٹے(حورخہ)  گھر آیا تو میں نے اس کے چہرے میں کچھ نئی چیز کو مشاہدہ کیا ۔
میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا کہ کیا سب کچھ ٹھیک ہے؟ تو  اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا جی ماں ، لیکن اس نے اس عجیب کیفیت  کو ابھی بھی اپنے چہرے میں چھپا کر رکھا تھا. 
میں نے اپنے بیٹے کے پاس بیٹھ کر اسے تسلی دی۔  تب حورخہ نے کہا کہ وہ شراب پینا چھوڑنا چاہتے ہیں۔
مجھے یہ خبر سن کر بہت خوشی ہوئی۔ 
یہ میری وہی حاجت تھی جس کے لیے میں دن رات دعا کرتی تھی. 
 لیکن یہ سب کچھ نہیں تھا ،  یہ میرے بیٹے میں ایک بہت بڑی تبدیلی کا آغاز تھا۔


ایک نئے دوست:

اگلی صبح سے ، تبدیلیاں شروع ہوئیں۔ میرے بیٹے اب شراب نوشی نہیں کرتے  اور اپنا زیادہ تر وقت اپنے ہی کمرے میں صرف کرتے  ، کبھی کبھی کسی ایسے دوست کے ساتھ باہر جاتے ، جس کے بارے میں ،میں نہیں جانتی تھی۔
اس کے نئے دوست بہت ہی شائستہ تھے۔ اس نے چمکیلی سفید ٹوپی پہن رکھی تھی اور میں ہمیشہ اس کی آنکھوں میں ایک چمک محسوس کرتی تھی۔
ایک دن میں نے اس کے نئے دوست کو گھر مدعو کیا اور ایک سادہ  ڈنر تیار کیا اور وہ لوگ خدا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور جناب  مریم علیہا السلام کے بارے میں گفتگو  کرنے لگے۔
مجھے وہ سب کچھ یاد نہیں آرہا جو وہ لوگ کہہ رہے تھے ۔
 میں بہت حیران ہوئی کیونکہ میرے بیٹے نے پہلے کبھی خدا کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ 
میں  ہمیشہ حضرت مریم ، خدا اور عیسی مسیح کے لئے اپنے کمرے میں خاموشی سے دعا کرتی تھی ۔ لیکن میں نے اسے اپنی فیملی  میں کبھی بھی ایک بڑے مسئلے کے عنوان سے بیاں نہیں کیا تھا ۔


میں پوری طرح چونک گئی.

میں بہت مطمئن اور پر سکون ہوئی جب میرے بیٹے اور اس کے دوست نے خدا اور عیسی  مسیح کے بارے میں بات کی یہاں تک کہ میرے بیٹے نے یہ کہا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں ۔ 
تو میں فورا! چونک گئی!

میں نے پوچھا: کیا مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں؟ 
میں ،اس صورتحال میں بہت الجھن میں تھی۔ 
میں نے جلدی سے پلیٹوں کو اٹھایا اور وہاں  سے باہر نکل گئی ۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا  تھا کہ میں کیا کروں۔ میں اپنے کمرے میں گئی اور دعا پڑھنا شروع کردیا۔ بہت عجیب بات تھی۔ یہ پہلا موقع تھا میں  براہ راست خدا سے بات کر رہی تھی اور اس سے مدد کی درخواست کر رہی تھی۔


اسلام نے میرے بیٹوں  کو بدلا:

میں ،ایک لمبے عرصے تک اپنے کمرے میں بیٹھی رہی ، مجھے یاد نہیں کہ میں نے خدا سے کتنے گھنٹے  ، اپنے بچوں  ، اپنے اہل خانہ کی مدد کرنے کی درخواست کی۔

میرے بیٹے (حورخہ)  بہت دن تک گھر واپس نہیں آئے ۔ مجھے اس کی فکر ہونے لگی تھی۔ 
کہیں میں نے اسے اپنی پرانی طرز زندگی کی طرف لوٹنے پر مجبور تو نہیں کیا؟ 
یہ ایام میرے لئے بہت مشکل کا باعث بنے ہوئے تھے .

اسلام نے میرے بیٹے کو بہت تبدیل کیا۔ اس نے شراب پینا چھوڑ دیا۔ وہ رات کو باہر نہیں جاتے تھے  اور نہ ہی کسی سے لڑتے تھے۔ کیا یہ سب اس کے   مسلمان ہونے کی وجہ سے تھا!؟

میں اپنے پرانے گاؤں کے بہت سے مذہبی لوگوں کو جانتی تھی، جو  برا کام انجام دیتے ہیں  اور شراب پیتے تھے  اور پھر عبادت کرنے چرچ بھی جاتے تھے .لیکن مذہب اسلام نے میرے بیٹے کو  تبدیل کرنے کے ساتھ اچھا  شخص بھی بنادیا۔ میں اس کے گھر واپس آنے کا مزید انتظار نہیں کرسکتی تھی۔میں نے ان دنوں معمول سے زیادہ دعا کی۔ میں نے خدا(مسیح) سے کہا کہ حورخہ کو گھر بھیجوا دے .


خدا  ہمیں سیدھے راستے کی طرف لوٹائے: 

تقریباً دو ہفتوں  کے بعد ،حورخہ گھر واپس آگئے ۔ اس کا چہرہ چمک رہا تھا اور اس نے مجھے گلے لگا لیا۔ میں بہت خوش ہوئی اور وہ بھی خوش  اور پر امید تھے. 
ہم طویل گفتگو کے لئے بیٹھ گئے اور اس نے مجھے خدا کی وحدانیت اور عیسی  مسیح کے پیغمبر ہونے کے بارے میں بتایا۔ 
ہم نے روزانہ کی نمازوں اور اسلام کے اصولوں کے بارے میں گفتگو کی. 
میں سمجھ گئی تھی کہ حورخہ مسلمان ہو چکے ہیں .لیکن جب اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ اسلام قبول کرنا چاہتی ہیں ؟ تو میں نے اسے بتایا کہ مجھے مزید وقت کی ضرورت ہے۔تقریباً چھے مہینے گزرنے کے بعد  ، میں نے اپنے بیٹے کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک حسین اور خوبصورت لمحہ تھا۔

جب میرے دوسرے بیٹے کو جیل سے رہا کیا گیا تو ، اسے اسلام قبول کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ اور اس نے بھی اسلام  قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سے  ہی اسے دوبارہ کسی  پریشانی اور مشکلات کا سامنا نہیں ہوا ہے. 
اسلام کے ذریعے ، خدا نے مجھے اپنے بیٹوں کو واپس کردیا۔ خدا نے میرے بیٹوں کو   تباہی اور سرگردانی سے بچایا . 

نوٹ: اگرچہ بہت سے مغربی شہری اپنی طرز زندگی اور عیسائیت کے مسخ شدہ مذہب سے باز آ چکے ہیں اور اسلامی  تعلیمات کی طرف رجوع کر چکے ہیں ، لیکن ابھی بھی  اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے محروم ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .