۲۶ مهر ۱۴۰۰ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 18, 2021
18-26-18-4by2b353a220d11wbfq_800C450.jpg

حوزہ/شہید سلیمانی کے الفاظ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے طرز عمل نے مونیکا کو اسلام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا پھر وہ کاراکاس کے اسلامک سنٹر گئیں اور کلمہ پڑھتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، 42 سالہ مونیکا پیشے کے لحاظ سے ایک صحافی ہیں، اسلام قبول کرنے کے بارے میں مونیکا گزاردو کا کہنا ہے کہ میں نے لبنان کی 33 روزہ جنگ کے بارے میں شہید قاسم سلیمانی کا ایک انٹرویو سنا تھا۔ میں ان کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی، اس انٹرویو میں شہید قاسم سلیمانی نے امام حسین، عاشورا اور قرآن کے بارے میں بھی بات کی تھی۔

وہ خاتون صحافی جس کی زندگی شہید قاسم سلیمانی نے بدل دیا
خاتون صحافی مونیکا گازاردو

شہید قاسم سلیمانی کے کلام سننے کے بعد، مونیکا نے نیٹ پر امام حسین، کربلا، عاشورا اور قرآن جیسے مطلوبہ الفاظ کی تلاش شروع کردی، ان کلیدی الفاظ کے بارے میں معلومات اکھٹا کرنے کے بعد مونیکا اسلام کی طرف راغب ہوگئیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اسلامی تعلیمات کی وجہ سے قاسم سلیمانی جیسے عظیم شخص آج اسی مقام پر ہیں جسے ہم دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں، مونیکا کا خیال ہے کہ اسلامی تعلیمات در حقیقت انسانیت کے مفاد میں ہیں۔

حجت الاسلام سہیل اسعد
حجت الاسلام سہیل اسعد

جنوبی امریکہ سے تعلق رکھنے والے اسلامی مبلغ، حجت الاسلام سہیل اسعد کا کہنا ہے کہ جہاں محترمہ مونیکا گازاردو شہید قاسم سلیمانی کے کلام سے بہت متاثر ہوئی تھیں وہیں ضرورت مندوں کے لئے ایران کی امداد سے بہت متاثر ہوئی تھیں، سہیل اسعد کہتے ہیں کہ جب ایران نے دو جہازوں کے ذریعہ وینزویلا کو امدادی سامان بھیجا تو اس چیز نے مونیکا کو بہت متاثر کیا، اس نے اس سے یہ سمجھا کہ اسلام انسانیت سے محبت کرنے والا مذہب ہے جو دوسروں کی مدد کرتا ہے۔

محترمہ مونیکا پہلے عیسائی تھیں بعد میں شہید سلیمانی کے الفاظ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے طرز عمل نے انہیں اسلام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا، وہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک سال تک اسلام کے بارے میں مسلسل تحقیق کی، میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور نہج البلاغہ کا بھی بہت گہرائی سے مطالعہ کیا، مونیکا کا کہنا ہے کہ اس دوران میں نے ایک یورپی مسلمان کی حالیہ کتاب پڑھی جس کا عنوان تھا ، "ایران وہ ملک جس پر امریکہ حملہ کرنا چاہتا ہے"، یہ کتاب اسپانوی زبان میں تھی،  بعد میں مونیکا نے کچھ کتابوں کا مطالعہ بھی کیا جو شیعہ مسلمانوں کے بارے میں تھیں، اسی اثناء میں مونیکا اسلامک سنٹر گئیں اوراسلامی مبلغ سہیل اسعد سے اپنے سوالات کے جوابات طلب کرنا شروع کردیا، مکمل طور پر مطمئن ہوکر مونیکا کاراکاس کے اسلامک سنٹر گئیں اور کلمہ پڑھتے ہوئے اسلام قبول کر لیا۔ 
مونیکا نے مسلمان ہوتے ہی حجاب کا استعمال شروع کردیا، اب یہ صحافی ہر جگہ پردے میں جاتی ہیں، اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ جب انسان کسی نظریہ کو قبول کرتا ہے، تو اسے اس سے متعلق تمام چیزوں کو قبول کرنا چاہئے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بھی ایسا ہی کیا، اسلام قبول کرنے والی یہ عورت اپنے ارادوں میں اتنی مضبوط تھی کہ اس کے مسلمان ہونے کے بعد اس کے گھر والے بھی اس کی پیروی کرنے لگے، مونیکا کی والدہ نے اپنی بیٹی کے نئے مذہب کا تفصیل سے مطالعہ کرنا شروع کردیا، مونیکا اس بارے میں کہتی ہیں کہ میرے کنبے کا ادب سے رشتہ ہے، میرے خاندان کے زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب میں نے اسلام قبول کیا تو کسی نے بھی میری مخالفت نہیں کی، یہاں تک کہ انہوں نے میرا اسلام قبول کرنا قبول کیا اور میری والدہ اس وقت اسلام کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

وہ خاتون صحافی جس کی زندگی شہید قاسم سلیمانی نے بدل دیا
خاتون صحافی مونیکا گازاردو

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس کی تعلیمات ہر زمانے میں نمونہ عمل ہیں، یہ بنی نوع انسان کی آزادی کا دین ہے، پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ (ص) نے اس الہٰی دین کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اس راہ میں مختلف پریشانیوں کا سامنا کیا، اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں اتنی نرمی ہے کہ وہ انسانیت کی جدید ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں دوسرے مذاہب کا اسلام کی طرف جھکاؤ رہا ہے جو اب تک جاری ہے۔

اس کے مد مقابل دشمنان اسلام بھی قدیم زمانے سے ہی اسلام کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف رہے ہیں، اسلامی تعلیمات میں ایک خدا کی عبادت، پیغمبر اسلام (ص) اور ان کے اہلبیت کی پیروی کرنا، ظالموں اور بالادستوں کا مقابلہ کرنا، مظلوموں کی حفاظت کرنا، لوگوں سے پیار سے پیش آنا، غریبوں پر خصوصی توجہ دینا، خدا کی تخلیق میں گہرائی سے غور و فکر کرنا اور ایسی بہت سی چیزوں کا ذکر ملتا ہے، اسلام مسلمانوں کو گناہوں اور خود پسندی سے پرہیز کرنے کی تاکید کرتا ہے۔

اسلام کی اچھی تعلیمات کی وجہ سے آج کی دنیا میں خاص طور پر مغرب میں لوگوں میں اسلام کی طرف مائلیاں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں، تاہم اس وقت مغرب ہی میں اسلام دشمنی کا پروپیگنڈا بھی غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے، ابھی وہاں اسلامو فوبیا اپنے عروج پر ہے، اس کے باوجود سروے سنٹرز کہتے ہیں کہ اسلام پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے، پیو ریسرچ سنٹر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2060 تک اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں 70 فیصد پھیل چکا ہوگا، اسلامی اسکالرز کا کہنا ہے کہ اسلام اپنی منطقی تعلیمات کی بنیاد پر ترقی کرے گا اور پھیلتا چلا جائے گا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات منطقی ہیں جو انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہیں۔

یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کو مختلف جہتوں میں بڑھایا جارہا ہے، یہ کام سب سے پہلے برطانیہ نے مختلف حربوں کو اپنا کر کیا تھا، ان میں سے ایک وہابیت تھی، اسلام کی مخالفت کرنے والے ممالک اب داعش، طالبان، القاعدہ، بوکوحرم جیسے انتہا پسند گروہ تشکیل دے کر پوری دنیا میں اسلام کو بدنام کررہے ہیں ، دوسری طرف وہ ان دہشت گرد گروہوں کے ذریعہ مسلمانوں کو مار رہے ہیں، داعش جیسا گروہ تشکیل دے کر اور اس کے متشدد اقدامات کو پیش کرکے اسلام دشمن قوتوں کا مقصد لوگوں میں اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہے، یورپ اور امریکہ میں انتہا پسند یہودی اور صلیبی گروپ اسلام کو متشدد قرار دے کر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دنیا میں اسلام مخالف اس طرح کے بڑے اقدامات کے باوجود لوگ آج بھی اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرکے اسلام قبول کر رہے ہیں اس کی تازہ ترین مثال محترمہ کے ذریعہ رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کرنا ہے، جب محترمہ مونیکا گزاردو نے رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کیا اور اس کی اچھی چیزوں کے بارے میں پتہ چلا تو انہوں نے ان چیزوں کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی، وہ چاہتی ہیں کہ اسلام دشمنی کو اسلام دوستی میں تبدیل کیا جائے۔

ایسی ہی ایک خاتون جرمنی کی رہنے والی پروفیسر اوڈو تووروشکا ہیں، وہ فی الحال جرمنی میں سرگرم ہیں، پروفیسر اوڈو تووروشکا نے 2019 میں "اسلام، دشمن یا دوست" کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے۔ اس نئی مسلم ہونے والی خاتون پروفیسر کا کہنا ہے کہ جب جرمن سیاستدان اسلام کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے، یہ لوگ زیادہ تر یہ دعوی کرتے ہیں کہ جرمنی کے ساتھ اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا کہنا ہے کہ یورپ میں اسلام کی موجودگی کی تاریخ کو نظرانداز کیا جانا چاہئے، وہ کہتی ہیں کہ جب میں اور میرے شوہر "اسلام ، دشمن یا دوست" کتاب لکھ رہے تھے تو جرمنی کا اس وقت اسلام کے بارے میں اچھا نظریہ نہیں تھا، اس کے پیش نظر میں نے اپنے شوہر کے ساتھ لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیم دینے کے لئے مختلف علاقوں کا سفر کیا، اس وقت مجھے بہت سے دائیں بازو والوں نے ڈرایا اور دھمکی دی، ان کی دھمکیوں کے باوجود میں اپنے مشن سے دستبردار نہیں ہوئی۔

پروفیسر اوڈو تووروشکا کا کہنا ہے کہ اسلام اخلاقیات اور مناسب معاشرتی سلوک پر زور دیتا ہے۔ خدا نے قرآن مجید میں لوگوں کو شرک کرنے ، قتل کرنے ، عصمت دری کرنے ، لوگوں پر الزام لگانے ، شراب نوشی ، جوا اور دوسروں سے نفرت کرنے سے باز رکھا ہے، ان برائیوں کے خلاف اس الہی کتاب میں، سچائی، صبر، اخلاص، سخاوت، قربانی اور اسی طرح کی اچھی چیزوں کو اپنانے کے لئے کہا گیا ہے۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مسلمان تمام ہستی میں اپنے حقیقی مذہب کو پھیلاتے ہوئے کل کائنات میں اسلام کی نجات کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 0 =