۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
محمد احمد کاظمی

حوزہ/ معروف صحافی و تجزیہ نگار محمد احمد کاظمی کا حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کے بعد سے ایران اپنے فیصلے خود لیتا ہے اور امریکہ کو کوئی بھی ایسا ملک پسند نہیں ہے جو اس سے الگ اور آزاد ہو کر کے اپنے فیصلے خود کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے ہندستان کے معروف صحافی و تجزیہ نگار نئی دہلی میں مقیم، محمد احمد کاظمی، آپ صحافیت میں 40 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں، آپ نے بین الاقوامی معاملات پر زیادہ کثرت سے کام کیا۔ اور تجربہ کار صحافی سعید نقوی کی سربراہی میں، دور درشن کے ذریعے نشر کردہ، ورلڈ ویو انڈیا کے لئے عراق جنگ 2003 کا احاطہ کیا، جو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران 110 سے زیادہ ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔

میڈیا اسٹار ورلڈ چینل، جو یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارم پر قومی اور بین الاقوامی خبروں کو پیش کر رہا ہے اسکی ملکیت بھی آپ کے پاس ہے جسمیں آپکا شو نذر دنیا پر، خاص طور پر بین الاقوامی امور کو ہندوستانی نقطہ نظر کے ساتھ احاطہ کرتا ہے۔ ایسی اطلاعات جنہیں عام طور پر مغربی میڈیا اور نام نہاد مرکزی دھارے میں شامل میڈیا نشر نہیں کرتا ہے ، کو بھی شو میں کوریج ملتی ہے۔ اسی سلسلے میں امریکہ کی نئ حکومت اور ایران و عرب ممالک کے ساتھ کیا پالیسی ہوگی، ایک خصوصی انٹرویو جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

سلام علیکم سر سب سے پہلے ہم آپ کے مشکور ہیں کہ آپ نے ہمیں اپنا قیمتی وقت دیا، تو ہم اپنے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں، ہمارا سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ:

١۔   ایران کے تئیں بائیڈن کا رویہ کیسا ہوگا ؟
دیکھیے امریکا سے کسی بھی خیر کی امید کرنا بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کی بات ہے دوسرا یہ کہ جو بائیڈن خود اسی دور میں امریکہ کے وائس پریسیڈنٹ  جب اس نے کئی جنگیں چھیڑی ہیں اور اب تک انہوں نے نیوکلیئر ڈیل کے سلسلے میں جو بھی شرطیں رکھی ہیں بالکل یہ ویسے ہی ہیں جیسے کہ ٹرمپ شرط رکھاکرتے تھے  مثال کے طور پر ٹرمپ نیوکلیئر ڈیل کی خرابی یہ بتاتے تھے کہ اس میں بیلسٹک میزائل پروگرام بھی شامل ہونا چاہیے اس کے علاوہ ان کے مطابق علاقائی ملکوں میں امریکہ کی مداخلت اس سمجھوتہ میں  ہونی چاہیے  یعنی امریکہ کا الزام ہے کہ ایران پڑوس کے ملکوں میں مداخلت کرتا ہے تو شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں ہے اور اب جس طرح سے وہاں کے فارنٹ منسٹر جس کو سیکریٹری آف اسٹیٹ کہا جاتا ہے امریکہ میں انٹنی بلنکن نے یہ لکھا ہے کہ پہلے ایران نیوکلیئر ڈیل کی تمام شرائط پر واپس آئے اس کے بعد بات چیت ہوگی اور ایران نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ پہلے پابندیاں ہٹائے اس کے بعد ہم اپنی شرائط پر واپس آئیں گے اس میں جو بائیڈن کے زمانے میں بھی کوئی بڑی تبدیلی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے جس میں کوئی خیر کا پہلو ہے مزید یہ کہ جو بائیڈن کی فیملی میں خود یہودی ہیں ان پر دباؤ ہے ان کی وائس پریسیڈنٹ کملا ہیرس ان کے شوہر بچے یہودی ہیں تو یہ اسرائیل کے دباؤ سے بچ نہیں پائیں گے جو بھی امریکی پریسیڈنٹ اسرائیل کے دباؤ میں کام کرے گا مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایران کے لیے خیر کا سبب بنے گا۔
بہت بہت شکریہ سب سے پہلے سوال کے جواب کے لیے اب دوسرا سوال یہ ہے کہ

٢۔ جوبائیڈن ٹرمپ کی طرح تند مزاج ہیں یا سلجھے ہوئے مزاج کے حامل ہیں ؟
دیکھئے اصل میں ٹرمپ سیاستدان نہیں تھے وہ ایک کاروباری تھے اور امریکہ میں ایک لفظ ہے سیمیکل جسے اردو میں سنکی کہا جاتا ہے تو وہ سنکی مزاج کے تھے اور جو کچھ سوچتے تھے وہ زبان پر بھی لاتے تھے تو اس لیے ٹرمپ ذرا مختلف تھے اور وہ بڑبڑاتے تھے لیکن جو کچھ ان کے دل میں ہوتا تھا وہ زبان پر لاتے تھے لیکن جو بائیڈن اور دوسرے سیاستدان جو کامیاب سیاستدان ہیں اور انہیں تقریبا 35 ، 40 سال ہو چکے ہیں سیاست میں تو یہ بڑبڑائیں گے تو نہیں اتنا زبان پر نہیں لائیں گے  لیکن کام وہی کریں گے جو پہلے کے سیاستدان  کرتے آئے ہیں کوئی خاص ایسی کوئی تبدیلی مجھے نہیں لگتی کہ بنیادی پالیسیوں میں تبدیلی آئے صرف اور صرف پوزیٹیو قسم کے اشارے ہوں گے ظاہر کریں گے کہ ہم انسان دوست ہیں ظاہر کریں گے کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن اسرائیل کی مدد یا اسرائیل کا سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ کسی کے بھی ساتھ کوئی انصاف کرسکیں گے ایسی کوئی امید نہیں ہے ۔

٣۔  سر ہمارا تیسرا سوال یہ ہے کہ امریکی صدارت کٹپتلی ہے یا خود مختار ہے ؟
دیکھئے اسے امریکن دوسری طرح سے کہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا کنسٹیٹیوشن بہت مضبوط ہے ہمارے ادارے مضبوط ہیں اور وہ کسی ایک فرد کے چاروں طرف نہیں گھومتے یہ ان کا دعویٰ ہے ، جب آپ یہ کہتے ہیں کہ اس میں تبدیلی نہیں آتی تو تمام صدارت میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کی خود دنیا بھر میں جو پالیسی ہے وہ یہ ہے کہ جو ممالک ان کی پسند کے ہیں ان سے اپنے فوائد آسانی سے حاصل کر لیتے ہیں لیکن جن ملکوں میں ان کے پسند کی حکومت نہیں ہوتی ان ملکوں میں دہشت گرد بھیجتے ہیں ان ملکوں میں پڑوسی ملکوں سے جنگ کرواتے ہیں اور اپنے دشمن کی تباہی کا انتظام کرتے ہیں ان کے فائدے کا کام اس طرح سے ہے کہ وہ ہتھیار بیچتے ہیں دو ملکوں کے بیچ خلفشار پیدا کرتے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے ہیں مسلسل امریکہ کے تمام پریسیڈنٹس یہی کام کرتے ہیں جو بھی ہتھیار بنانے والی کمپنیاں ہیں بڑی بڑی ان سے انہیں فنڈنگ ہوتی ہے کچھ لوگ تو ان کے ہتھیاروں کے بڑے کاروباری ہیں جیسے ایک زمانے میں ڈکچنی ہوا کرتے تھے امریکہ کے وائس پریسیڈنٹ،وہ خود ہتھیاروں کی کمپنی میں حصہ دار تھے ہتھیاروں کا کاروبار اس لیے بھی بڑے فائدے کا ہے کہ  اس میں کوئی قیمت ایسے طے نہیں کی جا سکتی ہے کہ اس میں پروڈکشن کاسٹ کتنا ہے اور بکنے کا کمال کتنا ہے کیونکہ نفسیاتی طور پر جنگ سے ڈرا کر ہتھیار بیچے جاتے ہیں اور پھر خریدار اس کی کچھ بھی قیمت دینے کو تیار ہو جاتا ہے اور اگر خریدار ملک کا حاکم ان کا ایجنٹ ہو تو اور بھی آسانی سے جو پیسہ وہ چاہتے ہیں وہ انہیں مل جاتا ہے تو ان کے لیے یہ بہت ہی فائدے کا سودا ہے اور ان کو لگتا ہے کہ ہم کئی ہزار کلومیٹر دور کے فاصلے پر ہیں تو یہ مصیبت ان کے سر نہیں آئے گی اور پھر وہ دہشتگردی کے ذریعہ سے دوسرے ملکوں کو برباد کرتے ہیں جیسے کہ عراق اور سیریا چاہے جنگوں کے ذریعہ سے ہو جیسے ایران عراق کی جنگ ہوئی تھی صدام حسین کے ذریعہ 8 سال کی جنگ تو یہ جنگ بھی کرواتے ہیں دہشت گرد کو بھی بھیجتے ہیں سیاسی لوگوں کو خریدتے ہیں حکمرانوں کو خریدتے ہیں ان کو بلیک میل کرتے ہیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اصل میں امریکہ کی انٹرنیشنل ڈاکوؤں کی حیثیت ہے جنہیں دوسرے ملکوں سے لوٹ کھسوٹ کرکے اپنے ملک میں پیسہ چاہیے اور ان کا صرف یہی مقصد ہوتا ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب بھی امریکہ مڈل ایسٹ سے باہر نکلے گا اور مجھے پورا یقین ہے کہ انشاء اللہ بہت جلد نکلے گا تو خود اس کے مالی حالات کمزور ہوں گے بہت کمزور ہوں گے ۔

۴۔ کیا امریکی صدارت مکمل طور پر کٹ پتلی ہے یا خود مختار ہے اور اگر خود مختار ہے تو کس حد تک انہیں اختیار حاصل ہے ؟

نہیں اختیارات حاصل ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ان اختیارات کو استعمال کرنے کے فیصلے میں تو کچھ لوگ بیچ میں ہیں مثال کے طور پر ٹرمپ کے بارے میں یہ تھا کہ کسی کو اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کل کیا کہہ دیں گے اور پرسوں کیا کہہ دیں گے آج کیا ہے اور کل کیا ہے کچھ بھی پتا نہیں تھا ان کے جو ماتحت لوگ جو لوگ 2017 کے شروع میں وائٹ ہاؤس کی ٹیم میں تھے وائٹ ہاؤس میں آخر تک ٹرمپ کے علاوہ کوئی نہیں بچا تھا تو غیر یقینی قسم کی حالت تھی اس شخصیت کی کہ وہ کب کچھ کیا کر دے گا جیسے کہ امریکہ کے آخری دس دن مثال کے طور پر گزرے ہیں امریکہ میں ٦ سے ٢٠ جنوری کے بیچ میں جس غیر یقینی حالت سے امریکا گزرا ہے ٹرمپ کی وجہ سے ہی تھا سب کو ڈر تھا کہ یہ کہیں جنگ شروع کر دے ۔تو اختیار تو ہیں لیکن ان اختیارات کو استعمال کرنے کا جو پروسیجر ہے اس میں بہت سے لوگ ہوتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ملک کی قسمت کا اگر کسی ایک شخص کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو یہ نقصان کا حامل ہوگا ۔

۵۔ عرب دوستی اور ایران دشمنی سے امریکہ کے مقاصد کیا ہیں ؟
بنیادی بات یہ ہے کہ انقلاب کے بعد سے ایران اپنے فیصلے خود لیتا ہے اور امریکہ کو کوئی بھی ایسا ملک پسند نہیں ہے جو اس سے الگ اور آزاد ہو کر کے اپنے فیصلے خود کرے اور دوسرے یہ کہ انقلاب اسلامی کے ذریعے جو خمینی صاحب کے توسط سے انجام پایا اس سے اس کے پٹھو رضا پہلوی کی سرکار گر گئی جس کے نتیجے میں اس کے ہاتھ سے ایک بڑی مملکت جاتی رہی اور اس کے علاوہ جو آیت اللہ خمینی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ہمارا انقلاب ایکسپورٹ ہوگا تو اس کا صحیح معنیٰ اب سمجھ میں آرہا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کے اثر و رسوخ عراق سیریا یمن اور لبنان میں پائے جاتے ہیں یہ انقلاب کا ہی اثر ہے کہ رجسٹرس فورس امریکہ اور اسرائیل سے لڑنے کے لیے کھڑی ہے تو امریکا یہ سمجھتا ہے کہ جو حریت پسند ایران کا انقلاب ہے اس سے پورا ملک پورا خطہ ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے تو ظاہر ہے اسی وجہ سے امریکہ ایران کو بہت بڑا دشمن مانتا ہے دوسری طرف سعودی عرب کے آپ نے بات کی تو سعودی عرب کے حکمران امریکہ کے پٹھو ہیں اور ان کے غلام ہیں اور غلاموں سے محبت نہیں ہوتی بلکہ انہیں استعمال کیا جاتا ہے اور آخر میں امریکا نے اسرائیل کے تعلقات درست کروائے ہیں عرب ممالک سے وہ غلامی کا نتیجہ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عرب ممالک کی عوام اپنی حکومت کے ساتھ نہیں ہے اور اس کی ایک مثال میں آپ کو دوں جب متحدہ عرب امارات اور بحرین کا اسرائیل کے ساتھ ایگریمنٹ ہوا ہے اس زمانے میں عرب ممالک کے سوشل میڈیا کی بنیاد پر ایک سروے کروایا تھا اسرائیل کی ایک منسٹری ہے منسٹری آف اسٹریٹجک افیئرس اس نے ایک سروے کروایا تھا باقاعدہ اور اس سروے میں یہ نتیجہ نکلا تھا کہ 90 فیصد عرب عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو پسند نہیں کرتی ہے تو یہ خود اسرائیل کے میڈیا میں رپورٹ آئی تھی تو میں نے باقاعدہ رپورٹنگ کی تھی اس کی اور اس میں منسٹری آف اسٹریٹیجک افیئرس نے سروے کرایا تھا تو یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ عرب عوام جس کے حکمران امریکہ اور اسرائیل کے غلام بنے ہوئے ہیں وہ اب بھی اپنا آئیڈل ایران کو مانتی ہے خود عرب ملکوں میں جو سب سے زیادہ پوپولر لیڈر ہیں باقاعدہ عوامی سطح پر میں نے بہت سارے ملکوں کا سفر کیا تو اس میں حسن نصراللہ کو عربوں میں سب سے زیادہ پوپولر لیڈر سمجھا جاتا ہے اور اگر مسلم دنیا کی بات کی جائے تو اس میں عرب عوام کے درمیان  ایران کی لیڈر شپ کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے ان کو اس بات کا احساس ہے کہ تمام تر پابندیوں کے باوجود ایران نے ہر ایک میدان میں ترقی جبکہ عرب ممالک کے پاس تیل کا بہت بڑا سرمایہ ہے اس کے باوجود وہ دن بدن غریب ہوتے جا رہے ہیں ان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اسی لئے وہ ایران کو آئیڈیل کے طور پر دیکھتے ہیں وہاں عوام اور حکمرانوں میں بہت دوری ہے آپس میں کوئی یکسانیت نہیں ہے وہاں کے حکمران جن سے محبت کر رہے ہیں وہیں کی عوام ان سے نفرت کر رہی ہے 
سر اگر دامن قت میں گنجائش ہو تو کیا چھٹا سوال میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں ؟
جی بالکل ایک آدھ سوال اور آپ کر سکتے ہیں کیونکہ وقت بہت زیادہ ہو چکا ہے ۔

٦۔  ایران پر امریکہ کے پے در پے سرد حملوں سے خود امریکہ کا کیا فائدہ ہوا ؟
اصل میں امریکہ تنہا ہوا ہے خاص طور پر آپ جن حملوں کی بات کر رہے ہیں تو ایک طرف سیاسی حملہ نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کے باہر نکلنے کے ذریعے ہوا اس کے بعد جس طرح سے امریکہ کے نزدیکی دوست خاص طور سے یورپین ممالک اور کینیڈا جو اس کے نزدیک ترین دوست سمجھے جاتے تھے انہوں نے امریکہ سے دوری بنا لی امریکہ سے آزاد رہ کر کے فیصلے لینے کا رجحان پیدا کیا تو ایران کی دشمنی سے امریکہ خود بین الاقوامی سطح پر اکیلا اور تنہا ہوا ہے جس سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔

٧۔  سر میرا آخری سوال یہ ہے کہ عرب ممالک کا اسرائیل اور امریکہ سے توافق کیا ظالم کے ظلم میں شراکت کے مترادف نہیں ہے؟
بالکل ایسا ہی ہے جس طرح سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بڑھائے جا رہے ہیں اس میں فلسطینیوں کے قاتل کے ساتھ ہاتھ ملانا بیت المقدس مسجد اقصی کے قابضوں سے ہاتھ ملانا یہ ظاہر ہے کہ وہ نا صرف مسلم برادری سے بلکہ انسانیت کے خلاف غداری ہے مجھے تو لگتا ہے کہ ی حکمراں بہت جلد اپنے اس نتیجے پر پہنچیں گے خود سعودی عرب یونائٹیڈ عرب ایمریٹس اس قسم کے ملکوں میں بہت سے فلسطینی جو آزادی کے خواہاں تھے ان کو جیل میں ڈالا گیا اور ان سے ہمدردی رکھنے والوں کو بھی جیلوں میں ڈالا گیا تو ظاہر ہے کہ یہ حکومتیں جب اسرائیل سے ہاتھ ملا رہی ہیں تو اس کی قیمت بھی انہیں چکانا پڑے گا ۔

ایک بار پھر سے حوزہ نیوز ایجنسی آپ کا مشکور ہے کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں سونپا ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 3 =