تحریر: نسیمہ حسین جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی|
ابتدائیہ
کربلا کا 61 ہجری کا واقعہ صرف ایک عسکری معرکہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور فکری انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے دو ستون تھے ایک امام حسین علیہ السلام کی قربانی اور دوسرا کربلا کی خواتین کی استقامت۔ رہبر شہید سید علی خامنہ ای کے مطابق واقعہ کربلا میں خواتین کا کردار صبر کرنے تک محدود نہیں تھا؛ بلکہ یہ امام حسین علیہ السلام کے مشن کا ایک "تکمیلی اور ابلاغی" حصہ تھا۔ رہبر انقلاب کا ماننا ہے کہ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور دیگر خواتین نہ ہوتی تو کربلا کا خون ناحق تاریک کے اندھیروں میں دفن ہو جاتا۔ خواتین نے یزیدی درباروں اور بازاروں میں اپنے خطبات کے ذریعے عزاداروں کے جذبات کو بیدار کیا اور تحریک حسینی کا اصل پیغام دنیا تک پہنچایا۔
سانحہء عاشوراء کے بعد جب قافلہ اسیر ہوا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے نہ صرف خواتین اور بچوں کی قیادت کی، بلکہ اپنی بے مثال استقامت اور صبر سے دشمن کے تمام پروپیگنڈوں کو ناکام بنا دیا۔
رہبر معظم کے نزدیک خواتین کا کردار کربلا میں ظاہری شکست کو ایک ابدی اخلاقی اور سیاسی فتح میں تبدیل کرنے کا باعث بنا جس نے دنیا کے لیے باطل کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات پیدا کی۔ مختصر یہ کہ کربلا کی تحریک میں مردوں نے خون دے کر فریضہ ادا کیا تو خواتین نے اس خون کے فلسفے کو اپنی حکمت خطابت اور صبر کے ذریعے زندہ رکھا۔
اپ کے نزدیک خواتین نہ صرف خاندان کی بنیاد ہیں بلکہ اسلامی انقلاب اور تعمیر معاشرے کے ہر محاذ پر مردوں کے شانہ بشانہ ایک فیصلہ کن اور کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
اپ کے مطابق اسلامی انقلاب کی کامیابی، دفاع مقدس (ایران عراق جنگ) اور دفاع حرم کے محاذوں پر خواتین کا کردار شاندار و بے مثال رہا ہے انہوں نے ہر مشکل دور میں اپنی بصیرت اور شجاعت سے تاریخ کا دھار موڑا ہے۔
اپ کا ماننا ہے کہ اگر کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا اصل مقصد اور پیغام اج بھی زندہ ہے تو اس کی بنیادی وجہ وہ اسیر خواتین اور بچے ہیں جنہوں نے مظالم کے باوجود اس مشن کو ہر جگہ پہنچایا۔
تاریخی کردار
تاریخ میں عورت کے کردار کے موضوع پر ایک بحث درپیش ہے کہ عورت کا واقعی تاریخ سازی میں کوئی کردار ہے یا نہیں اور اصل میں اس کا کوئی کردار ہو بھی سکتا یا نہیں؟اس کا کوئی کردار ہونا بھی چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے؟اسلام کی رو سے اس معاملے کو کس طرح حل کرنا چاہیے ؟
تاریخ میں عورت کا بھی کردار رہا ہے اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ تاریخ سازی میں عورت کا بالواسطہ کردار ہے۔ کہتے ہیں کہ عورت مرد کی تعمیر کرتی ہے اور مرد تاریخ بناتا ہے مرد عورت کی تعمیر میں جس حد تک دخل رکھ سکتا ہے اس سے زیادہ اور عورت کو مرد کے بنانے میں دخل ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی کی نظر میں کربلا کی خواتین خصوصا حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے واقع کربلا کے بعد عاشورہ کو زندہ رکھنے اور اس کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں ناقابل فراموش اور تاریخی کردار ادا کیا۔
یقینا اگر حضرت زینب نہ ہوتی تو واقعہ کربلا باقی نہ رہتا اور نہ ہی زینب کبری سلام اللہ علیہا کے بغیر عاشورہ کا واقعہ اتنا عام ہوتا اور تاریخ میں زندہ جاویدان بن کر ابھرتا۔واقعہ عاشورہ کے آغاز سے آخر تک علی علیہ السلام کی بیٹی زینب علیہ السلام کی شخصیت اور کردار اتنا نمایا ہے کہ انسانیت سوچنے لگتی ہے کہ یہ ایک خاتون کے لباس اور حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی کی صورت میں ایک دوسرا حسین علیہ السلام ہے۔ قطع نظر اس کے کہ اگر جناب زینب سلام اللہ علیہا نہ ہوتی تو عاشورہ کے بعد کیا ہوتا شاید امام زین العابدین علیہ السلام بھی شہید کر دیئے جاتے شاید امام حسین علیہ السلام کا پیغام کہیں بھی نہ پہنچتا۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے پہلے بھی جناب زینب سلام اللہ علیہا اپ کے لیے ایک ایسے سچے غم خوار کی مانند تھی کہ ان کی موجودگی میں امام حسین علیہ السلام بھی تنہائی اور تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے تھے۔ انسان ایسے کردار کو جناب سلام اللہ زینب سلام اللہ علیہا کے مقدس چہرے پر اپ کے فرمودات اور اپ کے کردار میں مشاہدہ کر سکتا ہے۔
پیغام رسانی اور استقامت
جنگ کے بعد جب سب شہید ہو گئے تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور امام سجاد علیہ السلام کی قیادت میں خواتین نے قیدی بننے کے باوجود انتہائی استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا انہوں نے خون کو پیغام میں بدل دیا ۔"زینب کی استقامت نے ظلم کے سامنے جھکنے کو ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا"۔
مظلومیت کو عزت میں بدلنا
اپ کے خطبات نے یزیدی پروپگنڈے کو خاک میں ملا دیا اور لوگوں پر واضح کیا کہ اصل ظالم کون ہے جس سے بنی امیہ کی حکومت کی بنیادیں ہل گئیں۔ ایسی خواتین کے کردار سے ثابت ہوا کہ جنگ کے میدان کے علاوہ "جہاد تبین" حقائق کو واضح کرنا اور فکری بیداری پھیلانا بھی نہایت اہم ہے۔
بدترین حالت میں بھی ان ہستیوں نے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جب یزید نے فتح کا غرور دکھایا تو حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے فرمایا: "ما رايت الا جميله"میں نے کربلا میں خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد قافلہ حسینی کی قیادت اور حفاظت کی ذمہ داری خواتین کے کندھوں پر تھی انہوں نے دشمن کے قید میں بھی یتیموں کی سرپرستی اور اسلامی اقدار کی حفاظت کی۔ خواتین کی اسی بیداری نے یزیدی تخت کو ہلا کر رکھ دیا اور واقعہ عاشورہ کو ایک ابدی تحریک بنا دیا۔ایت اللہ خامنہائی کے مطابق کربلا کی خواتین کا کردار امت مسلمہ کے لیے ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹ جانے اور مصیبتوں میں صبر و استقامت کا عملی درس ہے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ عورت معاشرے کو بیدار کرنے اور تاریخ کا رخ موڑنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
استاد شہید مطہری اپنی کتاب حماسہ حسینی میں لکھتے ہیں: زینب سلام اللہ علیہا اکیلی یہ جنگ نہیں لڑ سکتی تھی بلکہ ان کے ساتھ دوسری خواتین بھی شامل تھی جن میں ام کلثوم ان کی کابینہ تھیں۔
کوفہ کے بازار میں جب زینب سلام اللہ علیہا خاموش ہوئی تو ام کلثوم نے خطبہ شروع کیا۔ آپ نے فرمایا: "ہم رسول اللہ کی بیٹیاں ہیں ہمیں قیدی بنا کر بازاروں میں پھرایا جا رہا" ہے اس سے لوگوں کی ضمیر جاگے۔
اسیری میں بچوں خاص طور پر جناب سکینہ کی دیکھ بھال میں جناب کلثوم کے ذمے تھی تاکہ زینب سلام اللہ علیہا بلا رکاوٹ خطبے دے سکیں۔
شہید مطہری لکھتے ہیں کہ میں حضرت ام کلثوم نے ثابت کیا قیادت کے پیچھے ایک مضبوط ٹیم ہوتی ہے۔ جناب ام کلثوم حضرت زینب کا دائیں بازو تھیں۔ انہوں نے خیمے سنبھالے تاکہ حضرت زینب منبر سنواریں۔ شہید مطہری مزید فرماتے ہیں: شہزادی سکینہ کا ایک انسو پوری امت کو ہلا دیتا ہے اور وہ پوچھتی ہے ہمارا قصور کیا ہے ؟
شام کے خرابے میں جب حضرت سکینہ نے خواب میں بابا کا کٹا سر دیکھا اور "اے بابا! کون ہے جس نے آپ کو مارا ؟"کہہ کر جان دی۔
شہید مطہری اسے "ظلم کے خلاف سب سے بڑی گواہی" کہتے ہیں۔
سکینہ بنت الحسین زندہ رہیں تو ایک روایت بن جاتیں لیکن شہید ہو کر وہ امت کے ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہ گئین۔
رہبر شہید جناب ام البنین کو انقلاب کی ماں کہتے ہیں ان کے نزدیک کربلا صرف میدان میں نہیں لڑی گئی بلکہ 20 سال پہلے مدینے کے گھر میں لڑی گئی تھی۔
انہوں نے چار بیٹوں عباس، جعفر ،عثمان، عبداللہ کو بچپن سے ہی سکھایا تم حسین فاظمہ کے غلام ہو۔ تمہارا خون حسین کے لیے ہے حضرت عباس نے نہرِ فرات سے پانی لاتے ہوئے دونوں بازو کٹوا دیے لیکن مشک نہیں چھوڑی شہید مطہری کہتے ہیں کہ یہ تلوار کا کمال نہیں ماں کی تربیت کا کمال ہے۔ اسی طرح ام وہب کوئی ہاشمی خاتون نہیں تھیں وہ ایک عام عرب خاتون تھیں۔ عبداللہ بن عمیر کلبی کی بیوی تھی جب عبداللہ ہچکچائے تو ام وہاب نے کہا اٹھو! حسین کے ساتھ جاؤ۔ میں تمہیں اللہ کے حوالے کرتی ہوں
شوہر کے ٹکڑے ہونے کے بعد جب سر ان کے پاس پھینکا گیا تو انہوں وہ سر اٹھا کر دشمن پر مارا اور کہا "لے یہ تیرا تحفہ" پھر صبر سے بیٹھ گئیں۔
ام وہب بتاتی ہیں کہ کربلا صرف سیدوں کا نہیں تھا ہر عام مسلمان کا تھا اس "یک عورت نے پوری قوم کو بیدار کر دیا۔
انقلاب کی کامیابی میں خواتین کا کردار
رہبر انقلاب اسلامی انقلاب کی کامیابی میں خواتین کے کردار کے بارے میں یوں بیان کرتے ہیں:
عائلی اور خاندانی نظام میں ایک مسلمان عورت اپنے گھرانے میں بہت سے وظائف کی حامل ہے کہ جو گھرانے میں اس کے بنیادی رکن ہوتے، تربیت اولاد ہدایت اور شوہر کی اطاعت کرنا عبادت ہے۔ ایران میں شاہی طاغوتی حکومت سے مقابلوں میں بہت سے مرد میدان مبارزہ میں یزد میں مصروف تھے لیکن ان کی خواتین نے انہیں اجازت نہیں دی کہ وہ شاہی حکومت سے مقابلے کو جاری رکھیں کیونکہ ان میں اس بات کی قوت نہیں تھی کہ وہ مقابلے کی سختیوں کو تحمل سے برداشت کریں اس کے برخلاف بہت سی خواتین اس مبارکے کی راہ میں استقامت اور ڈٹے رہنے پر نہ صرف یہ کہ اپنے شوہروں کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں بلکہ ان کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ہمتوں کو بلند رکھنے کے لیے روحی طور پر ان کی پشت پناہی بھی کر دی تھی۔ سن 1977 اور 1978 کے عوامی مظاہروں میں جب ملک کے کوچہ بازاروں سب عوام سے لڑ پڑے تھے خواتین اپنے شوہر اور بچوں کو مظاہروں، شاہی حکومت سے مبارزوں و مقابلے کرنے اور عوامی رضاکار فوجی بسیج کو فعال بنانے میں اہم کلیدی کردار کی حامل تھیں۔
انقلاب اور 800 سالہ تھوپی گئی جنگ کے دوران ہماری ماؤں نے اپنے بیٹوں کو راہ اسلام میں سر بےکف مجاہدوں اور دلیروں میں کہ جب بیویوں نے اپنے شوہروں کو صاحب استقامت اور مضبوط انسان میں تبدیل کر دیا تھا۔ یہ اولاد اور شوہر کے لیے بیوی کا کردار اس کے عمل کی تاثیر وہ کردار ہے کہ جس سے ایک عورت اپنے گھرانے میں ادا کر سکتی ہے۔ اور یہ اس کے بنیادی کاموں میں شامل ہے اولاد کی صحیح تربیت اور زندگی کے بڑے بڑے میدانوں اور امتحانوں میں قدم رکھنے کے لیے شوہر کی روحی طور پر مدد کرنا ایک عورت کی اہم ترین کاموں میں شامل ہے۔ ہم خدا کے شکر گزار ہیں کہ ہماری مسلمان ایرانی خواتین نے اس میدان میں بھی سب سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔
البتہ ایران کی شجاع، ہوشیار استقامت اور صبر کرنے والی خواتین نے انقلاب اور جنگ کے زمانے میں خواہ محاذ جنگ پر ہو یا محاذ جنگ کے پیچھے یا پھر گھر کی چار دیواری کے اندر بالعموم تمام میدانوں میں بہت فعال کردار ادا کیا ہے اور آج بھی سیاست ثقافت اور انقلاب کے میدانوں میں دشمنوں کے مقابلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔
انقلاب میں خواتین کا صبر، استقامت اور معرفت
رہبرِ انقلاب خواتین کے صبر و استقامت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب ایران کی اسلامی تحریک انقلاب کی دہلیز پر پہنچی تو ہماری خواتین نے اسلام کی تعلیمات اور خواتین کے بارے میں دیے گئے نظریے کی روشنی میں قدم بڑھایا اور میدان میں آئیں۔ اسی لیے امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اگر خواتین اس تحریک میں ساتھ نہ دیتیں تو انقلاب کبھی کامیاب نہ ہوتا۔ یقیناً اگر خواتین انقلاب کے دوران ہونے والے عظیم الشان مظاہروں میں شریک نہ ہوتیں تو انقلاب کامیابی سے ہمکنار نہ ہوتا۔
آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے پورے عرصے میں بھی یہی خواتین تھیں۔ تین تین شہیدوں کی مائیں اور دیگر شہداء کی مائیں اور بیویاں؛ مجھے ان جیسے ہزاروں افراد سے گفتگو کرنے اور ان کے جذبات کو قریب سے دیکھنے کا فخر حاصل ہے۔ اگر یہ خواتین اپنے جوان بیٹوں اور شوہروں کی فداکاری کے نتیجے میں، ان کے زخمی جسموں، کٹے ہوئے اعضاء اور تمام مشکلات کا اپنے ایمان، صبر، استقامت، معرفت، شعور اور آگاہی سے جواب نہ دیتیں تو جنگ کبھی کامیاب نہ ہوتی۔
اگر یہ شہیدوں کی مائیں اور بیویاں بے صبری کا مظاہرہ کرتیں تو مجاہدین کے دلوں میں جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت کا جذبہ ٹھنڈا پڑ جاتا۔ یہ جوش و خروش سامنے نہ آتا اور ہمارے معاشرے میں اس طرح کا ولولہ اور حوصلہ پیدا نہ ہوتا۔
نتیجہ:
ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کربلا کی خواتین سے لے کر آج کی خواتین تک، جو اس معاشرے میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں، انہی کی وجہ سے ایک بہترین معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ خواتین ہر حال میں مثبت اور فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ایک خاتون کا حجاب سماجی وقار میں اضافہ کرتا ہے اور اسے آگے بڑھنے سے نہیں روکتا۔ خواتین مختلف روپ میں معاشرے کی ہمہ جہت تشکیل اور تعمیر میں براہِ راست شریک ہیں۔ ان کے بغیر کائنات کی رنگینی اور تنوع بے مقصد ہو جاتا ہے۔ ان کے وجود کا انکار درحقیقت نظامِ فطرت کا انکار ہے۔









آپ کا تبصرہ