حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ ہائے علمیہ ایران کے مدیر کے خصوصی معاون حجت الاسلام والمسلمین ابو القاسم دولابی نے رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید حضرت آیت الله العظمیٰ امام خامنہایؒ کے پیکرِ مطہر سے الوداع اور متوقع تشییعِ جنازہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امامِ شہیدؒ کی تشییع نے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تاریخ ساز پیغامات دئیے ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین ابو القاسم دولابی کی نگاہ سے امامِ شہیدؒ کی پر شکوہ تشییعِ جنازے کے دور رس اور اہم پیغامات مندرجہ ذیل ہیں:
1.انقلابِ اسلامی کے آرمانوں سے تجدیدِ عہد
انہوں نے کہا کہ عوام کی غیر معمولی شرکت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ملتِ ایران کا انقلابِ اسلامی کے اصولوں اور اقدار سے تعلق کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں بلکہ یہ وابستگی بدستور مضبوط اور زندہ ہے۔ یہ عظیم اجتماع اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اسلامی نظام کا سماجی سرمایہ تاریخ کے حساس ترین مواقع پر پوری قوت کے ساتھ اپنا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

2.حساس حالات میں قومی اتحاد کا مظاہرہ
حجۃ الاسلام والمسلمین دولابی نے کہا کہ اس عظیم اجتماع نے دوستوں اور دشمنوں دونوں کو قومی وحدت، باہمی یکجہتی اور داخلی استحکام کا واضح پیغام دیا۔ اس عوامی منظر نے اس تصور کو بھی کمزور کر دیا کہ ایک رہنما کی عدم موجودگی سے ملک انتشار یا نظامی بحران کا شکار ہو جائے گا۔

3.اسلامی جمہوریہ ایران کی نرم طاقت کا اظہار
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں عظیم عوامی اجتماعات کو "نرم طاقت" (Soft Power) کی اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔ امامِ شہیدؒ کی تشییع میں لاکھوں افراد کی شرکت اس حقیقت کی غماز ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران آج بھی مضبوط عوامی حمایت سے برخوردار ہے اور اس کی مشروعیت صرف عسکری قوت پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد اور اجتماعی تائید پر بھی استوار ہے۔

4.دشمنوں کی شکست لیے کا واضح پیغام
انہوں نے کہا کہ حساس مواقع پر عوامی اتحاد کا یہ شاندار مظاہرہ اس امر کا اعلان ہے کہ بیرونی دباؤ، اقتصادی پابندیاں اور فوجی دھمکیاں ملتِ ایران کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں۔ لہٰذا قیادت کی منتقلی کے مرحلے سے فائدہ اٹھانے کی ہر کوشش ایک سنگین تزویراتی غلطی ثابت ہوگی۔
5.مقاومتی محاذ کے حوصلوں میں اضافہ
انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی مزاحمتی تحریکوں کے لیے یہ عظیم الشان مراسم انقلابِ اسلامی کے تسلسل اور عوامی حمایت کی واضح علامت ہیں، جو محاذِ مقاومت کے حوصلے، اعتماد اور استقامت کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
6.عالمی رائے عامہ پر اثرات
حجۃ الاسلام والمسلمین دولابی کے مطابق اگر عالمی ذرائع ابلاغ اس تاریخی اجتماع کی وسیع پیمانے پر کوریج کریں تو دنیا کے سامنے ایران میں عوامی شرکت کی ایک ایسی تصویر آئے گی جو ایران کے بارے میں رائج بہت سے تصورات سے مختلف ہوگی اور اس سے عالمی رائے عامہ پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

7.نظام کی ادارہ جاتی مضبوطی کا ثبوت
انہوں نے کہا کہ اس عظیم الشان مراسم کا پُرامن، منظم اور باوقار انعقاد، نیز ریاستی اداروں کی مسلسل فعالیت، اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر قائم ہے اور قیادت کی منتقلی جیسے حساس مرحلے کو مؤثر انداز میں سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
8.تشییعِ امامِ شہید کا اہم ترین بین الاقوامی اثر
انہوں نے کہا کہ سیاسی نقطۂ نظر سے اس عظیم الشان تشییع کا سب سے اہم بین الاقوامی اثر اسلامی جمہوریہ ایران کے استحکام، مشروعیت اور قومی یکجہتی کے تصور کو مزید تقویت دینا اور دشمنوں کی ان امیدوں کو کمزور کرنا ہے جو قیادت کی منتقلی کے مرحلے میں کسی خلأ یا عدم استحکام کے منتظر تھے۔

9.سماجی سرمائے اور قومی یکجہتی کی روشن علامت
گفتگو کے اختتام پر حجۃ الاسلام والمسلمین محمد حاج ابوالقاسم دولابی نے کہا کہ سماجی نقطۂ نظر سے بھی عوام کی وسیع اور پُرجوش شرکت ملک کی تاریخ کے ایک نہایت حساس مرحلے میں سماجی سرمائے، قومی یکجہتی اور عوامی اعتماد کی روشن علامت ہے۔ یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ ملتِ ایران اپنے اصولوں، انقلاب کے اہداف اور قومی مفادات کے ساتھ پہلے کی طرح مضبوطی سے کھڑی ہے۔









آپ کا تبصرہ