ہفتہ 4 جولائی 2026 - 14:23
شیخ ماہر حمود: امام خامنہ ای نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا/ان کا مؤقف ابتداء سے شہادت تک غیر متزلزل رہا

حوزہ/عالمی انجمنِ علمائے مقاومت کے سربراہ نے رہبرِ شہید کے ساتھ اپنی دیرینہ رفاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امام خامنہ ای نے کبھی بھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا؛ ان کا مؤقف ابتداء سے شہادت تک غیر متزلزل رہا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی انجمنِ علمائے مقاومت کے سربراہ شیخ ماہر حمود نے امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے ساتھ اپنی طویل رفاقت، ملاقاتوں اور خط و کتابت کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اس عظیم قائد کی ثابت قدمی، اصول پسندی، وحدتِ امت کے لیے ان کی بے مثال کاوشوں اور غاصب صیہونی استعمار کے خلاف ان کی مسلسل جدوجہد پر روشنی ڈالی ہے۔

عالمِ اسلام اور دنیا بھر کے آزاد منش انسان امامِ شہید سید علی خامنہ ای کو ایک ایسے رہبر کے طور پر یاد کر رہے ہیں جس کی شخصیت دینی بصیرت، سیاسی حکمت اور روحِ مقاومت کا حسین امتزاج تھی۔ آپ کی پوری زندگی اسلام کی اصیل تعلیمات کے تحفظ، مستضعفینِ عالم کی حمایت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور عزتِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف رہی۔ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر، مذاہب اور ادیان کے ساتھ آپ کا احترام، کشادہ نظری اور وحدت آفرین طرزِ فکر آج بھی اہلِ بصیرت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

شیخ ماہر حمود کے مطابق، ان کی امام خامنہ ای سے پہلی ملاقات 1981ء (1359 ہجری شمسی) میں ہوئی، جب آپ اسلامی جمہوری پارٹی کے سربراہ اور تہران کے امامِ جمعہ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب آپ ابھی صدرِ جمہوریہ اور بعد ازاں رہبرِ انقلاب کے منصب پر فائز نہیں ہوئے تھے۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ فلسطینی وفد کے ہمراہ ہونے والی تقریباً تین گھنٹے طویل نشست میں انقلابِ اسلامی کی حکمتِ عملی، عالمی اتحادوں، دشمن کی سازشوں اور انقلاب کے بنیادی اصولوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شیخ حمود کہتے ہیں کہ اس روز امام خامنہ ای نے جن اصولوں اور نظریات کا اظہار کیا تھا، وہ شہادت تک اسی استقامت اور وضاحت کے ساتھ قائم رہے اور ان میں ذرہ برابر لغزش یا تبدیلی نہیں آئی۔

ثابت قدمی، جو رہبر کی پہچان بن گئی

شیخ ماہر حمود اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ امام خامنہ ای کی فکری استقامت اور اصولوں پر غیر متزلزل پختگی ان کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف تھا۔ ان کے نزدیک انقلابِ اسلامی اور اس کی قیادت کی یہی اصول پسندی نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کے ہر انصاف پسند انسان کے احترام کی مستحق ہے۔

ان کے بقول: امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مذہبی، نسلی اور لسانی اختلافات کو ہوا دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ انقلابِ اسلامی کسی توسیع پسندانہ یا نسلی منصوبے کا حصہ ہے، مگر امام خامنہ ای نے اپنے واضح مؤقف، اخلاص، حکمت اور عوام سے وفاداری کے ذریعے ان تمام پروپیگنڈوں کو عملی طور پر بے اثر کر دیا۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ امام خامنہ ای ایک ایسی الہام بخش قیادت تھے جن کی استقامت، عملی جدوجہد اور انہیں مسلسل نشانہ بنانے کی دشمنوں کی کوششیں خود ان کی عظمت کی ناقابلِ تردید دلیل ہیں۔

رابطہ، مشاورت اور مسلسل خط و کتابت

شیخ ماہر حمود کے مطابق، امام خامنہ ای کے ساتھ ان کا تعلق صرف ملاقاتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف دینی، فکری اور سیاسی موضوعات پر خط و کتابت کا سلسلہ بھی ہمیشہ جاری رہا۔

وہ 2015ء میں بیروت میں مجید مجیدی کی فلم "محمد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی نمائش کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلم میں بعض شرعی اشکالات محسوس ہونے پر انہوں نے امام خامنہ ای کو تفصیلی خط ارسال کیا، جس کے بعد فلم کی نمائش روک دی گئی۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ مختلف علمی و فکری کانفرنسوں کے سلسلے میں بھی ان کی باہمی مراسلت جاری رہی، جبکہ حال ہی میں انہیں حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے بھی ایک مکتوب موصول ہوا، جس میں ان کے ارسال کردہ خط پر اظہارِ تشکر کیا گیا تھا۔

امام خامنہ ای کا مکتوب اور مزاحمت کا پیغام

شیخ حمود ایک ایسے مکتوب کا بھی ذکر کرتے ہیں جو انہیں امام خامنہ ای کی جانب سے موصول ہوا تھا۔ اس خط میں انہیں غاصب صیہونی رژیم کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی تلقین کی گئی تھی۔ امام نے واضح فرمایا تھا کہ مزاحمت صرف عسکری میدان کا نام نہیں بلکہ اس کے مختلف محاذ ہیں، جن میں فکری، ثقافتی، تعلیمی، ابلاغی اور میڈیا کے میدان بھی اسی قدر اہم ہیں۔

علمائے اہلِ سنت کے ساتھ احترام پر مبنی تعلقات

شیخ ماہر حمود کے مطابق، امام خامنہ ای ہمیشہ مختلف اسلامی مکاتبِ فکر اور بالخصوص علمائے اہلِ سنت سے ملاقات اور مکالمے کے خواہاں رہتے تھے۔ ان کی تصنیف "محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم" بھی ان کے وحدت آفرین افکار اور امت کو قریب لانے کے جذبے کی عکاس ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان، کردستان اور سعودی عرب کے متعدد علمائے اہلِ سنت مسلسل امام خامنہ ای سے رابطے میں رہتے تھے اور آپ ہمیشہ ان سے احترام، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پیش آتے تھے۔

شہادت؛ ایک دیرینہ آرزو کی تکمیل

شیخ ماہر حمود کے مطابق، امام خامنہ ای اپنی عمر کے آخری حصے تک بھی راہِ حق، دفاعِ اسلام اور خدمتِ امت میں پوری استقامت کے ساتھ مصروف رہے۔

وہ امام خامنہ ای کا یہ جملہ نقل کرتے ہیں: اسرائیلی مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں۔ میں اکیلا ملک نہیں چلاتا، ملک کے حقیقی معمار نوجوان ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ میری زندگی کا اختتام شہادت پر فرمائے تو یہ میرے لیے عظیم سعادت ہوگی، اور یہی میری دیرینہ آرزو ہے۔

شیخ ماہر حمود اپنی گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کرتے ہیں کہ امام خامنہ ای آخرکار اپنی اسی دیرینہ آرزو تک پہنچ گئے، اور ان کی پوری زندگی، جو اسلام، امت اور مقاومت کی خدمت سے عبارت تھی، شہادت جیسے عظیم اور باعظمت انجام پر منتج ہوئی۔ یہی ان کی زندگی کا سب سے درخشاں اور لازوال باب ہے۔

واضح رہے شیخ ماہر حمود لبنانی ایک سنی عالمِ دین ہیں اور اس وقت آپ تہران میں شہید امت کی تشییعِ جنازہ کے پروگرام میں شریک ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha