یادداشت: رباب فاطمہ جامعہ المصطفیٰ کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| جیسے ہی محرم الحرام کی آمد ہوتی ہے، ہر طرف سوگ عزاء کا فرش بچھتا ہے۔ برسوں سے ہم غمِ حُسین علیہ السلام سے آشنا ہیں، کالے لباس پہنتے ہیں اور ہر آنکھ اشکبار نظر آتی ہے؛ لیکن کیا آپ کے ذہن میں یہ سوال نہیں اٹھتا ہے کہ یہ برسوں سے چلتا ہوا غم آخر کیوں مناتے ہیں!؟ کربلا کیوں برپا ہوئی؟ امام حسین علیہ السّلام کیوں اپنے بھرے گھر کو امن و امان کی زندگی سے دور ایک ریگستان نما جگہ کا انتخاب کرتے ہیں اور کئی دن تک بھوک و پیاس کا غلبہ رہا؟
آئیے ہم مقصد حسین علیہ السلام کو جانیں! کربلا رسم نہیں کہ جیسے صرف یاد کیا جائے اور پھر اگلے محرم الحرام کا انتظار کریں یا سبیلیں لگائیں اور مرثیہ و ماتم کرکے ہم اپنی ذمہ داری پوری سمجھیں۔
بلکہ کربلا ہمیں معاشرہ سازی، خودسازی، خدا کے احکامات کی پیروی، امام کی معرفت اور دشمن شناسی کا درس دیتی ہے۔ اگر امام کی اطاعت دیکھنی ہے تو حضرت عباس علیہ السلام ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔ اگر باکردار جوان دیکھنا ہے تو علی اکبر و قاسم علیہم السلام ہمارے لیے رول ماڈل ہیں۔ کربلا وقت کے امام کے لیے سپاہ تیار کرنے کا نام ہے۔ کربلا وہ عظیم سرمایہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے کہ جسے آج لبنان، ایران نے حاصل کیا اور وقت کے یزیدوں کو للکارا ہے۔ آج اگر کوئی ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو درحقیقت یہ درس کربلا ہے۔
آج ہمیں کربلا کی عظیم شخصیات کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں انقلاب لانے کی اشد ضرورت ہے۔ امام علیہ السّلام کے تمام اصحاب عشق و معرفت امام رکھتے تھے۔ آج ہم اپنی زندگی میں دیکھے کہ کتنا ہمارے وجود سے امام کی خوشبو آتی ہے۔
اگر ہم نے حقیقی مقصد کربلا کو پہچانا ہوتا آج وقت کا امام پردہ غیبت میں اس لمبے عرصے سے نہ ہوتا، کیونکہ ہم سابق امام پر تو گریہ کر رہے ہیں، لیکن آج کے امام کی غربت سے آشنا نہیں۔ آج یہ وقت ہے کہ امام زمان علیہ السّلام کی تنہائی کو پہچانیں! خود سے سوال کریں یہ محرم میرے وجود کو کس قدر بدل رہا ہے؟؟
کربلا کو فقط رسم و رواج سے نکالنا بہت ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ امام ھل من ناصر ینصرنا کی صدا بلند کریں اور ہم اپنی زندگی میں اس قدر مشغول ہوں کہ وہ آواز سننے سے محروم رہیں۔
خداوند متعال سے دعا ہے کہ ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کے حقیقی ناصروں میں شمار کرے اور مقصد حسین علیہ السّلام پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اللھم بحق الحسین عجل لولیک الفرج









آپ کا تبصرہ