حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو بلتستان میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے نائب امامِ جمعہ حجت الاسلام شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ مؤمن کو دنیا کی ظاہری آسائشوں میں کھو جانے کے بجائے اپنی آخرت، خصوصاً قبر کی منزل کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر انسان کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہو کر اسی منزل میں اترنا ہے۔
انہوں نے رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قبر آخرت کی پہلی منزل اور میدانِ حشر کی طرف جانے والا دروازہ (Gateway) ہے۔ ایک اور حدیث کے مطابق، انسان کے اعمال کا پہلا محاسبہ قبر میں ہوتا ہے۔ وہاں نہ دولت کام آتی ہے، نہ حسن و جمال، نہ منصب اور نہ دُنیوی شہرت، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف تقویٰ ہی عزت و کامیابی کا معیار ہے۔
علامہ شیخ حافظی نے کہا کہ گویا قبر ہر انسان کو پکار کر یہ پیغام دیتی ہے کہ جوانی، طاقت اور دنیا کے غرور میں مبتلا نہ ہو، کیونکہ آخرکار تجھے اسی جگہ آنا ہے۔ قبر ایک تاریک اور تنہا مقام ہے جہاں کوئی دوست، رشتہ دار یا مال و دولت ساتھ نہیں ہوتی، بلکہ صرف نیک اعمال ہی انسان کے حقیقی ساتھی بنتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انسان اپنی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنانا چاہتا ہے تو یہ اس کے اعمال پر منحصر ہے اور اگر وہ اسے عذاب و ویرانی کا گڑھا بناتا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے ہر شخص کو اپنی زندگی کو تقویٰ، عبادت، نیک اعمال اور اطاعتِ الٰہی سے آراستہ کرنا چاہیے۔
علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ ماہِ صفر کے اختتام پر رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور فرزندِ رسول حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی مجالسِ عزاء میں بھرپور شرکت کی جائے اور ان عظیم ایام کے احترام میں کسی قسم کی سستی یا غفلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت و شہادت امتِ مسلمہ کی سب سے عظیم مصیبت ہے، کیونکہ آپ ہی وہ ہستی ہیں جن کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو ہدایت، رحمت اور نورِ اسلام سے سرفراز فرمایا؛ لہٰذا ان ایام میں مجالسِ عزاء کا انعقاد، سیرتِ نبوی اور فضائلِ اہلِ بیت کے بیان کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال عزاداری کے دوران نوجوانوں کی منظم شرکت، نظم و ضبط اور اجتماعی ماتم نے نہایت اچھا تاثر پیش کیا، جسے سوشل میڈیا پر بھی سراہا گیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ بھی حسینی شعائر کی حفاظت، اتحاد، نظم و ضبط اور اخلاقِ اسلامی کو برقرار رکھتے ہوئے عزاداری میں بھرپور کردار ادا کریں۔
علامہ شیخ محمد جواد حافظی نے کہا کہ 5 اگست کو شہیدِ مظلوم قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی برسی کے موقع پر ہم ان کی عظیم دینی، ملی اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید قائد نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری، استقامت اور نظامِ اسلام کے فروغ کے لیے ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں، جنہیں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔
علامہ شیخ جواد حافظی نے اپنے خطاب میں گلگت بلتستان اور جموں و کشمیر کے مسائل کے حل پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ان دیرینہ اور اہم قومی معاملات کو سنجیدگی، بصیرت اور تدبر کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کے جائز مسائل کے بروقت حل اور قومی یکجہتی کے فروغ سے ملک دشمن عناصر کو انتشار پھیلانے اور حالات سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان حساس معاملات پر ذمہ دارانہ اور دور اندیش پالیسی اختیار کی جائے تاکہ ملک میں امن، استحکام اور قومی وحدت مزید مضبوط ہو۔









آپ کا تبصرہ