منگل 4 اگست 2026 - 18:35
اربعین، عالمی ابلاغِ دین اور مزاحمتی فکر کا موقع: حجت الاسلام اشرف تابانی

حوزہ/حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو کے شیخ مفید ہال میں منعقدہ ایک علمی و تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ اربعین تشیع کی شناخت اور زیارتِ اربعین ہر شیعہ کی عملی پہچان ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعۃ النجف سکردو کے شیخ مفید ہال میں منعقدہ ایک علمی و تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام شیخ اشرف تابانی نے کہا کہ اربعین تشیع کی شناخت اور زیارتِ اربعین ہر شیعہ کی عملی پہچان ہے۔

اربعین، عالمی ابلاغِ دین اور مزاحمتی فکر کا موقع: حجت الاسلام اشرف تابانی

انہوں نے زور دیا کہ دین کا حقیقی قیام اسی وقت ممکن ہے جب اس کا پیغام ہر دور کے تقاضوں کے مطابق مؤثر انداز میں انسانیت تک پہنچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام نے انسانیت کو قرآن مجید، نہج البلاغہ اور صحیفۂ سجادیہ جیسی بے مثال علمی و میراث عطا کی ہے۔ جب پیغام اس قدر عظیم ہو تو اس کے مبلغ، اس کے ادارے اور اس کے ذرائع ابلاغ بھی اسی عظمت اور معیار کے حامل ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق دین کی نمائندگی ایسا پاکیزہ اور ذمہ دار میڈیا کرے جو حقائق، اخلاق اور الٰہی اقدار کا آئینہ دار ہو۔

شیخ اشرف تابانی نے واقعۂ کربلا کے بعد حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی تبلیغی جدوجہد کو اسلامی ابلاغ کا اعلیٰ ترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی عظیم شخصیات نے کربلا کے پیغام کو تاریخ کی حدود سے نکال کر انسانیت کے اجتماعی شعور کا حصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عصرِ حاضر میں بھی ایسے مبلغین کی ضرورت ہے جو علم، بصیرت اور حکمت کے ساتھ دین کا پیغام پوری دنیا تک پہنچا سکیں۔

اربعین، عالمی ابلاغِ دین اور مزاحمتی فکر کا موقع: حجت الاسلام اشرف تابانی

انہوں نے عصرِ حاضر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امام روح اللہ خمینی، رہبرِ معظمِ انقلاب اور شہدائے امت نے پیغامِ حسینی کو عرب و عجم سمیت عالمی سطح پر متعارف کرایا اور ظلم و استکبار کے مقابلے میں مزاحمت، عزت اور خودمختاری کا ایک فکری راستہ پیش کیا۔

اپنے خطاب میں انہوں نے ابلاغِ دین کی دو بنیادی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ دین کے پیغام کو ہر زمانے کی زبان، ضرورت اور فکری سطح کے مطابق لوگوں تک پہنچایا جائے، جبکہ دوسری ذمہ داری ایسے مبلغین کی تربیت ہے جو معاشرتی، فکری اور عملی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے مؤثر انداز میں دین کی نمائندگی کر سکیں۔

انہوں نے جامعۃ النجف سکردو کے اساتذہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں روشن فکر اساتذہ علمی و فکری بنیادوں پر نئی نسل کی تربیت کر رہے ہیں۔

اربعین، عالمی ابلاغِ دین اور مزاحمتی فکر کا موقع: حجت الاسلام اشرف تابانی

اسی تناظر میں انہوں نے علامہ اقبال کا معروف شعر پڑھا: "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"

اور کہا کہ اگر نوجوانوں کو صحیح فکر، تربیت اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مستقبل کے مؤثر مبلغ، محقق اور قائد بن سکتے ہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ الٰہی مبلغین کو مختلف ادوار میں کمزور رکھنے کی کوشش کی گئی، تاہم اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ حق کے علمبردار بالآخر سربلند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں مستضعفین کی بیداری اور مزاحمتی فکر نے ایک نئے عالمی نظامِ فکر کی بنیاد رکھی ہے، جو عدل، آزادی اور انسانی وقار کے اصولوں پر استوار ہے۔

اربعین، عالمی ابلاغِ دین اور مزاحمتی فکر کا موقع: حجت الاسلام اشرف تابانی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha