جمعرات 17 ستمبر 2026 - 17:31
اہل بیتؑ کی تعلیمات صرف بیان نہیں، ہمارے کردار میں نظر آنی چاہئیں: نمائندگی ولی فقیہ ہند

حوزہ/ پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کی ولادت باسعادت کی 1500ویں سالگرہ کے موقع پر لکھنؤ کے شیعہ کالج میں جشنِ مرسل اعظم (ص) کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر حجۃ الاسلام ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خطاب کرتے ہوئے علم، امانت، استاد اور عمل کو تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا اور شیعہ کالج کو علم، مکالمۂ ادیان، ہندوستان و اسلام کے مطالعات اور انسانی وسائل کی تربیت کا نمایاں مرکز بنانے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی 1500ویں سالگرہ کے موقع پر لکھنؤ کے شیعہ کالج میں جشنِ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ہندوستان میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے خطاب کرتے ہوئے علم، امانت، استاد اور عمل کو تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری قرار دیا اور شیعہ کالج کو علم، مکالمۂ ادیان، ہندوستان و اسلام کے مطالعات اور انسانی وسائل کی تربیت کا نمایاں مرکز بنانے پر زور دیا۔

شیعہ کالج لکھنؤ کو علم، بین المذاہب گفتگو اور انسانی اقدار کا مرکز بنانا ہوگا: نمائندگی ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے کہا کہ تاریخی شہر لکھنؤ میں کسی علمی ادارے کی شناخت کو یہاں کے متنوع مذہبی، ثقافتی اور سماجی ماحول سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ آج اس محفل میں شیعہ اور اہل سنت اساتذہ و طلبہ کے ساتھ دیگر مذاہب اور روایات سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ یہ تنوع کسی تعلیمی ادارے کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ صحیح انداز میں استعمال کیا جائے تو ایک علمی اور انسانی سرمایہ بن سکتا ہے۔

حجۃالاسلام ڈاکٹر عبد المجید حکیم الٰہی نے کہا کہ شیعہ علمی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے صرف اپنے ماضی پر فخر کرنا کافی نہیں، بلکہ ہمیں یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ آج علم کی پیداوار میں ہمارا کیا حصہ ہے۔ تہذیب صرف ماضی کے کارناموں پر فخر سے نہیں بنتی، بلکہ اس وقت زندہ رہتی ہے جب ہر نسل اپنے سے پہلے والی نسل کے علمی ورثے میں کچھ اضافہ کرے۔

شیعہ کالج لکھنؤ کو علم، بین المذاہب گفتگو اور انسانی اقدار کا مرکز بنانا ہوگا: نمائندگی ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ادارے کو ’’شیعہ کالج‘‘ کہا جاتا ہے تو یہ نام محض ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک علمی ذمہ داری بھی ہے۔ یہاں کا طالب علم اپنی دینی شناخت کے ساتھ فلسفہ، علوم اجتماعی، علوم طبیعی، ٹیکنالوجی، معیشت، حقوق، ادب اور دیگر علمی شعبوں میں بھی مہارت حاصل کرے۔

شیعہ کالج ایک امانت ہے

انہوں نے قرآن کریم کی آیت «إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امانت صرف مال و دولت کا نام نہیں؛ ایک عمارت، منصب، نام و اعتبار اور آنے والی نسل بھی امانت ہے۔ شیعہ کالج بھی ہمارے لیے ایک امانت ہے، جس کے قیام اور ترقی میں ہم سے پہلے لوگوں نے محنت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے اس کالج سے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم اسے آنے والی نسل کے حوالے کس حالت میں کریں گے۔ کیا ہم اسے اسی طرح منتقل کریں گے جس طرح ہمیں ملا، یا اسے زیادہ علمی، منظم، معتبر، اخلاقی، جدید سہولیات سے آراستہ اور مؤثر بنا کر اگلی نسل کے حوالے کریں گے؟

شیعہ کالج لکھنؤ کو علم، بین المذاہب گفتگو اور انسانی اقدار کا مرکز بنانا ہوگا: نمائندگی ولی فقیہ ہندوستان

اہل بیتؑ کی تعلیمات صرف بیان نہیں بلکہ کردار میں نظر آنی چاہئیں

حجۃالاسلام حکیم الٰہی نے کہا کہ ہم اہل بیت علیہم السلام کی عدالت، علم، کرامت اور تواضع کے بارے میں بہت گفتگو کرتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ اقدار ہماری عملی زندگی میں کہاں نظر آتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عدالت کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں طلبہ کے ساتھ اپنے معاملات میں بھی عادل ہونا چاہیے۔ اگر امام جعفر صادق علیہ السلام کے علم کی بات کرتے ہیں تو ہمیں تعلیمی اداروں میں علم کی پیداوار اور تحقیق کو فروغ دینا چاہیے۔ اسی طرح اگر ہم اہل بیت علیہم السلام کی کرامت کی بات کرتے ہیں تو مختلف فکری نظریات رکھنے والے طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ بھی احترام اور کرامت سے پیش آنا چاہیے۔

شیعہ کالج لکھنؤ کو علم، بین المذاہب گفتگو اور انسانی اقدار کا مرکز بنانا ہوگا: نمائندگی ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے کہا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں دین محض نعرہ نہیں رہتا بلکہ انسان کی شخصیت اور کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ مکتب اہل بیت علیہم السلام کا بہترین تعارف یہ ہے کہ ہمارے ساتھ رہنے والا شخص ہمارے الفاظ سنے بغیر بھی ہمارے کردار میں عدالت، صداقت، علم، کرامت اور رحمت کو محسوس کرے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم سب، چاہے وہ منتظم ہوں، استاد ہوں یا طالب علم، ہر سال خود سے یہ سوال کریں کہ اگر کوئی غیر مسلم استاد یا طالب علم صرف ہمارے کردار کے ذریعے مکتب تشیع کو پہچاننا چاہے تو اسے ہمارے اندر کیا نظر آئے گا؟ علم، اخلاق، عدالت، انسانی احترام، گفت و گو اور صداقت یا کچھ اور؟

حجۃالاسلام عبد المجید حکیم الٰہی نے امید ظاہر کی کہ شیعہ کالج لکھنؤ مستقبل میں علم، بین المذاھب مکالمہ، ہندوستان و اسلام کے مطالعات اور باصلاحیت انسانی وسائل کی تربیت کے حوالے سے ایک معروف مرکز بنے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha