جمعرات 10 ستمبر 2026 - 04:09
شریکِ حیات کا دل کیسے خوش رکھیں؟ / ازدواجی تعلق کو بہتر بنانے کے پانچ سنہری اصول

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین رضا یوسف زادہ، خاندانی امور کے مشیر اور ماہر نے اپنی گفتگو کے دوران مناسب وقت دینا‘‘، غور سے دوسرے کی بات سننا‘‘، ’’احساسِ ہمدردی و ہمدلی‘‘، ’’قدردانی کرنا‘‘ اور ’’محبت کا واضح اور متنوع اظہار‘‘ جیسی پانچ بنیادی مہارتوں کی وضاحت کرتے ہوئے میاں بیوی کے درمیان جذباتی نشاط بحال کرنے کے عملی طریقے بیان کیے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشترکہ زندگی کا استحکام اور خوشگوار ماحول میاں بیوی کے جذبات کی مسلسل نگہداشت اور ایک دوسرے کی نفسیاتی ضروریات پوری کرنے پر استوار ہوتا ہے۔ بہت سے میاں بیوی یہ سوال کرتے ہیں کہ روزمرہ زندگی کی مصروفیات اور پریشانیوں کے درمیان اپنے شریکِ حیات کی اندرونی اور روحانی کیفیت کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب سنگین اور غیر معمولی اقدامات میں نہیں بلکہ سادہ مگر بنیادی اور مؤثر ارتباطی مہارتوں میں پوشیدہ ہے۔

اس تحریر میں خاندانی امور کے ماہر اور مشیر حجت الاسلام والمسلمین رضا یوسف زادہ کی جانب سے محبت کے فروغ اور خاندانی تعلقات میں بہتری کے لیے پانچ اہم اور عملی اصول بیان کیے گئے ہیں:

سوال: اگر ہم اپنے شریکِ حیات کا دل خوش رکھنا چاہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

حجت الاسلام والمسلمین رضا یوسف زادہ: ازدواجی تعلق کو مضبوط بنانے اور شریکِ حیات سے صمیمیت کو بہتر کرنے کے پانچ عملی طریقے ہیں۔ مشترکہ زندگی کے معیار کو بہتر بنانے اور میاں بیوی کے درمیان قربت بڑھانے کے لیے ان درج ذیل پانچ اصولوں پر عمل کرنے کی سفارش کی جاتی ہے جو بظاہر سادہ لیکن جذباتی اعتبار سے گہرے اثرات کے حامل ہیں:

اپنے شریکِ حیات کا دل کیسے خوش رکھیں؟ / ازدواجی تعلق کو بہتر بنانے کے پانچ سنہری اصول

1۔ ’’معیاری وقت‘‘ مختص کرنا

روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ صرف میاں بیوی کے باہمی گفتگو کے لیے مختص کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس وقت کو چھوٹے حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے مثلاً آدھے آدھے گھنٹے کے دو اوقات یا پندرہ پندرہ منٹ کے چار اوقات۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ اس دوران ’’معیار‘‘ کو ترجیح دی جائے یعنی موبائل فون ایک طرف رکھ دیا جائے، ٹیلی ویژن بند ہو اور تمام تر توجہ شریکِ حیات اور اس کے ساتھ گفتگو پر مرکوز ہو۔ ہماری فعال موجودگی اور مکمل توجہ، شریکِ زندگی کے احترام اور اس کی قدر و منزلت کا احساس دلاتی ہے۔

2۔ شریکِ حیات کو غور سے سننا اور اس کی بات پر توجہ کرنا

انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ اسے ’’سنا‘‘ اور ’’دیکھا‘‘ جائے۔ جب شریکِِ حیات اپنے ظاہری حلیہ، رویہ یا خیالات میں کوئی تبدیلی لائے تو اس پر توجہ دینا اور مثبت ردِعمل ظاہر کرنا اس کے اندر اہمیت اور توجہ پانے کا احساس پیدا کرتا ہے۔ شریکِ حیات کی باتوں، دکھوں اور پریشانیوں کو غور سے سننا، زندگی میں سکون حاصل کرنے کی جانب نصف راستہ طے کرنے کے مترادف ہے۔

3۔ احساسات اور ہمدردی کا اظہار

ہمدردی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے جذبات رکھنے کے حق کو تسلیم کیا جائے، ضروری نہیں کہ ان جذبات کے نتیجے میں ظاہر ہونے والے ہر رویے کی بھی تائید کی جائے۔

اہم فرق یہ ہے کہ ’’احساس‘‘ اور ’’رویے‘‘ کے درمیان تفریق کی جائے۔ احساس اختیاری نہیں ہوتا اور اس کا پیدا ہونا فطری ہے جبکہ رویے کو قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے شریکِ حیات سے کہتے ہیں: ’’میں سمجھتا ہوں کہ تم پریشان ہو اور تمہیں اس طرح محسوس کرنے کا حق ہے‘‘ تو اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اسے سمجھا گیا ہے۔

جیسا کہ مرحوم استاد شکیبائی کے کلام میں آیا ہے: ’’تمہیں غصہ کرنے کا حق ہے، تمہیں ناراض ہونے کا حق ہے لیکن تمہیں بات نہ کرنے کا حق نہیں۔‘‘ یعنی اپنے مسائل کو اچھے طریقہ سے بیان کرو تاکہ مل کر اس کا حل نکالا جائے۔

اپنے شریکِ حیات کا دل کیسے خوش رکھیں؟ / ازدواجی تعلق کو بہتر بنانے کے پانچ سنہری اصول

4۔ قدردانی اور مثبت پہلوؤں پر توجہ

شکرگزاری محبت اور الفت میں اضافے کی کلید ہے۔ روزمرہ کے بہت سے کام مثلاً کھانا تیار کرنا، ضروری اشیا خریدنا یا گھر کے روزمرہ کے امور اگرچہ ذمہ داری سمجھے جاتے ہیں لیکن ان پر بھی شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔

اخلاقی نکتہ یہ ہے کہ مخلوق کا شکریہ ادا نہ کرنا کسی حد تک خالق کی ناشکری کے مترادف ہے۔ ’’ماشاءاللہ‘‘، یا ’’تھک گئے ہوں گے یا گئی ہوں گی‘‘ اور اس طرح کے سادہ جملے گھر میں محبت کے بیج بوتے ہیں۔ بچے بھی والدین کے اس رویے کو دیکھ کر عملی طور پر قدردانی کا سبق سیکھتے ہیں۔

5۔ محبت اور الفت کا واضح اظہار

محبت اور الفت صرف دل میں موجود نہیں رہنی چاہیے اور نہ ہی اسے صرف مادی ضروریات پوری کرنے تک محدود کرنا چاہیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم کسی سے محبت کرتے ہو تو اسے بتاؤ اور اس کا اظہار کرو کیونکہ اس طرح محبت دلوں میں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

محبت کا اظہار ہمیشہ ایک ہی انداز میں نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی الفاظ کے ذریعہ، کبھی عملی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کے ذریعہ، کبھی تحفے کے ذریعہ اور کبھی وقت دے کر محبت کا اظہار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف طریقوں سے استفادہ کرنا چاہیے۔

ہمارے معاشرہ میں بہت سے مرد و زن خصوصا مردوں کے لیے زبانی طور پر محبت کا اظہار کرنا مشکل ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اخراجات اٹھانا یا شریکِ حیات کو آسائشیں فراہم کرنا ہی محبت کے اظہار کے مترادف ہے۔ اس ’’محفوظ دائرے‘‘ سے باہر نکلنا اور محبت بھرے جملے ادا کرنے کی مشق کرنا اگرچہ ابتدا میں مشکل محسوس ہو لیکن رفتہ رفتہ اس رکاوٹ کو ختم کر دیتا ہے اور جذبات کا اظہار ایک آسان اور خوشگوار عمل بن جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha