حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/ نئی دہلی میں انڈین مسلمز فار سول رائٹس IMCR کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران اس کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہ اقدام 24 جولائی 2026 کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا میں منعقد ہونے والے قومی کنونشن برائے مسلم رہنماؤں اور دانشوروں میں کیے گئے فیصلوں کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔
پریس کانفرنس سے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سادات اللہ حسینی، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کے قومی سکریٹری ندیم خان، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس اور پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال انصاری نے خطاب کیا۔
منتظمین کے مطابق 51 رکنی کمیٹی کا مقصد ملک میں مسلمانوں اور دیگر شہریوں کے آئینی و جمہوری حقوق سے متعلق پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنا اور ضرورت پڑنے پر قانونی، سیاسی اور آئینی سطح پر مداخلت کرنا ہے۔ کمیٹی کی معاونت اور رابطہ کاری کے لیے 10 سیکریٹریٹس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
سلمان خورشید: مقصد صرف مسلمانوں کے مطالبات اٹھانا نہیں
سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید نے کہا کہ اس اقدام کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے ہیں جو اس سے قبل مشترکہ طور پر کام کرنے کا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوشش محض مسلمانوں کے مطالبات پیش کرنے تک محدود نہیں، بلکہ ہر ہندوستانی شہری کو اس کے آئینی حقوق کی یاد دہانی کرانے کی ایک کوشش ہے۔ ان حقوق میں ثقافت، زبان اور مذہب سے متعلق آزادی بھی شامل ہے۔
سلمان خورشید نے کہا کہ ملک کی عزت، شناخت اور مشترکہ قومی کردار کا تحفظ اس تحریک کا بنیادی مقصد ہے۔ ان کے مطابق ایک طبقے کی سلامتی اور عزت کا تعلق دوسرے تمام شہریوں کی سلامتی اور عزت سے ہے۔
انہوں نے ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، جین اور دیگر طبقات سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے اس کوشش میں شریک ہوں، باہمی گفتگو کو فروغ دیں اور ملک کی مشترکہ اقدار کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔
اتراکھنڈ میں جاری مباحث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیز رفتار ترقی اور سیاحت کے نتیجے میں خطے کے سماجی اور اخلاقی ماحول پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحریک ہر اس شخص کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے جو ملک کے وسیع تر مفاد میں اس مکالمے کا حصہ بننا چاہتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، طبقے یا سیاسی نظریے سے ہو۔
محمد ادیب: صدر جمہوریہ کے خط کا بھی جواب نہیں ملا
سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ 24 جولائی کو کمیٹی تشکیل دینے اور ملک کی موجودہ صورت حال سے متعلق مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے وسیع مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 100 ممتاز مسلمانوں، جن میں معروف شخصیات اور ارکان پارلیمنٹ بھی شامل تھے، کے دستخط سے صدرِ جمہوریہ ہند کو ایک خط ارسال کیا گیا، جس میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو درپیش مسائل کی جانب توجہ دلائی گئی تھی۔
محمد ادیب نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدرِ جمہوریہ کے دفتر کی جانب سے اس خط کی موصولی تک کی اطلاع نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کو بھی اسی نوعیت کے خطوط بھیجے گئے، تاہم وہاں سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اکتوبر میں اس سے زیادہ بڑے اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 1000 افراد شریک ہوں گے۔ اجلاس میں موجودہ مسائل پر تبادلہ خیال کے بعد متعلقہ اداروں کو دوبارہ نمائندگی پیش کی جائے گی۔
محمد ادیب نے واضح کیا کہ یہ اقدام کسی سیاسی یا سماجی تنظیم کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد پہلے سے موجود تنظیموں کا متبادل بننا ہے۔ اس کا مقصد مختلف طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لانا، ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور آئینی اقدار و جمہوری مکالمے کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
سادات اللہ حسینی: یہ صرف مسلمانوں کا نہیں، پورے ملک کا مسئلہ ہے
جماعت اسلامی ہند کے صدر سادات اللہ حسینی نے پریس کانفرنس کو ایک بڑی قومی تحریک اور بیداری کی ابتدا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تعلق صرف مسلمانوں کے مسائل سے نہیں بلکہ ملک کے آئین اور قانون کی حکمرانی سے بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 51 رکنی کمیٹی ملک میں ہونے والی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرے گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں مناسب اقدامات کے لیے مداخلت کرے گی۔
حسینی نے کہا کہ یہ اقدام صرف مسلم مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک، آئین اور قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملہ ہے۔ انہوں نے سول سوسائٹی، ہندو اور عیسائی برادریوں اور سیکولر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔
انہوں نے تحریک کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عمل میں فعال طور پر شریک رہیں گے۔
ندیم خان: کوئی ایک تنظیم تمام مسائل کا مقابلہ نہیں کرسکتی
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ ملک بھر میں جرائم، نفرت انگیز جرائم، مبینہ ہجومی تشدد، بے دخلی، بلڈوزر کارروائیوں اور سخت قوانین کے مبینہ غلط استعمال کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا دائرہ اتنا وسیع ہوچکا ہے کہ کوئی ایک تنظیم تنہا قانونی چارہ جوئی، عوامی مہم یا زمینی سطح پر کارروائی کے ذریعے ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
ندیم خان نے سخت قوانین کے تحت گرفتاریوں کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے 17 سالہ زکریا کی حراست کا ذکر کیا۔ انہوں نے عمر خالد اور شرجیل امام جیسے کارکنوں کی طویل حراست اور پوچھ گچھ کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے اتر پردیش میں بے دخلی، انہدامی کارروائیوں اور مبینہ انکاؤنٹرز کو ایک سنگین آئینی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں سے مسلمان بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔
ندیم خان نے 2016 سے 2024 کے درمیان 10,620 مبینہ تادیبی انہدامی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان میں متاثرین کی اکثریت مسلمان تھی۔ انہوں نے آسام میں بڑے پیمانے پر بے دخلی، بعض افراد کو بنگلہ دیشی قرار دے کر مبینہ طور پر ریاست سے باہر دھکیلنے کی کارروائیوں اور گجرات و راجستھان میں مذہبی مقامات کے انہدام پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ تنظیم نے تین اہم شعبوں میں مداخلت کو ترجیح دی ہے:
1. مجرمانہ تشدد اور نفرت انگیز جرائم، جن میں نفرت انگیز تقاریر اور ہجومی تشدد شامل ہیں۔
2. بے دخلی اور بلڈوزر کے ذریعے انہدامی کارروائیاں۔
3. خصوصی قوانین کے ذریعے مبینہ ہراسانی، جن میں وقف قانون اور یکساں سول کوڈ سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور مسلم قیادت کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے بحران زدہ علاقوں کا دورہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک وفد حال ہی میں اتراکھنڈ کا دورہ کرچکا ہے، جہاں سول سوسائٹی، مسلم سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی گئیں۔ تنظیم نے اتراکھنڈ میں قانونی اور دستاویزی کام بھی کیا ہے اور کماؤن خطے، خصوصاً ہلدوانی میں مزید اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں ان کے مطابق ہزاروں مکانات کو بے دخلی کا خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال اور آسام بھی تنظیم کی اگلی ترجیحات میں شامل ہیں۔ مغربی بنگال میں مبینہ ہجومی تشدد کے واقعات اور انتخابی فہرستوں سے متعلق مسائل پر کام کیا جا رہا ہے، جبکہ آسام میں سول سوسائٹی اور مسلم قیادت کے اشتراک سے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
ایس کیو آر الیاس: آئینی حقوق کے دفاع کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ 24 جولائی کے پروگرام میں کیے گئے فیصلوں کو اب عملی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو درپیش مبینہ بڑھتی ہوئی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے این آر سی، یکساں سول کوڈ، مدارس و مساجد پر کارروائی، ہجومی تشدد اور اشتعال انگیز بیانات جیسے مسائل پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے وندے ماترم سے متعلق حالیہ بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے موضوعات ملک کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا سکتے ہیں اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
الیاس نے کہا کہ 51 رکنی کمیٹی مسلمانوں کی صورت حال کا جائزہ لے گی اور ضرورت کے مطابق مناسب اقدامات کرے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوشش صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی، دلت، آدیواسی، او بی سی اور دیگر محروم طبقات کے ساتھ بھی یکجہتی قائم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وسیع تر مقصد آئینی حقوق کا اجتماعی دفاع اور ناانصافی کے خلاف متحدہ آواز بلند کرنا ہے۔
جسٹس اقبال انصاری کی حمایت
پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس اقبال انصاری نے آسام کے عوام کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
منتظمین کے مطابق سیاسی رہنماؤں، سابق ججوں، منتظمین، علما، سماجی رہنماؤں، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسے ایک وسیع البنیاد قومی پلیٹ فارم کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے، جو ملک میں ہونے والی پیش رفت کی نگرانی اور آئینی، قانونی و سیاسی ذرائع سے اقدامات کرے گا۔
51 رکنی نیشنل مانیٹرنگ کمیٹی کے ارکان
1. فاروق عبداللہ
2. محمد ادیب
3. محبوبہ مفتی
4. سلمان خورشید
5. نجیب جنگ (آئی اے ایس)
6. جسٹس اقبال انصاری
7. وجاہت حبیب اللہ
8. علی اشرف فاطمی
9. سیدا حامد
10. مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
11. سید سادات اللہ حسینی
12. مولانا سجاد نعمانی
13. ای ٹی بشیر
14. محمد علی شبیر
15. ظفر الاسلام خان
16. مولانا عبید اللہ خان اعظمی
17. کلب جواد نقوی
18. پروفیسر سلیم انجینئر
19. رضوان ارشد
20. مولانا محب اللہ ندوی
21. منصور خان
22. اقرا حسن
23. ضیاء الرحمن برق
24. عمران مسعود
25. آغا روح اللہ مہدی
26. کنور دانش علی
27. محمد سلیم
28. ابو عاصم اعظمی
29. عارف مسعود
30. عمران کھیڑا والا
31. غیاث الدین شیخ
32. محمد مقیم
33. مولانا سید اشرف کیچوچھوی
34. ملک معتصم خان
35. پروفیسر محمد سلیمان
36. خالد رشید
37. ایڈووکیٹ حذیفہ احمدی
38. مفتی عثمان رحمانی لدھیانوی
39. ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس
40. مولانا یاسین علی عثمانی
41. عمر شفیق
42. راشد چودھری
43. ایڈووکیٹ فضیل احمد ایوبی
44. فرمان نقوی
45. محمد خالد خان
46. ڈاکٹر اعظم بیگ
47. مولانا زاہد رضا رضوی
48. جمعہ ریما
49. پروفیسر محمد علی محمودآباد
50. محترمہ عظمیٰ ناہید
51. ندیم خان (APCR)
سیاسی جماعتوں سے آٹھ قراردادوں پر مؤقف واضح کرنے کی اپیل
IMCR کی جانب سے صدرِ جمہوریہ ہند اور تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کو ارسال کیے گئے خط میں 24 جولائی 2026 کے قومی کنونشن میں منظور کی گئی آٹھ قراردادوں پر سیاسی جماعتوں سے اپنا واضح اور عوامی مؤقف بیان کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
محمد ادیب کی جانب سے ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ مسلمان ہندوستان کے برابر کے شہری ہیں اور انہیں کسی خصوصی رعایت یا احسان کی ضرورت نہیں، بلکہ آئین کی دفعات 14 اور 15 کے تحت مساوی توجہ، احترام اور تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
خط میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے مسلمانوں کو محض ووٹ بینک کے طور پر دیکھنے کے رجحان پر بھی تنقید کی گئی ہے۔









آپ کا تبصرہ