حوزہ نیوز ایجنسی کی ’’مرآة البحرین‘‘ کے حوالے سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، ہر مذہب کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں اور ہر مذہبی گروہ کے اپنے شعائر، عقائد، شرائط اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ دنیا کے مختلف مذہبی گروہوں کے بارے میں یہ ایک مسلم حقیقت ہے۔
ہر گروہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس کی مخصوص مذہبی خصوصیات کا احترام کیا جائے اور ان کا لحاظ رکھا جائے، خواہ وہ ایسی چیزوں پر یقین رکھتے ہوں جنہیں دوسرے لوگ منطق سے خارج سمجھتے ہوں۔ لیکن آج جو چیز منطق سے بالاتر ہے، وہ بحرین کی فرقہ پرست اور ظالم حکومت کی جانب سے بحرینی شیعوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات ہیں۔
ظلم کی اس تازہ لہر کو ان ’’مرتدین‘‘ کے ایک گروہ کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے جنہیں حکومت نے شیعہ اوقاف کے اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا ہے۔ ان افراد کو خود تشیع کو نقصان پہنچانے اور شیعوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ مذہبی احکام اور اصولوں میں بھی مداخلت کی جا رہی ہے۔

بحرین کی فرقہ پرست حکومت ’’اوقاف انتظامیہ‘‘ کے ذریعے جو کچھ کر رہی ہے، وہ حالیہ دنوں میں شرعی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے دینی مسلمات کو نظر انداز کرنے تک پہنچ چکا ہے۔ یہاں تک کہ اوقاف کے تازہ ترین بیان سے حکومت کے آئندہ منصوبے کا پردہ بھی فاش ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ شیعوں کی مذہبی خصوصیات کے ساتھ کھیلنے اور ان کے مخصوص مذہبی ماحول کو اپنے کنٹرول میں لینے پر مبنی ہے۔ اس منصوبے میں سب سے اہم کوشش ’’حسینیہ و امام بارگاہوں‘‘ کے منتظمین کی تقرری کا معاملہ قومی انٹیلی جنس ادارے کے سپرد کرنا ہے۔
تمام باخبر افراد جانتے ہیں کہ متعدد وجوہات کی بنا پر ’’اوقاف‘‘ حسینیوں کے سربراہان یا انتظامی بورڈ کے ارکان مقرر کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا کیونکہ یہ ادارہ محض وزارت داخلہ کے ایک نمائشی ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حکومت ہمیشہ سے کوشش کرتی رہی ہے کہ حسینیوں کی انتظامیہ میں خفیہ اہلکاروں اور جاسوسوں کو شامل کیا جائے تاکہ وہ حکومتی احکامات پر عمل درآمد کرائیں اور ان اداروں کو ’’امام حسین علیہ السلام کی تحریک‘‘ کے جذبے سے خالی کر دیں اور اپنے تئیں اہل بیت علیہم السلام کی فکر کو حسینیوں کی روح سے دور کر دیں بلکہ حکومت کی کوشش یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ یزید، شمر اور حرملہ کے ساتھ بھی مفاہمت کی جائے اور یہ سلسلہ بالآخر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مفاہمت تک پہنچ جائے!









آپ کا تبصرہ