حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں شیعہ اوقاف کی انتظامیہ میں حالیہ تبدیلیوں اور شیعہ برادری کے خلاف مبینہ سرکاری اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے بعض مبصرین اور حقوقی حلقوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں شیعہ شناخت اور مذہبی خودمختاری کو محدود کرنے کا ایک منظم منصوبہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق بحرینی امور پر نظر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ شیعہ برادری کی مذہبی اور سماجی حیثیت کو کمزور کرنے کے اقدامات اب کسی الزام یا قیاس آرائی کا موضوع نہیں رہے بلکہ عملی سطح پر تیزی سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے "رواداری، بقائے باہمی اور جمہوریت" کے نعروں کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔
حال ہی میں بحرین کے فرمانروا حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے سنی اور جعفری اوقاف کونسلوں اور ان سے متعلق اداروں کو ختم کرکے اوقاف کے لیے ایک نئی کونسل قائم کی ہے جس کی سربراہی ایک وزیر کے سپرد کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کو شیعہ امور پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شیعہ شہریوں کو مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا رہا ہے، جن میں بعض افراد کی شہریت کی منسوخی، مذہبی شخصیات کی گرفتاری، مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں اور سیاسی و سماجی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔ ناقدین کے مطابق ان اقدامات نے شیعہ برادری میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جعفری اوقاف کو براہِ راست حکومتی نگرانی میں لانے کا فیصلہ صرف ایک انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ اس کے گہرے سیاسی اور مذہبی اثرات ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شیعہ مذہبی اداروں کی خودمختاری محدود کی جا رہی ہے اور ان کے داخلی امور کو حکومتی کنٹرول کے تحت لایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحرین کے شیعہ شہری طویل عرصے سے مختلف سیاسی اور سماجی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے سیاسی یا مذہبی نظریات کا اظہار کرے تو اسے بعض اوقات سکیورٹی یا سیاسی الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ شہری اور سیاسی حقوق کے مطالبات بھی حساس موضوع سمجھے جاتے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ حالیہ اقدامات کے بعد آئندہ محرم الحرام اور بالخصوص عاشوراء کے اجتماعات کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ بعض حلقوں کو اندیشہ ہے کہ جلوسوں، حسینیہ اور عوامی عزاداری کی سرگرمیوں پر مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق بحرین کے ناقدین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ شیعہ برادری کے خلاف دباؤ کی یہ پالیسی کہاں تک جائے گی اور آیا مستقبل میں مذہبی و سماجی آزادیوں پر مزید قدغنیں لگائی جائیں گی یا نہیں۔ دوسری جانب بحرینی حکام اپنے اقدامات کو ملک کے امن، استحکام اور انتظامی اصلاحات کے لیے ضروری قرار دیتے رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ