سکہ رائج الوقت کے دو رخ؛ معلم و صحافی

حوزہ/زمانے کے بعض مناقشے اور مناظرے ایسے ہوتے ہیں جو بادی النظر میں چند جملوں یا چند افراد کے مابین برپا ہونے والے لفظی معرکے دکھائی دیتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ پورے عہد کے فکری مزاج، تدبیری ساخت، تہذیبی شعور اور اخلاقی زوال کا خوگر بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک جملہ محض جملہ نہیں رہتا، بلکہ اپنے اندر ایک عہد کی نفسیات ایک معاشرے کی فکری ترجیحات اور ایک تہذیب کے زوال پذیر معیارات کو سموئے ہوتا ہے۔

تحریر: مولانا گلزار جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| زمانے کے بعض مناقشے اور مناظرے ایسے ہوتے ہیں جو بادی النظر میں چند جملوں یا چند افراد کے مابین برپا ہونے والے لفظی معرکے دکھائی دیتے ہیں، لیکن در حقیقت وہ پورے عہد کے فکری مزاج، تدبیری ساخت، تہذیبی شعور اور اخلاقی زوال کا خوگر بن جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک جملہ محض جملہ نہیں رہتا بلکہ اپنے اندر ایک عہد کی نفسیات ایک معاشرے کی فکری ترجیحات اور ایک تہذیب کے زوال پذیر معیارات کو سموئے ہوتا ہے۔ (کوڑی) اور (پھوٹی کوڑی) جیسے الفاظ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں یہ محض عامیانہ طعن و تشنیع کی لغوی ترکیبیں نہیں بلکہ اس فکری انحطاط کی علامات ہیں جس میں احترامِ مراتب کی جگہ تحقیر مراتب، استدلال کی جگہ استہزاء اور مکالمے کی جگہ مخاصمت نے لے لی ہو۔

یہ امر بجائے خود ایک المیہ ہے کہ ایک طرف معلمین کے پورے طبقے کو حقارت کے پیمانے میں ناپنے کی جسارت کی جائے اور دوسری جانب جواباً صحافت یا مذہبی حلقوں کو استہزائی استعاروں کے ذریعے مطعون کیا جائے۔ یہ طرزِ تخاطب دراصل اس تہذیبی افلاس کی نشاندہی کرتا ہے جس میں دلیل کی آبرو مجروح ہو چکی ہو، اختلاف اپنی اخلاقی حدود کھو بیٹھا ہو اور زبان، عقل کی خادمہ بننے کے بجائے جذبات کی لونڈی بن گئی ہو۔

معلم اور صحافی محض دو پیشے نہیں بلکہ تمدنی ارتقاء کے دو بنیادی ستون ہیں ایک اذہان کی تعمیر کرتا ہے اور دوسرا شعور کی تشکیل، معلم فکر کے ریگزاروں میں معرفت کے چشمے جاری کرتا ہے جبکہ صحافی معاشرتی ظلمتوں اور دھندلکوں میں آگہی کے چراغ روشن کرتا ہے استاد نسلوں کے مقدر میں علم کا نور ثبت کرتا ہے اور صحافی زمانوں کے حافظہ شعور میں حقائق کے نقوش محفوظ کرتا ہے۔ اگر معلم محرابِ علم کا چراغ ہے تو صحافی ایوانِ شعور کی قندیل اگر استاد تہذیب کی روح میں حکمت کا خون دوڑاتا ہے تو صحافی معاشرتی بدن میں بیداری کی نبض کو زندہ رکھتا ہے۔

اسی لیے جب کوئی شخص پورے طبقہ اساتذہ کو تحقیر کے ترازو میں تولنے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت وہ ان گنت گمنام معلمین کے عرقِ جبین کی توہین کرتا ہے جنہوں نے اپنی محرومیوں کے باوجود علم کے چراغ روشن رکھے، جن کی خاموش ریاضتوں نے علم و دانش کے آفتاب طلوع کئے، اور جن کی آغوش تربیت سے مفکرین، مفسرین، سائنس دان، ادباء، فقہاء، محققین، سیاست دان اور صحافی پیدا ہوئے اگر درسگاہوں کی شمعیں فروزاں نہ ہوتیں تو صحافت کے ایوانوں تک روشنی اور روشنائی بھی نہ پہنچ پاتی۔

لیکن حقیقت کا دوسرا رخ بھی اپنی جگہ موجود ہے ہر مقدس عنوان کے سائے میں کچھ ایسے کردار بھی نمو پاتے ہیں جو اس عنوان کی معنویت کو مجروح کر دیتے ہیں ایسے معلم بھی موجود ہیں جو علم کے وارث کم اور اسناد کے محافظ زیادہ ہوتے ہیں جن کے پاس معلومات کا انبار تو ہوتا ہے مگر بصیرت کی دولت نہیں، جن کی زبان پر الفاظ تو ہوتے ہیں مگر فکر میں گہرائی نہیں، اور جن کے پاس نصاب تو ہوتا ہے مگر حکمت تربیت نہیں ایسے افراد مسند تدریس پر متمکن ہو کر بھی معلمی کے جوہرِ حقیقی سے محروم رہتے ہیں۔ ان کی مثال ایسے چراغ کی سی ہے جو خود دھواں بن چکا ہو اور دوسروں کو روشنی دینے کا دعویٰ کرتا ہو۔

تاہم اس پورے مناقشہ کے درمیان ایک اور سوال اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سر اٹھاتا ہے؛ ایسا سوال جو کسی شخصی نزاع کا نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر کی عدالت میں دائر ہونے والی ایک فکری عرضداشت کا درجہ رکھتا ہے۔

جب مسلمانوں کی اجتماعی شناخت کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور جہادی مانسکتا کے ساتھ نتھی کرنے کی منظم سازشیں ہو رہی تھیں، جب ذرائعِ ابلاغ کے بعض منابر سے تعمیمات اور تہمتوں کے زہریلے تیر چلائے جا رہے تھے، جب ایک پوری ملت کو شکوک و شبہات کے حصار میں محصور کرنے کا ماحول تشکیل دیا جا رہا تھا، جب شناختوں کے خلاف نفسیاتی محاصرہ اور تہذیبی کردار کشی کا بازار گرم تھا، تب سماج کے وہ فکری پاسبان کہاں تھے جو خود کو نسلِ نو کا معمار اور قوم کا مربی قرار دیتے ہیں۔

یہ سوال محض کسی صحافی، دانشور یا ناقد کا نہیں بلکہ انصاف کے مضطرب وجدان کا سوال ہے۔ اگر معلم صرف معلومات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ اخلاقی بصیرت، فکری دیانت اور انسانی انصاف کی آبیاری کا عنوان بھی ہے تو ایسے مواقع پر اس کی خاموشی بھی زیرِ محاکمہ آئے گی۔ تاریخ کی عدالت میں بعض اوقات بولنے والوں سے زیادہ خاموش رہنے والوں سے سوال کیا جاتا ہے۔ ہر سکوت حکمت نہیں ہوتا اور ہر خاموشی غیر جانب داری کی دلیل نہیں بنتی بعض خاموشیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو ناانصافی کے ایوانوں میں ثبت ہونے والی غیر مرئی (نہ دکھنے والی) توثیق بن جاتی ہیں۔

جب آپ کو کوڑی کی تعبیر نے چراغ پا کردیا تو اس وقت ان زبانوں کو لقوا کیوں مار گیا تھا۔

جبکہ آپ ٹیچر حضرات کی ذمہ داری ہے کہ سماج کا تریاق بنیں اپنی ذات کا نہیں۔

فلسفہ اخلاق کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب باطل پوری قوت کے ساتھ بول رہا ہو اور اہلِ حق خاموش رہ جائیں تو خاموشی محض خاموشی نہیں رہتی بلکہ جرمِ سکوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جب تعصب خطابت کر رہا ہو اور انصاف خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہو تو سکوت بھی ایک موقف اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ضمیر کی بیداری اور ضمیر کی معطلی کے درمیان خطِ امتیاز قائم ہوتا ہے۔

تاہم عدل و انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ چند افراد یا بعض حلقوں کے جرمِ سکوت کو پورے طبقہ اساتذہ کی اجتماعی شناخت قرار نہ دیا جائے جس طرح چند صحافیوں کی بددیانتی صحافت کی توقیر کو مجروح نہیں کر سکتی، اسی طرح بعض معلمین کی بے حسی معلمی کی عظمت کو زائل نہیں کر سکتی۔ سورج پر دھبہ نمودار ہو تو دانا لوگ دھبے کی نشاندہی کرتے ہیں، سورج کا انکار نہیں کرتے۔

صحافت کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ تاریخ کے اوراق ایسے قلم کاروں سے خالی نہیں جو حقائق کے امین نہیں بلکہ خواہشات کے ترجمان تھے۔ ایسے صحافی بھی پائے جاتے ہیں جو تحقیق کی ریاضت سے گریزاں،جھوٹ پروسنے میں ماہر ، سنسنی خیز خبروں کے شیدائی، شہرت کے اسیر دولت کے حریص ، تلوے چاٹنے کے عادی ، سماج میں زہر افشانی کرتے سنپولے تعصبات کے اسلحہ بردار ہوتے ہیں۔ ان کے نزدیک خبر امانت نہیں بلکہ تجارت ہوتی ہے اور تجزیہ بصیرت کا اظہار نہیں بلکہ پسندیدہ بیانیے کی تشہیر۔ ایسے عناصر صحافت کی پیشانی پر وہی داغ ہیں جو جاہل معلم علم کی پیشانی پر لگا دیتا ہے۔

عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو منبر بھی عطا کر دیا ہے اور عدالت بھی۔ اب الفاظ ہوا کے دوش پر نہیں بلکہ برق کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ ایک غیر محتاط جملہ لمحوں میں لاکھوں اذہان تک پہنچ جاتا ہے جسکی دلیل کاکروچ جنتا پارٹی کو منصہ شہود پر انا ہے جبکہ ایک سطحی تبصرہ اجتماعی شعور میں ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔ چنانچہ زبان کی لغزش اب شخصی لغزش نہیں رہی بلکہ اجتماعی فکر پر وارد ہونے والا تہذیبی زخم بن چکی ہے۔

اہلِ دانش کا شیوہ یہ نہیں کہ وہ اختلاف کو اہانت میں اور تنقید کو تذلیل میں تبدیل کر دیں۔ علمی دنیا میں دلیل کا مرتبہ غوغا سے بلند ، استدلال کا مقام استہزاء سے برتر اور مکالمے کی حیثیت مخاصمت سے کہیں زیادہ معتبر ہوتی ہے جو شخص برہان کے بجائے بہتان کا سہارا لیتا ہے وہ درحقیقت اپنی فکری کم مائیگی کا خود اعتراف کر رہا ہوتا ہے۔

بلند قامت اذہان کو بازار کی زبان زیب نہیں دیتی اور عظیم تصورات کو حقارت کے استعاروں کی حاجت نہیں ہوتی۔

یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ استاد کی عظمت اس کے علم سے پہلے اس کے کردار میں جلوہ گر ہوتی ہے اور صحافی کی عظمت اس کی فصاحت سے پہلے اس کی دیانت میں نمایاں ہوتی ہے۔ اگر معلم حلم، تحقیق، بصیرت اور تقویٰ سے محروم ہو جائے تو اس کی اسناد بھی اسے وقار عطا نہیں کر سکتیں، بلکہ ڈگریاں بھی ڈگمگانے کا کام کرتی ہیں۔

اگر صحافی حقیقت صحافت، صداقت و امانت اور ایمان و انصاف سے دست بردار ہو جائے تو اس کے لاکھوں ناظرین بھی اس کی ساکھ کو دوام نہیں دے سکتے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون کوڑی ہے اور کون پھوٹی کوڑی

اصل سوال یہ ہے کہ کس کے پاس امانت علم ہے کس کے پاس دیانت قلم ہے، کس کے پاس اخلاق اختلاف ہے، کس کے پاس جرأت شہادت ہے، اور کس کے پاس وہ زندہ ضمیر ہے جو تعصب و تنگ نظری مصلحت اور خوف کے دباؤ کے باوجود حق کی گواہی دینے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

تاریخ افراد کے القابات محفوظ نہیں رکھتی، کردار کے روشن نقوش محفوظ رکھتی ہے زمانہ نوک زباں کا ارتعاش نہیں بلکہ خدمات کی تابانی کو یاد رکھتا ہے۔ انسانوں کی قیمت سکّوں سے نہیں سیرتوں سے متعین ہوتی ہے۔ جو معلم جہالت کی تاریکیوں میں شمعِ آگہی روشن کرے وہ قوم کا محسن ہے اور جو صحافی مصلحتوں کے طوفان میں بھی صداقت کا عَلَم بلند رکھے وہ معاشرے کا بیدار ضمیر ہے ان دونوں کی توقیر دراصل علم، شعور، انصاف اور تہذیب کی توقیر ہے اور ان دونوں کی تضحیک درحقیقت اپنے ہی اجتماعی وقار کی تنقیص۔

اگر افراد مصلحت کی چادر نہ اوڑھیں اور اپنے پیشہ کے تئیں وفادار رہیں تو اس وقت یہ صورت حال نہیں پیش آتی کہ عدالت کی دہلیز پر براجمان عظمتوں کا سورج لب کشائی کرے تو نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر توہین آمیز لہجہ سے پورے سماج کی بکھیا ادھیڑ دے قلم فکر میں ارتعاش ہے ورنہ ملک عزیز کے ہر پیشہ کے بعض افراد کو سوالیہ نشان کے دائرے میں کھڑا کرکے ہر ایک کا محاسبہ و مواخذہ کیا سکتا ہے مگر عصر رواں کا اختصار نوک قلم پر بوسہ زن ہے۔

رب کریم ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ امین یا رب العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha