تحریر: مولانا گلزار جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تہذیب کی تاریخ میں بعض اعمال ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ظاہری قالب سے کہیں زیادہ گہرے معانی اور ہمہ جہت اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی حقیقت محض رسوم و ظواہر تک محدود نہیں رہتی وہ رواجات کے بندھن میں قید نہیں رہتے، بلکہ وہ ایک مکمل فکری، سماجی، تمدنی اور اقتصادی و معاشی نظام کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ قربانی بھی انھیں عظیم شعائر میں سے ایک ہے جسے اگر صرف مذہبی زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اس کی معنوی وسعت کا بڑا حصہ نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے حقیقت یہ ہے کہ قربانی روحانیت کی رفعت، انسانیت کی حرارت، معاشرتی مواسات اور اقتصادی تحرک کا ایسا جامع استعارہ ہے جس میں عبادت اور معیشت ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ دکھائی دیتی ہیں۔ یہ محض ایک جانور کے ذبح ہونے کا خونی منظر نہیں بلکہ یہ رزق کی گردش، دولت کی تقسیم، معاشی توازن اور سماجی تعاون کا ایک وسیع و عریض انسانی مظہر ہے۔ جب لاکھوں افراد قربانی کے لئے جانور خریدتے ہیں تو دراصل صرف جانور نہیں خریدے جاتے، بلکہ دیہاتوں کی محنت، چرواہوں کی امیدیں، کسانوں کی شب بیداریاں، مزدوروں کی تھکن، منڈیوں کی رونق ، نقل و انتقال کا دل نشین منظر، غریبوں کے چولہوں کی حرارت خریدی جاتی ہے۔ یہ وہ سرمایہ ہے جو کسی مخصوص طبقے کے خزانوں میں منجمد نہیں ہوتا، بلکہ گردشِ زر اور لہو کے دورانیہ کی صورت میں پورے سماج کے رگ و پے میں دوڑنے لگتا ہے جس طرح بلڈ سرکولیشن سے بوڈی کا نظام درست رہتا ہے اسی طرح دولت کا سرکولیشن کائینات کے جسم کے نظام اقتصاد کو متوازن رکھتا ہے اسی طرح قربانی کی معیشت کا دائرہ ایک لمحاتی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہتا اس کے پس منظر میں مہینوں اور برسوں کی محنت کارفرما ہوتی ہے۔ ایک غریب چرواہا برسہا برس جانور پالتا ہے، کسان چارہ اگاتا ہے، تاجر منڈیوں کا انتظام کرتا ہے، مزدور نقل و حمل انجام دیتا ہے اور پھر جب قربانی کے ایام آتے ہیں تو یہ تمام طبقات ایک عظیم اقتصادی تسلسل میں جڑ جاتے ہیں۔
گویا قربانی ایک ایسا معاشی کارواں اس طرح رواں دواں ہوتا ہے جس میں دیہات کی خاموش بستیوں سے لے کر شہروں کی پر ہجوم شاہراہوں تک سب معاشیات کے شریکِ سفر ہوتے ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ قربانی کی روح صرف خرید و فروخت اور خورد و نوش پر منتج نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصلی خوبصورتی حسن تقسیم میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ گوشت جب غریب کے دسترخوان تک پہنچتا ہے تو محض غذا نہیں پہنچتی بلکہ عزتِ نفس، احساسِ شمولیت اور انسانی اخوت کا پیغام بھی پہنچتا ہے، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے کے طبقات کے درمیان حائل فاصلوں میں کمی محسوس ہوتی ہے، اور انسان یہ جان لیتا ہے کہ دولت کا حقیقی وقار جمع کرنے میں نہیں بلکہ بانٹنے میں ہے شاید احتکار کی حرمت کا یہی راز سربستہ ہیکہ معاشرہ معاشی مشکلات سے دو چار نہ ہو سکے۔
اگر غیر جانب دارانہ اقتصادی زاویے سے دیکھا جائے تو قربانی ایک عظیم عوامی اقتصادی تحریک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں سرمایہ براہِ راست عوام تک منتقل ہوتا ہے، یہاں دولت بینکوں، کارپوریٹ اداروں یا مخصوص سرمایہ دارانہ طبقات کے گرد محصور نہیں رہتی، بلکہ گاؤں کے چرواہے، کھیتوں کا چارا، چھوٹے بڑے تجار، قصاب و ہیلپر، مزدور اور گاڑیاں، چمڑے کے کاریگر، مصالحہ فروش بنیے، باورچی اور ضرورت مند خاندان سب اس کے ثمرات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ یہی وہ اقتصادی فلسفہ ہے جسے جدید دنیا “سرمایے کی عوامی گردش” کے نام سے تعبیر کرتی ہے، مگر اسلام نے اسے صدیوں قبل عبادت کے مقدس قالب میں ڈھال دیا تھا۔
قربانی دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ مذہب انسان کو صرف محراب و مسجد تک محدود نہیں کرتا بلکہ زندگی کے اقتصادی، سماجی اور تہذیبی پہلوؤں کو بھی اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیدِ قرباں کے ایام میں بازاروں کی حرکت، دیہی معیشت کی بیداری، روزگار کے مواقع کی فراوانی اور عوامی خرید و فروخت کی شدت ایک واضح اقتصادی نشاط پیدا کر دیتی ہے۔ گویا عبادت یہاں معیشت کو زندگی عطا کرتی ہے اور معیشت عبادت کے ذریعے انسانیت کی خدمت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ نہایت معنی خیز ہے کہ قربانی کے عمل میں تفاخر اور ذخیرہ اندوزی کا نہیں بلکہ ایثار، سخاوت اور اجتماعی منفعت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے سرمایہ جب صرف چند ہاتھوں میں سمٹ جائے تو معاشرہ طبقاتی اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے، اس وقت ملک کی گرتی معیشت میں دوستی کے پہلو میں دولت جمع کر کے سارے طبقات مملکت کو فقیری کا لباس پہنانے کا کھلا ہوا نتیجہ اہل نظر کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے مگر جب وہی سرمایہ عوام کے درمیان گردش کرے تو معیشت میں اعتدال اور معاشرت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔ قربانی اسی توازن کی عملی تصویر ہے اور شاید اسی وجہ سے احتکاری سرمایہ داروں کی سیاست قربانی پر سرکاری پابندی کی گندی روش کا آئینہ دار ہے۔
آج کی دنیا میں جب اقتصادی نظام سرمایہ دارانہ اجارہ داری، مصنوعی قلت اور طبقاتی تقسیم کے شکنجوں میں جکڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، تب قربانی کا فلسفہ انسانیت کے سامنے ایک متوازن اور رحمت آفریں اقتصادی ماڈل پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ معیشت کا اصل مقصد صرف دولت کا انبار لگانا نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان امدادی مہم ، سماجی تعاون اور آسودگی تقسیم کرنا ہے۔
پس قربانی کو محض ایک مذہبی رسم و رواج سمجھنا اس کے حقیقی تمدنی اور اقتصادی مقام کو محدود کر دینا ہے در حقیقت یہ وہ مقدس عمل ہے جہاں عبادت، انسانیت، معیشت اور معاشرت ایک ہی محور پر جمع ہو جاتے ہیں۔ یہاں چھری صرف جانور کے گلے پر نہیں چلتی بلکہ خود غرضی، احتکار، ذخیرہ اندوزی بے حسی اور طبقاتی غرور کے بت بھی ذبح ہوتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں عبادت واقعی معیشت بن جاتی ہےاور اس بات کو مزید سمجھنے کے لئے قرآن حکیم کی طرف رجوع کریں تو معلوم ہوگا کہ جا بجا ایات میں جہاں نماز قائم کرنے کا حکم ہے وہیں زکات ادا کرنے کا حکم ہے جو دلیل ہے کہ عبادت معیشت کی معاون بن کر سماج کو متوازن بنادیتی ہے اور اس طرح قدرت حقوق الہی اور حقوق العباد کو ایک ہی قربانی میں جمع کرکے امت کو سنت ابراہیمی ادا کرنے کا حکم دیتی ہے تاکہ اہل شعور فلسفہ قربانی کا ادراک کر سکیں ۔
رب کریم ہمیں قربانی بتمام معنی دینے کی اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
امین یا رب العالمین









آپ کا تبصرہ