نفاقِ خفی؛ ظاہر کی دینداری اور باطن کی بغاوت

حوزہ/انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک بیماری وہ نہیں جو جسم کو کمزور کرے، بلکہ وہ ہے جو روح کو کھوکھلا کر دے۔ کفر کبھی کبھی واضح ہوتا ہے؛ اس کا چہرہ سامنے ہوتا ہے اور اس کی صف بندی نمایاں ہوتی ہے، مگر نفاق ایک ایسا زہر ہے جو ایمان کے لباس میں چھپ کر دلوں، معاشروں اور تحریکوں کو تباہ کرتا ہے۔

تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تاریخ کی سب سے خطرناک بیماری وہ نہیں جو جسم کو کمزور کرے، بلکہ وہ ہے جو روح کو کھوکھلا کر دے۔ کفر کبھی کبھی واضح ہوتا ہے؛ اس کا چہرہ سامنے ہوتا ہے اور اس کی صف بندی نمایاں ہوتی ہے، مگر نفاق ایک ایسا زہر ہے جو ایمان کے لباس میں چھپ کر دلوں، معاشروں اور تحریکوں کو تباہ کرتا ہے۔

جیسا کہ حضرت جواد الائمہ امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا: "لَا تَکُنْ وَلِیّاً لِلَّهِ فِی الْعَلَانِیَةِ عَدُوّاً لَهُ فِی السِّرِّ." یعنی ایسا نہ ہو کہ تم ظاہر میں اللہ کے دوست بنو اور تنہائی میں اس کے دشمن بن جاؤ۔

یہ حدیث شریف صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ انسان کے باطن کا محاسبہ ہے۔ آج کا انسان عبادت گاہوں میں آنسو بہاتا ہے، محفلوں میں دین کی گفتگو کرتا ہے، سوشل میڈیا پر دینداری کے جملے لکھتا ہے، مگر جب تنہائی میسر آتی ہے تو اس کی نگاہیں، خیالات، معاملات، تجارت، سیاست، زبان اور کردار خدا کی نافرمانی میں ڈوب جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کے بجائے اپنے نفس، شہرت اور مفاد سے تعلق جوڑ لیتا ہے۔

نفاق صرف یہ نہیں کہ انسان کسی سے جھوٹی محبت ظاہر کرے؛ اصل نفاق یہ ہے کہ بندہ خدا کے سامنے وفاداری کا دعویٰ کرے مگر دل میں دنیا کی غلامی رکھے۔ زبان پر ذکرِ خدا ہو مگر فیصلے خواہشات کے تابع ہوں۔ نماز، روزہ، حج، عزاداری، زیارت اور عبادت سب موجود ہوں، مگر حقوق العباد پامال ہوں، رزق حرام سے آلودہ ہو، کردار جھوٹ سے بھرا ہو اور دل تکبر سے لبریز ہو۔ ایسا شخص حقیقت میں عبادت نہیں کر رہا ہوتا بلکہ دین کو اپنی شخصیت کی نمائش کا ذریعہ بنا رہا ہوتا ہے۔

آج کے دور میں نفاق نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ پہلے منافق صرف نشستوں میں دوغلا پن دکھاتا تھا، اب اس کے ہاتھ میں موبائل ہے، اس کے پاس کیمرہ ہے اور اس کے سامنے سوشل میڈیا کی دنیا ہے۔ اب بعض لوگ عبادت بھی لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں، خیرات بھی تصویر کے ساتھ دیتے ہیں، گریہ بھی ریکارڈ کرواتے ہیں اور دین کو بھی شہرت کے بازار میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں اخلاص چھپ گیا ہے اور نمائش عبادت بنتی جا رہی ہے۔

معاشرہ بھی ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ لوگ دیندار ہونے سے زیادہ دیندار نظر آنے سے متاثر ہوتے ہیں۔ چنانچہ بہت سے افراد کردار کی تعمیر کے بجائے مذہبی امیج بنانے میں مصروف ہیں۔ لباس بدل لیا، گفتگو بدل لی، القابات بڑھا لئے، مگر دل کے اندر حسد، کینہ، خودپرستی، دنیا طلبی اور گناہ کی محبت باقی رہی۔ یہی وہ باطنی اندھیرا ہے جس کے بارے میں قرآن نے منافقین کے لئے سخت ترین عذاب کی خبر دی ہے۔

قرآنِ مجید میں منافقین کا تذکرہ بار بار اس لئے آیا ہے کہ یہ لوگ دین کے اندر رہ کر دین کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کافر کا خطرہ سامنے سے آتا ہے، مگر منافق کا وار اندر سے ہوتا ہے۔ وہ حق کے لشکر میں کھڑا ہو کر باطل کی خدمت کرتا ہے۔ وہ خدا کے نام پر لوگوں کے احساسات خریدتا ہے۔ وہ مقدسات کے ذریعہ اپنی شخصیت کو بلند کرتا ہے، مگر اس کے اعمال خدا کے مقابل کھڑے ہوتے ہیں۔

غور کیا جائے تو نفاق دراصل انسان کے ظاہر اور باطن کا تضاد ہے۔ اہل نظر کہتے ہیں کہ جب دل خدا سے خالی ہو جائے تو عبادت صرف حرکات بن کر رہ جاتی ہے۔ سجدہ باقی رہتا ہے مگر بندگی ختم ہو جاتی ہے۔ ذکر باقی رہتا ہے مگر حضورِ قلب رخصت ہو جاتا ہے۔ انسان مسجد میں ہوتا ہے مگر اس کا دل بازار میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔ یہی روحانی موت ہے۔

آج انسان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ظاہری دینداری کے بجائے باطنی صداقت پیدا کرے۔ نوجوانوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اللہ تنہائیوں کا بھی رب ہے۔ جو شخص رات کے اندھیرے میں گناہ سے بچ جاتا ہے، وہی حقیقت میں مومن ہے۔ جو شخص طاقت، شہرت، دولت اور خواہش کے موقع پر خدا کو یاد رکھے، وہی خدا کا حقیقی دوست ہے۔

اسی طرح نفاق ہر تحریک کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تحریکیں بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی منافقوں سے زیادہ تباہ ہوئی ہیں۔ جب زبانیں انقلاب کی بات کریں مگر دل مفاد کے غلام ہوں تو قومیں بکھر جاتی ہیں۔ اسی لئے ہر دینی اور سماجی تحریک کو سب سے پہلے خود احتسابی، اخلاص اور کردار کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔

آج اگر ہم واقعی امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کے اس فرمان کو سمجھ لیں تو ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔ ہمیں لوگوں کے سامنے نیک نظر آنے سے زیادہ اللہ کے سامنے سچا ہونے کی فکر کرنی چاہیے، کیونکہ قیامت کے دن انسان کی تقریریں، پوسٹیں، نعرے اور ظاہری لباس نہیں، بلکہ اس کا باطن پیش کیا جائے گا۔

پس ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے دل میں جھانکے۔ اگر تنہائی میں خدا کی یاد باقی ہے، اگر گناہ کے موقع پر دل کانپتا ہے، اگر کسی کے حق کو مارنے پر ضمیر بے چین ہوتا ہے، اور اگر عبادت شہرت کے لئے نہیں بلکہ قربِ خدا کے لئے ہے، تو امید کی جا سکتی ہے کہ انسان نفاق سے محفوظ ہے۔ لیکن اگر ظاہر اور باطن دو الگ دنیا بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ روح خطرے میں ہے۔

مؤمن کی اصل پہچان یہ نہیں کہ لوگ اسے کتنا دیندار سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ خدا اسے کتنا سچا جانتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha