ترجمہ: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی|6 ذی الحجہ شیعہ تاریخ اور مزاحمتِ شیعہ کا ایک اہم دن سمجھا جاتا ہے۔ مختلف تاریخی کتابوں، جیسے تاریخ دمشق، تاریخ طبری اور شیخ عباس قمی کی تصانیف میں نقل ہوا ہے کہ 6 ذی الحجہ 158 ہجری کو عباسی خلیفہ منصور دوانیقی ہلاک ہوا۔ وہ حج کے سفر پر تھا اور بعد میں مکہ کے قبرستانِ معلیٰ میں دفن کیا گیا۔
منصور دوانیقی عباسی خلفاء میں نہایت سخت مزاج، کنجوس اور خونریز حکمران سمجھا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ خود سکّے گنا کرتا تھا اور مرنے کے وقت بہت بڑا خزانہ چھوڑ گیا تھا۔ اسی شدید کنجوسی کی وجہ سے اسے “دوانیقی” کہا جانے لگا۔ اس نے عباسی حکومت کو مضبوط کیا اور اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے بڑے بڑے افراد کو بھی قتل کرا دیا، جن میں ابومسلم خراسانی بھی شامل تھا، جو عباسی تحریک کا اہم رکن مانا جاتا تھا۔
منصور نے اپنی حکومت کے خلاف اٹھنے والی متعدد تحریکوں کو سختی سے کچلا، خصوصاً وہ تحریکیں جو ابومسلم خراسانی کے خون کا بدلہ لینے کے لئے برپا ہوئی تھیں۔ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ منصور خود کو خلیفہ کے بجائے بادشاہ سمجھتا تھا۔ اس نے ایرانی برمکی خاندان کی مدد سے ایک مضبوط انتظامی نظام قائم کیا، جو ساسانی حکومت کے انداز سے متاثر تھا۔
منصور دوانیقی اپنے بھائی سفاح کے برخلاف نہایت ظالم اور خونریز تھا۔ اس نے آلِ ابوطالبؑ اور اولادِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ شدید دشمنی رکھی۔ اس نے بہت سے سادات اور اہلِ بیت علیہم السلام کے افراد کو شہید کرایا۔ اس کے بڑے جرائم میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت ہے۔ اسی طرح عبداللہ محض، حسن مثلث اور بنی حسنؑ کے کئی افراد بھی اس کے ظلم کا نشانہ بنے۔
یہ بات درست ہے کہ سفاح نے شیعوں پر نسبتاً کم سختی کی، لیکن اس کی وجہ شیعوں سے محبت نہیں تھی، بلکہ اس وقت عباسی حکومت نئی نئی قائم ہوئی تھی اور اسے علویوں کی حمایت درکار تھی۔ تاہم منصور کے دور میں عباسی حکمران اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ علوی ان کی حکومت کے لئے ایک سنجیدہ سیاسی خطرہ اور طاقتور حریف ہیں، چنانچہ انہوں نے ان کے خلاف شدید دشمنی اختیار کر لی۔
اس زمانے میں امام جعفر صادق علیہ السلام ایک عظیم علمی و فکری شخصیت کے طور پر مانے جاتے تھے۔ فقہاء اور محدثین میں آپؑ کو غیر معمولی احترام حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ منصور کو خصوصاً امام صادق علیہ السلام اور علویوں سے شدید کینہ تھا۔
علامہ اسد حیدر نے اپنی کتاب الامام الصادق والمذاهب الاربعة میں لکھا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کی مقبولیت روز بروز عالمِ اسلام میں بڑھتی جا رہی تھی۔ مختلف فقہا اور محدثین، باہمی اختلافات کے باوجود، علمی مسائل میں امامؑ کی طرف رجوع کرتے اور آپؑ سے سوالات دریافت کرتے تھے۔ امامؑ کی یہی عظمت اور عوامی مقبولیت منصور کے لئے باعثِ تشویش تھی۔ اسی لئے وہ بارہا کسی نہ کسی بہانے امامؑ کو عراق طلب کرتا اور دل میں آپؑ کو شہید کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
منصور نے اس سے پہلے مالک بن انس اور ابوحنیفہ کو بڑے علمی رہنما کے عنوان سے پیش کرنے کی کوشش بھی کی تاکہ امام صادق علیہ السلام کے اثر و نفوذ کو کم کیا جا سکے، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔
جب منصور نے 146 ہجری میں بغداد شہر کی تعمیر شروع کی تو بعض روایات کے مطابق اس نے خاندانِ سادات کی کئی شخصیات کو زندہ دیواروں اور ستونوں میں چنوا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ بغداد کو دارالحکومت بنانے کا مقصد بھی یہ تھا کہ عباسی حکومت علوی مراکز سے دور رہے۔ اس ظلم اور قتل و غارت کا ذکر بعض تاریخی کتابوں میں ملتا ہے۔
ایک روایت میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازہ ایک فرعون صفت ظالم سے منسوب ہے، جن میں یزید اور بنی عباس میں سے ایک شخص، جسے دوانیقی کہا جاتا ہے، بھی شامل ہے۔
شیعہ تاریخ نے منصور دوانیقی کے دور میں ظلم و ستم کا ایک نہایت تاریک زمانہ دیکھا۔ تاہم بالآخر وہ خود بھی دنیا سے رخصت ہو گیا، جبکہ اہلِ بیت علیہم السلام کا راستہ باقی رہا، اور شیعہ اپنے خون اور قربانیوں کے ذریعہ آج تک اس راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔









آپ کا تبصرہ