بدھ 22 اپریل 2026 - 18:27
سید ابنِ طاووسؒ: علم و عرفان کا مینار 

حوزہ/ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت ایک ہمہ جہت نمونہ ہے، علم کی گہرائی، تقویٰ کی بلندی، فکر کی آزادی، اور عمل کی صداقت کا حسین امتزاج۔ آپؒ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم حاصل کرو مگر تکبر سے بچو، اقتدار کو ٹھکراؤ مگر ذمہ داری سے نہ بھاگو اور دین کو سمجھو بھی، جیو بھی اور پھیلاؤ بھی۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | ساتویں صدی ہجری کے افقِ علم و عرفان پر درخشاں ستاروں میں ایک نہایت روشن نام، جمال العارفین، رضی الدین ابوالقاسم سید علی بن موسیٰ بن جعفر بن طاووس المعروف بہ سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جنہوں نے نہ صرف اپنے زمانے کی علمی و فکری فضا کو منور و معطر کیا بلکہ رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کے لئے ہدایت و بصیرت کے چراغ روشن کر دیے۔ آپؒ کی ولادت 15 محرم الحرام 589 ہجری کو عراق کے علمی و دینی مرکز حلّہ میں ایک ایسے سادات خاندان میں ہوئی جو علم، تقویٰ اور خدمتِ دین میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔

آپؒ کے والد گرامی جناب سید موسیٰ بن جعفر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ ایک جلیل القدر عالم اور راوی حدیث تھے، جبکہ والدہ ماجدہ ایک عظیم المرتبت فقیہ و محدث، وَرّام بن ابی فراس حِلّی رحمۃ اللہ علیہ کی صاحبزادی تھیں۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے دنیاوی مناصب کو ٹھکرا کر زہد، تقویٰ اور تعلیم و تربیت کو اپنا شعار بنایا اور اپنے نواسے سید ابن طاووسؒ کی علمی و روحانی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی وہ نصیحت—"کم پر راضی نہ ہونا"—درحقیقت ایک انقلابی پیغام ہے جو ہر طالبِ علم کو جمود، منفی قناعت اور فکری پستی سے نکال کر کمال کی جستجو کی طرف بلاتا ہے۔

اسی طرح سید ابن طاووسؒ کی اپنے فرزند کو نصیحت—"فقہ کو اس درجہ حاصل کرو کہ تقلید کی حاجت نہ رہے"—درحقیقت اجتہادی شعور، فکری استقلال اور علمی خودمختاری کا منشور ہے۔ یہ وہ فکر ہے جو امت کو اندھی تقلید سے نکال کر بصیرت، تحقیق اور اجتہاد کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔

آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد اور نانا سے حاصل کی، اور کم عمری ہی میں اپنی غیر معمولی ذہانت و فطانت کے جوہر دکھائے۔ فقہ جیسے دقیق علم میں جس قدر مہارت آپؒ نے قلیل مدت میں حاصل کی، وہ ایک غیر معمولی علمی معجزہ محسوس ہوتی ہے۔ مگر اس کے باوجود آپؒ کی احتیاط، خشیتِ الٰہی اور ذمہ داری کا احساس اس قدر شدید تھا کہ فتویٰ دینے میں نہایت درجہ احتیاط برتتے۔ سورۂ الحاقہ کی آیات "وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ..." کی تلاوت کے ساتھ آپؒ کا یہ احساسِ جوابدہی دراصل علم کے ساتھ تقویٰ کی لازمی ہم آہنگی کا عملی نمونہ ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سید ابن طاووسؒ ہمیں ایک عظیم درس دیتے ہیں: علم اگر تقویٰ سے خالی ہو تو گمراہی کا سبب بن سکتا ہے اور تقویٰ اگر علم سے خالی ہو تو جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ ان کی شخصیت علم و عمل، عقل و عشق، فقہ و عرفان کا حسین امتزاج تھی۔

بغداد میں قیام کے دوران عباسی حکمران مستنصر کی جانب سے بارہا اعلیٰ حکومتی مناصب، مفتی اعظم، وزیر، سفیر کی پیشکش کی گئی، مگر آپؒ نے ہر بار انکار کر کے یہ ثابت کیا کہ حقیقی عالم اقتدار کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ حق و صداقت کا امین ہوتا ہے۔ یہ انکار محض ذاتی زہد نہیں بلکہ ایک فکری و انقلابی موقف تھا کہ دین کو درباری سیاست کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔

تاریخ کے نازک ترین مرحلے، عباسی زوال اور ہلاکو خان کے حملے کے دوران آپؒ کی حکمت و بصیرت نے ایک نئے باب کو جنم دیا۔ جب ہلاکو نے سوال کیا کہ "عادل کافر یا ظالم مسلمان؟" تو آپؒ کا جواب "عادل حاکم بہتر ہے" درحقیقت عدل کے آفاقی اصول کی ترجمانی تھا۔ یہ وہ جرأتِ اظہار تھی جو نہ صرف سیاسی بصیرت بلکہ علوی فکر کی حقیقی نمائندگی کرتی ہے، کیونکہ امیرالمومنین علیہ السلام کا فرمان بھی یہی ہے کہ "حکومت کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے، مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔"

یہ موقف آج کے دور میں بھی ایک زندہ پیغام ہے۔ معاشرے کی بقا کا دار و مدار مذہبی شناخت پر نہیں بلکہ عدل، انصاف اور انسانی حقوق کی پاسداری پر ہے۔

ہلاکو کے دور میں علویوں کی نقابت قبول کرنا بظاہر ایک سیاسی فیصلہ تھا، مگر درحقیقت یہ ایک حکیمانہ اور انقلابی اقدام تھا جس کے ذریعہ آپؒ نے ہزاروں انسانوں کی جان و مال کو بچایا اور معاشرے کو تباہی سے محفوظ رکھا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے امت کے مفاد میں جرأت مندانہ فیصلے کرے۔

آپؒ کی علمی خدمات بھی بے مثال ہیں۔ "اقبال الاعمال" دعا و مناجات کا ایک روح پرور خزانہ ہے، جبکہ "اللهوف علی قتلی الطفوف" واقعہ کربلا کی ایک مستند، مؤثر اور درد انگیز روایت ہے جو نہ صرف تاریخ بلکہ شعور و احساس کو زندہ کرتی ہے۔ یہ کتابیں محض علمی سرمایہ نہیں بلکہ فکری و روحانی انقلاب کا ذریعہ ہیں۔

آج کے دور میں جبکہ غیر مستند روایات اور سطحی بیانیے عام ہو چکے ہیں، سید ابن طاووسؒ کی تصانیف ہمیں تحقیق، صداقت اور ذمہ دارانہ تبلیغ کا درس دیتی ہیں۔ خصوصاً خطباء و ذاکرین کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ وہ مستند منابع سے استفادہ کریں تاکہ دین کا پیغام خالص اور مؤثر انداز میں منتقل ہو۔

المختصر سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت ایک ہمہ جہت نمونہ ہے، علم کی گہرائی، تقویٰ کی بلندی، فکر کی آزادی، اور عمل کی صداقت کا حسین امتزاج۔ آپؒ کی زندگی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ علم حاصل کرو مگر تکبر سے بچو، اقتدار کو ٹھکراؤ مگر ذمہ داری سے نہ بھاگو اور دین کو سمجھو بھی، جیو بھی اور پھیلاؤ بھی۔

جناب سید ابن طاووس رحمۃ اللہ علیہ نے 5 ذی القعدہ سن 664 ہجری کو وفات پائی۔

بارگاہِ الٰہی میں دعا ہے کہ وہ اس عظیم ہستی کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی علم، عمل، بصیرت، زہد و تقویٰ، اور حق گوئی کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے مقصد حیات میں ثابت قدم رہ سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha