بدھ 11 فروری 2026 - 15:38
امام خمینیؒ اور اُمت کی بیداری؛ ایک فکری انقلاب کی داستان

حوزہ/یہ حقیقت اب تاریخ کی کتابوں میں محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر محفوظ نہیں کہ ۱۹۷۹ء میں ایران میں ایک انقلاب برپا ہوا، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فکری، اعتقادی اور تمدّنی انقلاب تھا، جس نے امتِ مسلمہ کی سوئی ہوئی خودی کو نئی زبان، نئی جرأت اور نیا شعور عطا کیا۔ اس انقلاب کا مرکز نہ کوئی عسکری جرنیل تھا اور نہ کوئی سیاسی جماعت، بلکہ ایک مرجعِ دین، ایک فقیہِ مجاہد اور ایک مردِ خدا — حضرت امام روح اللہ خمینیؒ — تھے۔

تحریر: مولانا عقیل رضا ترابی

حوزہ نیوز ایجنسی| امام خمینیؒ اور اُمت کی بیداری — ایک فکری انقلاب کی داستان اور تسلسلِ قیادت: رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای

یہ حقیقت اب تاریخ کی کتابوں میں محض ایک سیاسی واقعے کے طور پر محفوظ نہیں کہ ۱۹۷۹ء میں ایران میں ایک انقلاب برپا ہوا، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر فکری، اعتقادی اور تمدّنی انقلاب تھا، جس نے امتِ مسلمہ کی سوئی ہوئی خودی کو نئی زبان، نئی جرأت اور نیا شعور عطا کیا۔ اس انقلاب کا مرکز نہ کوئی عسکری جرنیل تھا اور نہ کوئی سیاسی جماعت، بلکہ ایک مرجعِ دین، ایک فقیہِ مجاہد اور ایک مردِ خدا — حضرت امام روح اللہ خمینیؒ — تھے۔

درحقیقت امام خمینیؒ کا انقلاب محض تخت و تاج کے خلاف نہیں تھا، بلکہ غلامی کے اُس پورے ذہنی و فکری نظام کے خلاف تھا جو صدیوں سے مسلمان معاشروں کے شعور میں رچ بس چکا تھا۔

بیداری سے پہلے کی اُمت

انقلابِ اسلامی سے قبل عالمِ اسلام ایک گہرے فکری جمود اور عملی انحطاط کا شکار تھا۔

مساجد آباد تھیں، مگر محراب سے مزاحمت کی آواز مدھم ہو چکی تھی۔

قرآن ہاتھوں میں تھا، مگر اجتماعی نظامِ حیات سے عملاً جدا کر دیا گیا تھا۔

فقہ موجود تھی، مگر سیاست کو اس سے الگ اور متضاد بنا دیا گیا تھا۔

دین فرد کی نجات تک محدود ہو چکا تھا اور سماج، معیشت اور ریاست عملاً طاغوتی قوتوں کے سپرد تھیں۔

ایران کی صورتِ حال اس مجموعی زوال کی ایک نمایاں مثال تھی۔ شاہی حکومت سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی میں اسلامی اقدار سے بیگانہ اور ملت کی روح سے کٹی ہوئی تھی۔ ایسے ماحول میں یہ تصور ہی محال دکھائی دیتا تھا کہ کوئی عالمِ دین اقتدار کے ایوانوں کے مقابل قیادت کا عَلَم بلند کر سکے۔

امام خمینیؒ — فقیہ بھی، قائد بھی

امام خمینیؒ کی فکری عظمت کا بنیادی اور امتیازی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے نہ فقہ کو سیاست پر قربان کیا اور نہ سیاست کو فقہ سے جدا کیا، بلکہ جدید دور میں اس حقیقت کو دوبارہ زندہ کیا کہ: اسلام عبادات کا نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات کا دین ہے۔

ان کی تحریک کا نظریاتی ستون ولایتِ فقیہ تھا، جو خالص جعفری فقہی فکر سے پھوٹنے والا ایک مستند اور منظم نظریہ ہے۔

ان کے نزدیک اگر عصرِ غیبت میں معاشرہ الٰہی قیادت سے محروم چھوڑ دیا جائے تو لازماً طاغوتی قوتیں اس خلا کو پُر کر لیتی ہیں، اور یوں دین بتدریج اجتماعی زندگی سے بے دخل ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسی بنا پر امام خمینیؒ نے ولایتِ فقیہ کو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر نہیں بلکہ ایک شرعی، فقہی اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا۔ یہی نکتہ ان کے انقلاب کو محض عوامی تحریک کے درجے سے بلند کر کے ایک گہری فقہی و اعتقادی بنیاد عطا کرتا ہے۔

اصل انقلاب: انسان کے اندر

امام خمینیؒ نے نہ لشکر تیار کیے، نہ مسلح تنظیمیں قائم کیں اور نہ کسی عالمی طاقت سے سہارا لیا۔

انہوں نے درحقیقت ایک ہی بنیادی کام انجام دیا:

انہوں نے انسان کے باطن کو بیدار کر دیا۔

انہوں نے امت کو یہ شعور عطا کیا کہ ظلم کے خلاف کھڑا ہونا جرم نہیں بلکہ عینِ دینداری ہے، خاموشی تقویٰ نہیں بلکہ کمزوری اور بے حسی ہے اور سیاست بذاتِ خود ناپاک نہیں — ناپاک وہ سیاست ہے جو الٰہی اقدار سے خالی ہو۔

یوں انقلاب سے پہلے حقیقی تبدیلی سڑکوں پر نہیں بلکہ ضمیر کے اندر وقوع پذیر ہوئی۔

کربلا — فکری بنیاد

امام خمینیؒ کی تحریک کا سب سے توانا اور گہرا سرچشمہ واقعۂ کربلا تھا۔

لیکن کربلا ان کے نزدیک محض مجلس، مرثیہ اور اشک کا عنوان نہیں تھی، بلکہ ایک زندہ اور دائمی معیارِ حق و باطل تھی۔

امام حسینؑ کا قیام ان کے نزدیک ہر دور کے یزید کے خلاف ایک دائمی اور ہمہ گیر اعلان تھا۔

اسی لیے انقلابِ اسلامی ایران میں کربلا ایک عملی اور سیاسی علامت کے طور پر ابھری اور تشیّع ایک تاریخی یادگار کے بجائے ایک زندہ، متحرک اور مزاحمتی مکتب کی صورت میں سامنے آیا۔

اُمت کی عالمی بیداری

یہ انقلاب کسی ایک سرزمین یا ایک قوم تک محدود نہ رہا۔

فلسطین سے لبنان تک، عراق سے بحرین اور یمن تک، اور برصغیر سے افریقہ تک یہ شعور پھیل گیا کہ مسلمان اگر بیدار ہو جائیں تو وہ محض مظلوم قوم نہیں رہتے، بلکہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دینے والی قوت بن سکتے ہیں۔

امام خمینیؒ نے مستضعفینِ جہان کو پہلی مرتبہ یہ اعتماد عطا کیا کہ وہ کمزور طبقہ نہیں بلکہ زمین کے حقیقی وارث ہیں۔

فقہِ جعفری کی عصری تجدید

امام خمینیؒ نے فقہِ جعفری کو کسی نئے سانچے میں ڈھالنے کے بجائے اس کی اجتہادی روح کو زندہ کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ فقہ محض انفرادی عبادات اور شخصی معاملات کا مجموعہ نہیں بلکہ جدید ریاست، معیشت اور عالمی سیاست جیسے پیچیدہ مسائل کا بھی جواب رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے — بشرطیکہ فقہ کو کتابوں کی محدود فضا سے نکال کر سماج کی عملی زندگی سے جوڑا جائے۔

تسلسلِ قیادت — انقلاب کی بقا کا مرحلہ

۱۹۸۹ء میں امام خمینیؒ کی رحلت کے بعد جمہوریۂ اسلامی ایران ایک نہایت نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب صرف ایک ریاستی نظام نہیں بلکہ پوری فکری اور انقلابی تحریک کے مستقبل کا سوال درپیش تھا۔

ایسے تاریخی موڑ پر مجلسِ خبرگانِ رہبری نے امت کی رہنمائی اور نظامِ ولایت کے تحفظ کے لیے متفقہ طور پر حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی)کو جمہوریۂ اسلامی ایران کا رہبر منتخب کیا۔

یہ انتخاب محض ایک انتظامی یا سیاسی فیصلہ نہیں تھا بلکہ امام خمینیؒ کے فکری، فقہی اور اعتقادی مشن کو محفوظ اور بااعتماد ہاتھوں میں سونپنے کا واضح اعلان تھا۔

رہبرِ معظم اور انقلاب کا تحفظ

رہبرِ معظم انقلاب نے اپنی حکیمانہ بصیرت، عمیق سیاسی آگہی اور غیر متزلزل استقامت کے ذریعے نہ صرف انقلابِ اسلامی کو داخلی انتشار اور بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھا، بلکہ عالمی استکبار اور اسلام دشمن قوتوں کی مسلسل سازشوں کو ناکام بنا کر اس انقلاب کو استحکام، وقار اور خود اعتمادی کے نئے مراحل تک پہنچایا۔

ان کی قیادت نے دنیا کو ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ امام خمینیؒ کے بعد انقلاب کسی فکری خلا یا قیادتی کمزوری کا شکار ہو سکتا ہے۔

آج کا انقلاب — امید کی علامت

آج ایران کا اسلامی انقلاب محض ایک قومی سیاسی نظام نہیں بلکہ دنیا بھر کی مظلوم اور محکوم قوموں کے لیے امید، مزاحمت اور خودداری کی روشن علامت بن چکا ہے۔

دنیا کے مختلف خطّوں میں بسنے والے مظلوم انسان اپنے دینی تشخص، سماجی وقار اور عزّتِ نفس سے وابستہ مسائل میں نگاہِ امید رہبرِ معظم انقلاب کی طرف اٹھائے ہوئے ہیں۔

یہی دراصل امام خمینیؒ کے فکری انقلاب کا حقیقی تسلسل ہے — جو قیادت کی صورت بدلنے کے باوجود اپنے مقصد، سمت اور روح میں پوری طرح زندہ ہے۔

اگر امام خمینیؒ نے اُمت کو یہ شعور عطا کیا کہ اسلام مظلوم کی تسلی کا نام نہیں بلکہ ظالم کے مقابل قیام کا نام ہے تو رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے اسی شعور کو زمانے کی پیچیدہ عالمی سیاست اور ہمہ گیر دباؤ کے ماحول میں محفوظ رکھ کر اسے عملی استحکام عطا کیا۔

اسی لیے انقلابِ اسلامی ایران کی اصل کامیابی نہ صرف شاہی نظام کے خاتمے میں ہے اور نہ محض ایک اسلامی حکومت کے قیام میں، بلکہ اس مسلسل فکری بیداری میں ہے جو آج بھی اُمتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

آخر میں بارگاہِ خداوندِ متعال میں دعا ہے کہ وہ رہبرِ معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی)،تمام علمائے کرام، مراجعِ عظام اور خدمت گزارانِ اسلام کو صحت، سلامتی، عزّت اور دوامِ توفیق عطا فرمائے اور ہماری نئی نسل کو اسی راستے پر ثابت قدم رکھے جو راستہ امام خمینیؒ نے امت کے لیے روشن کیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha