تحریر: سید عمار حیدر زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی I انقلابِ اسلامی ایران کی سالگرہ محض ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی واقعہ ہے جس نے دین، سیاست اور معاشرت کے تعلق کو نئے سرے سے موضوعِ بحث بنا دیا۔ شیعہ مکتبِ فکر میں عدلِ الٰہی اصولِ دین میں شمار ہوتا ہے، مگر طویل عرصے تک اسے زیادہ تر ایک اعتقادی اور کلامی مسئلہ سمجھا جاتا رہا۔
22 بہمن 1979ء کو کامیاب ہونے والا انقلاب اس سوال کا عملی جواب بن کر سامنے آیا کہ آیا عدلِ الٰہی صرف ایک نظری عقیدہ ہے یا اجتماعی اور سیاسی سطح پر بھی اس کی کوئی صورت ممکن ہے۔
قرآن کریم انبیاء کی بعثت کا ہدف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: “لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ” — تاکہ لوگ عدل قائم کریں۔ اس آیت میں عدل کو محض انفرادی اخلاق تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے ایک اجتماعی قیام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے امام خمینیؒ نے اپنی تحریک کی فکری بنیاد بنایا۔ ان کے نزدیک اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اور اگر ظلم ایک اجتماعی ساخت رکھتا ہے تو عدل بھی اجتماعی نظام کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا۔
انقلاب سے قبل ایران میں شاہی نظام سیاسی آمریت، مغربی طاقتوں پر انحصار اور طبقاتی تفاوت کا مظہر تھا۔ ایسے ماحول میں “استقلال، آزادی، جمهوری اسلامی” کا نعرہ دراصل عدل کے تین پہلوؤں کا اعلان تھا: سیاسی خودمختاری، انسانی کرامت کی بحالی اور قانونِ الٰہی کی بالادستی۔ یہ محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری انتقال تھا جس میں حاکمیت کو عوامی خواہشات سے بلند ہو کر الٰہی اصولوں کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی۔
عصرِ غیبت میں حکومتِ دینی کے امکان پر ہمیشہ سوال اٹھتا رہا ہے۔ شیعہ فقہ میں نظریۂ ولایتِ فقیہ اسی خلاء کو پُر کرنے کی ایک علمی و عملی صورت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس تصور کے مطابق حکومت تقدس کا دعویٰ نہیں کرتی بلکہ خود کو شریعت اور عدل کے اصولوں کا جواب دہ سمجھتی ہے۔ اس طرح اقتدار کو شخصی خواہشات کے بجائے دینی ذمہ داری کے تابع کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ ظلم کی راہ مسدود ہو اور قانون کی حکمرانی قائم رہے۔
انقلابِ اسلامی نے عدل کے تصور کو قومی حدود سے نکال کر عالمی سطح تک بھی وسعت دی۔ قرآن کا وعدہ ہے: “وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ” — ہم چاہتے ہیں کہ زمین کے مستضعفین پر احسان کریں۔ فلسطین اور دیگر مظلوم اقوام کی حمایت، استکباری نظام کے خلاف مزاحمتی موقف، اور خودمختار خارجہ پالیسی اسی قرآنی فکر کی عملی جھلک کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ اس پہلو نے انقلاب کو محض ایک قومی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نظریاتی مکتب میں تبدیل کر دیا۔
البتہ علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ انقلاب کو عدلِ مطلق کا مصداق قرار نہ دیا جائے۔ کامل اور بے خطا عدل صرف معصوم قیادت کے تحت ہی ممکن ہے۔ انسانی معاشرے میں چیلنجز، کمزوریاں اور عملی مشکلات ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ اس لیے انقلابِ اسلامی کو ایک مسلسل جدوجہد کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے — ایک ایسا عمل جو عدل کے قیام کی سمت پیش قدمی ہے، نہ کہ اس کا آخری مرحلہ۔
اس تناظر میں 22 بہمن کو ایک سیاسی واقعہ سے زیادہ ایک فکری موڑ کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ اس دن نے یہ ثابت کیا کہ دین جدید دنیا میں بھی اجتماعی نظم کی تشکیل کر سکتا ہے اور عدلِ الٰہی صرف فلسفیانہ بحث نہیں بلکہ تاریخ ساز قوت بن سکتا ہے۔ آج بھی اصل سوال یہی ہے کہ آیا معاشرے عدل کو صرف ایک اخلاقی نصیحت سمجھیں گے یا اسے اجتماعی نظام کی بنیاد بنانے کی جرات کریں گے۔ انقلابِ اسلامی ایران اسی جرات کی ایک نمایاں مثال کے طور پر تاریخ میں ثبت ہو چکا ہے۔









آپ کا تبصرہ