تحریر:مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی| امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کا زخم ابھی آپ کے فرزند ارجمند امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے دلِ پُرغم میں تازہ تھا، اور ان کے شیعوں پر بھی سوگ کی چادر تنی ہوئی تھی۔ مدینہ منورہ اپنے امامِ برحق، حضرت صادقِ آلِ محمد علیہ السلام کی جدائی کے غم میں یوں ڈوبا ہوا تھا کہ گویا آسمان بھی شرمندہ تھا، اور سورج، چاند اور ستارے بھی اپنی ضیاء بکھیرنے سے قاصر محسوس ہوتے تھے۔
25 شوال سے لے کر 11 ذی القعدہ (148 ہجری) تک، کسی کے چہرے پر مسکراہٹ کے آثار نہ تھے۔ ہر طرف غم و اندوہ کی فضا چھائی ہوئی تھی۔
پھر 11 ذی القعدہ کا وہ مبارک دن آیا، جب گویا آفتاب نے ایک نئی شان کے ساتھ طلوع کیا اور مدینہ منورہ اس نورِ سعادت سے منور ہوگیا۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے گھر میں ایک عظیم الشان ولادت کی خبر نے فضا کو خوشیوں سے بھر دیا۔
یہ وہ فرزند تھے جن کا نام "علی" رکھا گیا، جو بعد میں دلوں کے سکون اور عالمِ انسانیت کے لئے رحمت و برکت کا سرچشمہ بنے۔ یہ ولادت گویا کائنات کے رنجیدہ دل کے لئے مرہم ثابت ہوئی۔
حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت تمام محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے لئے دلوں کی مسرت اور ایمان کی تازگی کا پیغام ہے۔
بشارت نبوی و میلاد رضوی
روایت میں ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی زوجہ مکرمہ اور امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت حمیدہ سلام اللہ علیہا نے ایک رات خواب میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ نے ان سے فرمایا کہ نجمہ کی شادی اپنے فرزند موسیٰ علیہ السلام سے کر دو، کیونکہ اس سے ایک ایسا فرزند متولد ہوگا جو روئے زمین کے بہترین انسانوں میں سے ہوگا۔ اسی بشارت کے تحت حضرت حمیدہ سلام اللہ علیہا نے حضرت نجمہ سلام اللہ علیہا کو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی زوجیت میں دے دیا۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے بھی روایت منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: میرے جد اور والد نے مجھ سے خواب میں فرمایا: "اے موسیٰ! اس کنیز سے تمہارے بعد روئے زمین کا بہترین انسان پیدا ہوگا، اس کا نام 'علی' رکھنا، کیونکہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ عدل، رحمت اور مہربانی کو ظاہر فرمائے گا۔ خوش نصیب ہے وہ جو اس کی تصدیق کرے اور ہلاکت ہے اس کے لئے جو اس کا انکار کرے اور دشمنی رکھے۔"
امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت، امام صادق علیہ السلام کی آرزو
امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت، امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے چند ہی دن بعد ہوئی، اور یہ وہ وقت تھا جب امام صادق علیہ السلام دل کی گہرائیوں سے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے فرزند کو دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: میں نے اپنے والد جعفر بن محمد علیہ السلام سے بارہا سنا کہ وہ فرماتے تھے: "عالمِ آلِ محمدؐ تم سے ہوگا، کاش میں اسے پا لیتا۔ وہ میرے جد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا ہم نام ہوگا۔" ایک اور روایت میں ہے کہ امام صادق علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: "اللہ تعالیٰ اس امت کا فریادرس اور مددگار میرے فرزند موسیٰ علیہ السلام کی نسل سے ظاہر فرمائے گا۔"
حضرت امام رضا علیہ السلام کی ولادت، والدہ کی زبانی
حضرت نجمہ خاتون سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں: جب میرے فرزند کی ولادت ہوئی تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے اور سر آسمان کی طرف بلند کیا۔ اس کے مبارک لب حرکت کر رہے تھے، وہ کلام فرما رہا تھا لیکن میں سمجھ نہ سکی۔ اسی لمحہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: "اے نجمہ! تمہیں اللہ کی کرامت مبارک ہو۔"
پھر میں نے نومولود کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر آپؑ کے سپرد کیا۔ امام علیہ السلام نے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور اسے آبِ فرات سے متبرک فرمایا۔ اس کے بعد آپؑ نے بچے کو مجھے واپس دیتے ہوئے فرمایا: "یہ بچہ میرے بعد زمین پر اللہ کی حجت ہے۔"
1. علم و دانش
اباصلت ہروی کہا کرتے تھے: میں نے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے زیادہ علم والا کوئی شخص نہیں دیکھا۔ اور ہر وہ عالم جس نے آپ کو دیکھا، اس نے بھی اسی بات کا اقرار کیا۔ مامون عباسی مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے علماء کو متعدد مجالس میں امام رضا علیہ السلام سے مناظرہ کے لئے جمع کرتا تھا، لیکن سب کے سب امام علیہ السلام کے علم کے سامنے عاجز اور مغلوب ہو جاتے تھے۔
2. ادب و اخلاق
امام علی رضا علیہ السلام کبھی بھی کسی کی بات درمیان میں نہ کاٹتے، اور نہ ہی کسی حاجت مند کی درخواست کو رد فرماتے۔ آپ کسی کے سامنے ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے اور نہ ہی اپنے پیر پھیلا کر بیٹھتے۔ آپ کی مسکراہٹ بھی محض تبسم تک محدود ہوتی تھی۔
آپ اپنے غلاموں کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک سے پیش آتے، انہیں ہرگز حقیر نہ سمجھتے، بلکہ ان کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا تناول فرماتے۔ آپ ایک بڑا پیالہ دسترخوان کے قریب رکھتے اور کھانے میں سے بہترین حصہ اس میں ڈال دیتے، پھر حکم دیتے کہ اسے محتاجوں میں تقسیم کر دیا جائے۔
3. عبادت و بندگی
امام علی رضا علیہ السلام راتوں کو بہت کم سوتے تھے۔ رات کے ابتدائی حصے سے صبح تک عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے۔ نمازِ فجر کے بعد سورج نکلنے تک ذکر و عبادت میں مصروف رہتے، اور طلوعِ آفتاب کے بعد سجدے میں چلے جاتے اور سورج کے بلند ہونے تک اسی حالت میں رہتے۔
آپ ہر تین دن میں ایک بار قرآنِ مجید ختم فرماتے، اور یہ تلاوت تدبر و غور کے ساتھ ہوتی تھی۔ آپ کثرت سے روزے رکھتے اور رات کی تاریکی میں صدقہ دیا کرتے تھے۔
آپ اپنے زمانے کے سب سے زیادہ عبادت گزار شخص تھے، لیکن اس کے باوجود عبادت کو صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں سمجھتے تھے۔ فرماتے تھے: “عبادت زیادہ نماز اور روزہ نہیں، بلکہ خدا کے امر میں گہری سوچ اور غور و فکر ہے۔”
امامت؛ امام علی رضا علیہ السلام کے نظر میں
امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام نے مرو کی جامع مسجد میں امامت، امام کے مقام و مرتبہ اور حجتِ خدا کی مختلف جہات کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ ان کے ارشادات میں سے چند جملے یہ ہیں: “امام اللہ تعالیٰ کی زمین پر اس کا امین ہوتا ہے، اس کے بندوں پر اس کی حجت، اس کے شہروں میں اس کا جانشین، اللہ کی طرف دعوت دینے والا اور اس کے دین کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ امام گناہوں سے پاک اور عیوب سے منزہ ہوتا ہے۔ وہ علم کے ساتھ مخصوص اور حلم و بردباری سے پہچانا جاتا ہے۔ امام دین کا نظام، مسلمانوں کی عزت، منافقوں کے لئے باعثِ غضب اور کافروں کے لئے تباہی ہے۔ وہ اپنے زمانے کا یکتا و بے مثال ہوتا ہے۔ کوئی اس کے برابر نہیں ہو سکتا، نہ کوئی عالم اس کے ہم پلہ ہو سکتا ہے۔ اس کا کوئی نظیر نہیں ہوتا۔ ہر فضیلت اسے عطا کی جاتی ہے، چاہے اس نے اسے طلب نہ بھی کیا ہو۔ یہ سب اللہ کی طرف سے اسے عطا ہوتا ہے۔”
امام رضا علیہ السلام کی زیارت کا ثواب
امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے چاہنے والوں کو ولایت کی طرف راغب کرنے اور امام معصوم کے بلند مقام سے آگاہ کرنے کے لئے اپنی زیارت کا ثواب یوں بیان فرمایا: “جو شخص میری زیارت کرے، اللہ پر حق ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی زیارت کروں۔ خدا کی قسم! جو بھی میرے شیعوں میں سے میری قبر کے پاس دو رکعت نماز ادا کرے، وہ مغفرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔”
ایک اور مقام پر آپؑ نے فرمایا: “جو شخص میری زیارت کرے، میں قیامت کے دن تین مقامات پر اس کے پاس آؤں گا تاکہ اسے قیامت کی سختیوں سے نجات دلواؤں: جب اعمال نامے دائیں اور بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے، جب پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ ہوگا، اور جب اعمال کو میزان میں تولا جائے گا۔”
معارف رضوی کے بحر ذخار کے چند گوہر
1. انسان کا دوست اس کی عقل ہے، اور اس کا دشمن اس کی نادانی ہے۔
2. جو شخص اللہ کی کم روزی پر راضی ہو جائے، اللہ اس کے کم عمل پر راضی ہو جاتا ہے۔
3. خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔
4. لوگوں کے ساتھ مہربانی کرنا آدھی عقل ہے۔
5. مومن میں تین خصلتیں ہونی چاہییں: اللہ کی سنت: راز داری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی سنت: لوگوں کے ساتھ نرمی اور امام کی سنت: سختیوں اور آزمائشوں میں استقامت و پائیداری
سلام ہو اس امامِ نور پر، جس کی بارگاہ آج بھی دلوں کے اندھیروں کو چاک کرتی ہے،
سلام ہو اس شمسُ الشموس پر، جس کی ضیاء سے زمانے کے زخموں کو مرہم ملتا ہے۔
اے علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام! آپ کا حرم آج بھی غربتِ دل کا سب سے بڑا سہارا ہے، آپ کا نام آج بھی فتنوں کے طوفان میں سکون کی آخری پناہ ہے۔
آج کا انسان ایک بار پھر آزمائشوں کے حصار میں ہے؛
کہیں ظلم کی سیاست ہے، کہیں طاقت کی کشمکش،
اور کہیں امتِ مسلمہ خود اپنے ہی زخموں پر بے حسی اور مفاد پرستی کی چادر ڈالے کھڑی ہے۔
خطۂ اسلام اضطراب میں ہے، دل بکھرے ہوئے ہیں، اور امت کی وحدت سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
اے امامِ غریب الغرباء!
آپ کی تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق ہمیشہ علم، عدل اور بصیرت کے ساتھ قائم رہتا ہے،
اور ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور ہو، آخرکار زوال اس کا مقدر ہوتا ہے۔
دنیا کی بڑی طاقتوں کی کشمکش، پابندیوں کا دباؤ، اور سیاسی مفادات کی جنگیں
انسانیت کو پھر اسی مقام پر لے آئی ہیں جہاں سچائی کو پہچاننا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ اور افسوس کہ بعض اوقات وہ امت جسے وحدت، اخوت اور رحم دلی کا علمبردار ہونا چاہیے، وہی اپنی داخلی کمزوریوں، اختلافات اور سیاسی مصلحتوں میں الجھ کر اپنے ہی زخموں پر مرہم رکھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔
لیکن اے امامِ رضا علیہ السلام!
ہمیں آپ کے در سے امید ملتی ہے کہ روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی، اگر دلوں میں اخلاص باقی رہے تو تاریک ترین زمانے بھی بدل سکتے ہیں۔
آپ کا پیغام آج بھی یہی ہے کہ علم، حلم، عدل اور خدا کی طرف رجوع۔
سلام ہو آپ پر، اے امامِ ہدایت!
سلام ہو آپ پر، اے مظلوموں کے سہارا!
اور سلام ہو آپ کے اس در پر جو آج بھی اہلِ درد کے لئے پناہ گاہِ سکون ہے۔









آپ کا تبصرہ